اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی حکومت کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کے پہلے پانچ گھنٹوں کے دوران ووٹ ڈالنے والوں کی شرح 31 فیصد سے تجاوز کر گئی۔ الجزیرہ کو ایک سرکاری عہدیدار نے بتایا کہ اس وقت تک ریکارڈ کی گئی یہ شرح 1977 کے انتخابات کے بعد سے اب تک کی بلند ترین شرح ہے۔
مقبوضہ فلسطین میں موجود تھنک ٹینک چیٹم ہاؤس کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام سے وابستہ سینئر مشیر اور محقق یوسی میکلبرگ نے ووٹنگ میں ابتدائی طور پر سامنے آنے والی تیزی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بڑی تعداد میں نوجوان بھی انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔
میکلبرگ کے مطابق، ووٹ ڈالنے والوں کی بڑی تعداد اس رجحان کی علامت ہو سکتی ہے جسے ’’بی بی سے بیزاری‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس اصطلاح سے مراد معاشرے کے ایک حصے کی وہ تھکن اور بے زاری ہے جو بنیامین نتن یاہو کے مسلسل اقتدار میں رہنے کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
اس ماہر کا تجزیہ ہے کہ اس صورت حال کے نتیجے میں نتن یاہو کے مقابلے میں بائیں بازو کی جماعتوں اور ان سے بھی زیادہ سخت گیر دائیں بازو کی جماعتوں کے ووٹوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ تاہم، ابھی یہ واضح نہیں کہ اس رجحان کے انتخابات کے حتمی نتائج پر کتنے اثرات مرتب ہوں گے۔
میکلبرگ نے موجودہ انتخابات کو حالیہ برسوں کے اہم ترین سیاسی مقابلوں میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ ممکن ہے یہ انتخابات صیہونی حکومت کے دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانے کا موقع فراہم کریں۔
قابل ذکر ہے کہ مقبوضہ فلسطین میں انتخابی جائزوں کے مطابق، بنیامین نتن یاہو کی مخالف جماعتوں کا اتحاد 56 نشستیں حاصل کرکے ان کی جماعت لیکوڈ کی 50 نشستوں کے مقابلے میں برتری حاصل کر سکتا ہے۔ تاہم، دستیاب اعداد و شمار کے مطابق، دونوں میں سے کوئی بھی اتحاد حکومت بنانے کے لیے درکار 61 نشستوں کی اکثریت حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
آپ کا تبصرہ