26 اکتوبر 2026 - 16:28
مہنگا تیل امریکی عوام کے لیے پٹرول سے گھر کی قسط تک ہر چیز مہنگی کر رہا ہے

امریکہ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات صرف پٹرول تک محدود نہیں رہے بلکہ مال برداری، خوراک، گھروں کو گرم رکھنے کے اخراجات اور مہنگائی سے ہوتے ہوئے رہائشی قرضوں کی ماہانہ قسطوں تک پہنچ گئے ہیں۔ اس صورت حال سے کم آمدنی والے خاندانوں پر زیادہ مالی دباؤ پڑ رہا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکہ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات اب صرف پٹرول پمپوں تک محدود نہیں رہے۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت تقریباً 117 ڈالر فی بیرل تک پہنچنے کے بعد اس کے اثرات خوراک کی قیمتوں، گھروں کو گرم رکھنے کے اخراجات اور اشیا کی پیکنگ کی لاگت تک پھیل گئے ہیں۔ بعض صورتوں میں اس کے اثرات رہائشی قرضوں کی ماہانہ قسطوں پر بھی پڑ رہے ہیں۔

خام تیل برینٹ کی قیمت جمعے کے روز 116.72 ڈالر فی بیرل پر بند ہوئی، جو ایک دن میں 3.1 فیصد اضافے کے برابر ہے۔ 29 اپریل کے بعد یہ اس کی بلند ترین اختتامی قیمت تھی۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق، یمن کی مسلح افواج کے سعودی عرب کی تنصیبات پر حملوں کے بعد تیل کی رسد میں مزید خلل پڑنے کے خدشات بڑھ گئے۔ ہفتے بھر میں خام تیل کی قیمت میں تقریباً 6 فیصد اضافہ ہوا۔

رائٹرز نے اپنی ایک تازہ رپورٹ میں بتایا ہے کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر پہلے ایندھن، پھر نقل و حمل، خوراک اور دیگر اشیا کی قیمتوں، اس کے بعد مہنگائی اور بالآخر شرح سود تک پہنچتا ہے۔

پہلا مرحلہ: پٹرول پمپ

امریکہ میں 19 اکتوبر کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران عام پٹرول کی اوسط قیمت 4.28 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ امریکی ادارۂ اطلاعاتِ توانائی کے مطابق، یہ قیمت ایک سال پہلے کے مقابلے میں 1.27 ڈالر، یعنی تقریباً 42 فیصد زیادہ ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ اس سے بھی زیادہ رہا۔ اس کی قیمت بڑھ کر 6.28 ڈالر فی گیلن ہو گئی، جبکہ ایک سال پہلے یہ 3.62 ڈالر تھی۔ اس طرح ڈیزل کی قیمت میں تقریباً 73 فیصد اضافہ ہوا۔

رائٹرز کے مطابق، اس صورت حال کے باعث امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے رواں سال کے اختتام تک ملک کے تمام صارفین کو ریڈ ڈیزل خریدنے کی اجازت دے دی۔ یہ ایندھن عام طور پر زرعی مشینری اور ایسی گاڑیوں و آلات میں استعمال ہوتا ہے جو عوامی سڑکوں پر نہیں چلتے۔ اسے سڑکوں کے استعمال پر عائد ٹیکس کے بغیر فروخت کیا جاتا ہے۔

ڈیزل کی قیمت میں اضافے سے صرف گاڑی چلانے والے متاثر نہیں ہوتے بلکہ خوراک اور سامان لے جانے والے ٹرک، زرعی ٹریکٹر اور تعمیراتی مشینری بھی اس ایندھن پر انحصار کرتی ہیں۔ چنانچہ ڈیزل مہنگا ہونے سے اشیا کی قیمتوں میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا ہے، یہاں تک کہ وہ صارفین تک پہنچتی ہیں۔

دوسرا مرحلہ: دکانوں میں اشیا کی قیمتیں

تیل دو طریقوں سے اشیا کی قیمتوں پر اثر انداز ہوتا ہے۔ پہلا طریقہ نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہے، جبکہ دوسرا تیل سے تیار ہونے والے خام مال کی قیمتوں میں بڑھوتری ہے۔

پلاسٹک کی زیادہ تر اقسام تیل یا قدرتی گیس سے تیار کی جاتی ہیں۔ رائٹرز کے حوالے سے مشاورتی کمپنی میٹ (MAT) کے اندازے کے مطابق، خوراک کی کسی مصنوعات کی تیاری کی مجموعی لاگت میں پیکنگ کا حصہ 5 سے 15 فیصد تک ہوتا ہے۔

تیل اور توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات زرعی شعبے تک بھی پہنچتے ہیں۔ کیمیائی کھادیں قدرتی گیس سے تیار کی جاتی ہیں۔ ان کی قیمتوں میں اضافے اور سمندری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث اقوام متحدہ کے ادارۂ خوراک و زراعت (ایف اے او) نے پیش گوئی کی ہے کہ دنیا بھر میں غذائی مہنگائی کی رفتار بڑھے گی اور یہ رجحان 2027ء تک جاری رہ سکتا ہے۔

اس طرح تیل کی قیمتوں میں اضافہ صرف مصنوعات کو دکانوں تک پہنچانے کا خرچ نہیں بڑھاتا بلکہ ان کی تیاری، پیکنگ اور فروخت کی لاگت میں بھی اضافہ کرتا ہے۔

تیسرا مرحلہ: گھریلو اخراجات

سردیوں کی آمد کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات گھروں کو گرم رکھنے کے اخراجات پر بھی پڑنے لگے ہیں۔

امریکی ادارۂ اطلاعاتِ توانائی کی پیش گوئی کے مطابق، رواں موسمِ سرما میں امریکہ میں ہیٹنگ آئل کی قیمت 34 فیصد بڑھ کر 5.26 ڈالر فی گیلن ہو سکتی ہے۔ اس ایندھن پر انحصار کرنے والے خاندانوں کے اخراجات میں 21 فیصد اضافے کا امکان ہے، جس کے بعد ایک موسمِ سرما کے دوران اوسط خرچ تقریباً 2,115 ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔

امریکہ میں ہیٹنگ آئل کا استعمال زیادہ تر شمال مشرقی ریاستوں میں ہوتا ہے۔ امریکی ادارۂ اطلاعاتِ توانائی کے اعداد و شمار سے اخذ کردہ اندازوں کے مطابق، ان علاقوں کے تقریباً 15 فیصد خاندان گھروں کو گرم رکھنے کے لیے بنیادی طور پر یہی ایندھن استعمال کرتے ہیں۔

نیشنل انرجی اسسٹنس ڈائریکٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، امریکی ریاست نیویارک میں گھروں کو گرم رکھنے کے بل گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 47 فیصد بڑھ سکتے ہیں۔

اس کے برعکس، امریکی ادارۂ اطلاعاتِ توانائی نے پیش گوئی کی ہے کہ قدرتی گیس استعمال کرنے والے خاندانوں کے اخراجات میں 9 فیصد کمی آ سکتی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ توانائی کی قیمتوں میں اضافے کا مالی بوجھ اس بات پر بھی منحصر ہے کہ کوئی خاندان گھر گرم رکھنے کے لیے کون سا ایندھن استعمال کرتا ہے۔

چوتھا مرحلہ: مہنگائی میں اضافہ

جب ایندھن، نقل و حمل اور خوراک کی قیمتیں بیک وقت بڑھتی ہیں تو اس کے اثرات مہنگائی کے اعداد و شمار میں بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔

رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق، امریکہ میں ستمبر کے دوران سالانہ مہنگائی کی شرح 3.7 فیصد تک پہنچ گئی۔ اس مہینے صارفین کی قیمتوں میں ہونے والے مجموعی اضافے میں نصف سے زیادہ حصہ پٹرول کی قیمتوں میں بڑھوتری کا تھا۔

اس صورت حال نے امریکی مرکزی بینک، فیڈرل ریزرو، کے لیے بھی مشکلات پیدا کر دی ہیں۔ اس نے ستمبر میں شرح سود بڑھا کر 3.75 سے 4 فیصد کی حد تک پہنچا دی تھی۔

سان فرانسسکو فیڈرل ریزرو کی سربراہ میری ڈیلی نے اکتوبر کے وسط میں کہا کہ شرح سود میں مزید اضافہ ضروری ہو سکتا ہے، تاہم اس وقت ان کے خیال میں اسی ماہ ہونے والے اجلاس میں فوری اقدام کی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے یہ بھی نشاندہی کی کہ عمومی مہنگائی میں اضافے کی بنیادی وجوہات میں پٹرول کی قیمتیں شامل ہیں۔

ایسی صورت حال میں پالیسی سازوں کو اس مشکل کا سامنا ہے کہ توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مہنگائی کو بلند سطح پر برقرار رکھ سکتی ہیں، جس کے نتیجے میں شرح سود کو بلند رکھنے یا اس میں مزید اضافے کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

آخری مرحلہ: گھر کے قرض کی قسط

تیل کی قیمتوں میں اضافے کا اثر بالآخر ایسے شعبے تک پہنچ جاتا ہے جس کا اس سے بظاہر براہِ راست کوئی تعلق دکھائی نہیں دیتا، یعنی گھر خریدنے کے لیے حاصل کیے گئے قرض کی ماہانہ قسط۔

فریڈی میک (Freddie Mac) کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ میں 30 سالہ مقررہ شرح سود والے رہائشی قرضوں پر اوسط شرح 22 اکتوبر کو 7.32 فیصد تک پہنچ گئی، جبکہ تقریباً ایک سال پہلے یہ 6.27 فیصد تھی۔

سادہ حساب کے مطابق، شرح سود میں اس فرق کے باعث 3 لاکھ ڈالر کے رہائشی قرض کی ماہانہ قسط، ٹیکس اور انشورنس کے اخراجات شامل کیے بغیر، تقریباً 1,851 ڈالر سے بڑھ کر 2,061 ڈالر ہو جاتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ قرض لینے والے کو ہر ماہ تقریباً 210 ڈالر اضافی ادا کرنا پڑ سکتے ہیں، جو ایک سال میں 2,500 ڈالر سے زیادہ بنتے ہیں۔

مالیاتی اخراجات میں اضافے نے امریکہ کی رہائشی تعمیرات کی صنعت کو بھی متاثر کیا ہے۔ نیشنل ایسوسی ایشن آف ہوم بلڈرز اور ویلز فارگو کے جاری کردہ ہاؤسنگ بلڈرز اعتماد اشاریے میں اکتوبر کے دوران کمی ریکارڈ کی گئی۔ یہ اشاریہ ستمبر کے 32 پوائنٹس سے گر کر 29 پوائنٹس پر آ گیا، جو 2012ء کے بعد اس کی کم ترین سطح ہے۔

مہنگائی کا بوجھ تمام خاندانوں پر یکساں نہیں

امریکہ کے تمام خاندان توانائی اور اشیائے ضروریہ کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے یکساں طور پر متاثر نہیں ہوتے۔ کم آمدنی والے خاندان اپنی آمدنی کا زیادہ حصہ ایندھن، خوراک اور گھروں کو گرم رکھنے پر خرچ کرتے ہیں، اس لیے قیمتوں میں اضافے کا اثر ان پر زیادہ تیزی اور شدت سے پڑتا ہے۔

امریکہ کے مختلف علاقوں میں بھی اس دباؤ کی نوعیت مختلف ہے۔ گاڑیوں پر زیادہ انحصار کرنے والی ریاستوں کے باشندے پٹرول پمپوں پر بڑھتے ہوئے اخراجات سے متاثر ہوتے ہیں، شمال مشرقی علاقوں میں رہنے والوں کو گھروں کی ہیٹنگ مہنگی پڑتی ہے، جبکہ نئے گھر خریدنے والوں کو زیادہ شرح سود کے باعث اضافی مالی بوجھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔

یہ صورت حال 3 نومبر کو ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے سیاسی اہمیت بھی اختیار کر گئی ہے۔ رائٹرز کے مطابق، ہیٹنگ آئل کی قیمتوں میں اضافہ شمال مشرقی امریکی ریاستوں میں سینیٹ کے انتخابات میں حصہ لینے والے ریپبلکن امیدواروں کے لیے ایک مشکل بن گیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب سردیاں قریب آ رہی ہیں۔

یہ تمام صورت حال ظاہر کرتی ہے کہ تیل کی قیمت صرف عالمی منڈی میں درج ہونے والا ایک عدد نہیں۔ اس کا سفر تیل بردار جہاز اور ریفائنری سے شروع ہوتا ہے، پھر ٹرک، کارخانے اور دکانوں تک پہنچتا ہے اور بالآخر اس بینک تک جا سکتا ہے جو گھر کے قرض کی ماہانہ قسط کا تعین کرتا ہے۔

لہٰذا، توانائی کا بحران جتنا طویل ہوگا، سوال صرف یہ نہیں رہے گا کہ ایک بیرل تیل کتنے ڈالر کا ہے، بلکہ یہ بھی اہم ہوگا کہ اس اضافے نے امریکی خاندانوں کے بجٹ کے کتنے حصوں کو متاثر کیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha