22 اکتوبر 2026 - 16:59
ٹرمپ کے بااثر ارب پتی حامی کا اعتراف: ایران پر حملہ کرنا غلطی تھی

امریکی ارب پتی سرمایہ کار اور ڈونلڈ ٹرمپ کے دیرینہ حامی پیٹر تھیل نے ایران کے خلاف امریکی جنگ پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ جنگ شروع ہی نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ان کے مطابق، اس جنگ میں کئی غلطیاں ہوئیں اور ممکن ہے کہ امریکہ نہ صرف فوجی طاقت کے استعمال میں ناکام ہو رہا ہو بلکہ اپنی نرم طاقت کی جنگ بھی ہار رہا ہو۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار پولیٹیکو کی ویب سائٹ نے رپورٹ کیا ہے کہ ٹیکنالوجی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے ارب پتی سرمایہ کار پیٹر تھیل نے ایران کے خلاف امریکی جنگ پر شکوک و شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو یہ جنگ شروع نہیں کرنی چاہیے تھی۔ ان کا یہ مؤقف ریپبلکن پارٹی کے بڑے مالی معاون کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کے ایک بنیادی فیصلے کے مقابل لا کھڑا کرتا ہے۔

پیٹر تھیل نے 12 اکتوبر کو ایک نجی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے یہ باتیں کہیں۔ ان کی تقریر کی صوتی ریکارڈنگ پولیٹیکو کو موصول ہوئی تھی۔ یہ بیان ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے ان کا اب تک سامنے آنے والا سب سے واضح عوامی مؤقف قرار دیا گیا ہے۔ یہ بیان امریکی وسط مدتی انتخابات سے دو ہفتے سے بھی کم وقت پہلے سامنے آیا ہے، جن میں ٹرمپ کی جماعت کانگریس میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کے لیے سخت مقابلہ کر رہی ہے۔

پیٹر تھیل نے اپنے خطاب میں کہا، ’’مجھے اس جنگ کے بارے میں شدید تحفظات ہیں۔ میرا خیال ہے کہ ہمیں ایسا قدم نہیں اٹھانا چاہیے تھا۔ اس معاملے میں کئی غلطیاں ہوئیں۔‘‘

انہوں نے مزید کہا، ’’ممکن ہے کہ ہمارے پاس اس مقصد کے حصول کے لیے ضروری فوجی طاقت ہی نہ ہو اور شاید ہم نرم طاقت کی جنگ بھی ہار رہے ہیں۔‘‘

تھیل نے اپنے خطاب میں قدامت پسند جنگ پسند حلقوں اور مشرق وسطیٰ کی جنگوں کی سخت مخالفت کی۔ تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ ان کی تنقید ایران کے خلاف جنگ پر ہے، خود ڈونلڈ ٹرمپ پر نہیں۔ انہوں نے صدر کی حمایت جاری رکھنے کی خواہش بھی ظاہر کی۔

پولیٹیکو کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ پر تھیل کی کھلی مخالفت ٹرمپ کے قریبی حلقے میں اس تنازع کے نتائج کے بارے میں بڑھتی ہوئی گہری تشویش کی نمایاں علامتوں میں سے ایک ہے۔

یہ بیان نیش وِل میں پیٹر تھیل کے سلسلہ وار خطابات کا حصہ تھا، جن کی کوریج پولیٹیکو کے ’’ڈی کوڈڈ‘‘ شعبے نے رواں موسم خزاں سے جاری رکھی ہوئی ہے۔ اپنے تازہ خطاب میں تھیل نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کی مبینہ ’’بے لگام طاقت‘‘ کے بارے میں بھی تفصیل سے خبردار کیا۔ انہوں نے سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کی حکومت کی اہم شخصیات، جن میں سابق وزیر دفاع ڈونلڈ رمزفیلڈ اور اس وقت کے نائب صدر ڈک چینی شامل ہیں، کے بیانات کا حوالہ بھی دیا۔

تھیل نے کہا، ’’چینی خاندان میں ٹرمپ سے شدید مخالفت کے رجحان کو میں بین الاقوامی فوجداری عدالت کو خوش کرنے اور اس کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش سمجھتا ہوں، تاکہ قانونی کارروائی سے محفوظ رہا جا سکے، اگرچہ شاید اب بہت دیر ہو چکی ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا یہ خیال مضبوط ہوتا جا رہا ہے کہ بین الاقوامی فوجداری عدالت کی جانب سے گرفتاری کے وارنٹ جاری کرنے کی دھمکی، تلوارِ دیموکلیز کی طرح ٹرمپ حکومت کے سر پر لٹک رہی ہے، جبکہ وہ ایران کے خلاف جنگ آگے بڑھانے کی کوشش کر رہی ہے۔

پیٹر تھیل نے 2024 کے اوائل میں صیہونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو سے اپنی ملاقات کا ذکر بھی کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس ملاقات میں انہوں نے نیتن یاہو سے غزہ کے بارے میں ان کے منصوبوں کے متعلق سوال کیا تھا۔ تھیل کے مطابق، نیتن یاہو نے جواب دیا تھا، ’’میں غزہ کو ایک اور ڈریسڈن میں تبدیل نہیں کر سکتا۔‘‘

یہ دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی کے شہر ڈریسڈن پر اتحادی افواج کی بمباری کی جانب تاریخی اشارہ تھا، جس میں تقریباً 25 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

پیٹر تھیل سلیکان ویلی کے پہلے بڑے سرمایہ کار تھے جنہوں نے 2016 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارتی نامزدگی کی حمایت کی تھی۔ اسی سال انہوں نے ریپبلکن پارٹی کے قومی کنونشن میں ایک نمایاں اور خاصی شہرت حاصل کرنے والی تقریر بھی کی تھی۔

وہ ان سیاسی ایکشن کمیٹیوں، جنہیں ’’سپر پیک‘‘ کہا جاتا ہے، کے سب سے بڑے مالی معاون بھی تھے، جنہوں نے 2022 میں امریکہ کے موجودہ نائب صدر جے ڈی وینس کی سینیٹ میں انتخابی مہم کے اخراجات فراہم کیے تھے۔

پولیٹیکو نے اس سے قبل مارچ میں انکشاف کیا تھا کہ جے ڈی وینس بھی ایران کے خلاف جنگ شروع ہونے سے پہلے اس ملک کے ساتھ براہ راست فوجی تصادم میں امریکہ کی شمولیت کے بارے میں تذبذب کا شکار تھے۔

پیٹر تھیل کے نمائندوں اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے پولیٹیکو کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha