20 اکتوبر 2026 - 17:00
امریکی ریاست مشی گن میں مسلم امیدوار کے مذہبی پس منظر کو ریپبلکن جماعت کی جانب سے نشانہ بنانے کا سلسلہ تیز

امریکہ میں 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے دوران ریاست مشی گن میں سینیٹ کی نشست کے لیے مقابلہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ ڈیموکریٹ امیدوار عبدالرحمن محمد السید کے نومبر میں کامیاب ہونے کی صورت میں وہ امریکی تاریخ کے پہلے مسلمان سینیٹر بن سکتے ہیں، جبکہ ریپبلکن رہنما ان کے مذہبی پس منظر اور سیاسی وفاداری کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی نشریاتی ادارے سی این این نے رپورٹ کیا ہے کہ ریاست مشی گن میں امریکی سینیٹ کے انتخابات میں ڈیموکریٹ امیدوار عبدالرحمن محمد السید کے مسلمان ہونے کو بنیاد بنا کر ان پر ریپبلکن جماعت کے حملوں میں انتخابی مہم کے آخری ہفتوں کے دوران شدت آگئی ہے۔

ریپبلکن رہنما انہیں اخوان المسلمون یا اسلامی انتہا پسندی سے وابستہ گروہوں کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ السید ان الزامات کو اپنی امریکی سیاسی وفاداری پر سوال اٹھانے کی کوشش قرار دیتے ہیں۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعے کی شب انتخابی اجتماع میں السید کا نام طنزیہ انداز میں ’’محمد‘‘ ادا کیا اور دعویٰ کیا کہ ڈیموکریٹ امیدوار ایک ’’جہادی‘‘ ہیں۔ سی این این کے مطابق، ٹرمپ کی انتخابی تقریروں اور سماجی رابطوں کے ذرائع پر حالیہ دنوں میں اس نوعیت کے بیانات سامنے آتے رہے ہیں۔

دوسری جانب، السید کے ریپبلکن حریف مائیک راجرز نے کہا کہ انہوں نے کبھی السید کو دہشت گرد نہیں کہا اور نہ ہی وہ صدر کی طرف سے بات کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے السید پر اخوان المسلمون سے ہم آہنگی رکھنے کا الزام عائد کیا۔

السید: یہ کوئی نئی کوشش نہیں

السید نے ان حملوں کے ردعمل میں کہا کہ ریپبلکن رہنما ’’دوہری وفاداری‘‘ کا معاملہ اٹھا کر عوام کی توجہ ان مسائل سے ہٹانا چاہتے ہیں جو ان کی روزمرہ زندگی سے تعلق رکھتے ہیں۔

انہوں نے امریکہ کے کیتھولک صدر جان ایف کینیڈی اور باراک اوباما کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ امریکی سیاست میں اس نوعیت کے الزامات کی ایک طویل تاریخ ہے۔ اوباما کو بھی ان کے والد کے مسلمان ہونے کی وجہ سے اسی طرح کی بحثوں کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

السید نے شہر فلنٹ میں ایک انتخابی اجتماع کے بعد کہا: ’’یہ کوئی نئی بات نہیں ہے۔ جب ان کے پاس لوگوں کی حقیقی زندگی کے مسائل پر بات کرنے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تو وہ یہی کرتے ہیں۔‘‘

عوامی اجتماع میں اخوان المسلمون سے متعلق سوال

گزشتہ روز شہر کارو میں ایک عوامی نشست کے دوران ایک شخص نے بار بار السید سے اخوان المسلمون کے بارے میں ان کا مؤقف واضح کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس نے پوچھا: ’’عبد السید، کیا آپ اخوان المسلمون کو مسترد کرتے ہیں؟‘‘

السید نے اس تحریک سے اپنی مخالفت کا اظہار کیا، تاہم اپنے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان کی وفاداری پر سوال اٹھانے کی کوشش پر اعتراض کیا۔

انہوں نے کہا: ’’آپ یہ فرض کر لیتے ہیں کہ چونکہ میں مسلمان ہوں، اس لیے میری وفاداری اپنے آئین کے علاوہ کسی اور چیز سے ہے۔‘‘

انہوں نے مزید کہا: ’’میرے لیے آئین ہی رہنمائی کا چراغ ہے۔‘‘ ان کے جواب پر اجتماع میں موجود لوگوں نے تالیاں بجائیں، جبکہ سوال کرنے والا شخص وہاں سے چلا گیا۔

السید کا خاندانی پس منظر انتخابی حملوں کا موضوع بن گیا

سی این این کے مطابق، ریپبلکن رہنماؤں نے اپنے الزامات کو تقویت دینے کے لیے السید کے خاندانی پس منظر کو بھی انتخابی بحث کا حصہ بنایا ہے۔

ان کی سوتیلی بہن کی ایک پرانی سوشل میڈیا پوسٹ دوبارہ سامنے لائی گئی، جس میں ان کی والدہ کی جانب سے 1970 کی دہائی کے اوائل میں اخوان المسلمون کی سرگرمیوں میں حصہ لینے کا ذکر تھا۔ اس کے بعد یہ معاملہ ایک بار پھر انتخابی بحث کا موضوع بن گیا۔

السید کا کہنا ہے کہ انہیں مصر میں اس دور کے دوران اپنی والدہ کی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات نہیں ہیں، کیونکہ جب ان کے والدین الگ ہوئے تو ان کی عمر صرف تین سال تھی اور اس کے بعد انہوں نے کئی برس تک اپنی والدہ کو نہیں دیکھا۔ ان کی پرورش زیادہ تر مشی گن میں ان کے والد اور سوتیلی والدہ کے پاس ہوئی۔

راجرز نے 2012 میں مصر کے اس وقت کے صدر محمد مرسی کے لیے السید کی حمایت اور عرب ممالک میں جمہوریت کے حق میں ہونے والے مظاہروں کے بارے میں ان کے سابقہ مؤقف کا بھی حوالہ دیا۔

ایک ادارے کے خلاف الزامات سے لے کر رشتہ دار کے دہشت گردی کی فہرست میں نام تک

راجرز نے ایک مباحثے کے دوران السید کی والدہ کی ملازمت کا معاملہ بھی اٹھایا۔ ان کی والدہ ’’اسلامک ریلیف ایجنسی آف امریکہ‘‘ نامی غیر منافع بخش ادارے میں کام کرتی تھیں، جس پر امریکی محکمہ خزانہ نے 2004 میں دہشت گردی کی حمایت کا الزام لگایا تھا۔

راجرز نے دعویٰ کیا کہ اس ادارے کے خلاف القاعدہ کو رقم منتقل کرنے کے الزام میں کارروائی کی گئی تھی۔

جواب میں السید نے اپنے حریف کے طرزِ عمل کو اپنے سیاسی ریکارڈ سے توجہ ہٹانے کی کوشش قرار دیا۔ انہوں نے سیاست میں دولت کے اثر و رسوخ کو ختم کرنے، عوام کی قوتِ خرید بڑھانے اور سب کے لیے صحت کی سہولتوں پر مشتمل نظام نافذ کرنے کے اپنے منصوبوں پر زور دیا۔

راجرز نے السید کی اہلیہ کی بہن مریم جوکاکو کے معاملے کا بھی حوالہ دیا، جن کا نام امریکی وفاقی حکومت کے دہشت گردی کی جانچ پڑتال کے معلوماتی نظام میں شامل کیا گیا تھا۔ مریم جوکاکو نے 2016 میں ایک اجتماعی درخواست کے ذریعے اس اقدام کو چیلنج کیا تھا۔

السید کے مطابق، ان کی سالی نے کوئی غیر قانونی کام نہیں کیا تھا اور قانونی کارروائی کے بعد ان کا نام اس فہرست سے نکال دیا گیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ معاملہ ظاہر کرتا ہے کہ مختلف ناموں یا نگرانی کے نظام میں موجود خامیوں کی وجہ سے بعض افراد کو کسی جرم کے ثابت ہونے سے پہلے ہی الزامات اور شبہات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha