اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آذربائیجان کے وزیراعظم علی اسدوف کی جانب سے سرکاری اسکولوں میں لباس کے ضوابط میں ترمیم کے لیے قرارداد نمبر 309 پر دستخط کیے جانے کے تقریباً ایک ماہ بعد بھی ملک کے اندر اور بیرونِ ملک اس فیصلے پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے۔ اس معاملے نے خاص طور پر باکو کے تاریخی اتحادی ترکیہ کے ساتھ تعلقات کو متاثر کیا ہے۔
لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، قانون میں ترمیم کے ذریعے تیار کی گئی اس قرارداد میں قوم پرستی اور سیکولرازم کے دو اصول شامل کیے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ طلبہ ایسا لباس نہیں پہن سکتے جو اسکول کے یکساں لباس کے ضوابط کے خلاف ہو یا سرکاری تعلیم کے سیکولر تشخص سے متصادم ہو۔ اگرچہ قرارداد میں واضح طور پر حجاب کا ذکر نہیں کیا گیا، تاہم تعلیمی حلقوں اور مذہبی شخصیات نے اس کی تشریح سر ڈھانپنے پر پابندی کے طور پر کی ہے۔
اس فیصلے پر عمل درآمد شروع ہونے کے بعد شکایات درج کرائی گئیں اور ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں حجاب پہننے والی طالبات اور معلمات کو اسکولوں میں داخلے سے روکے جانے یا حجاب اتارنے تک تدریس جاری رکھنے کی اجازت نہ دیے جانے کے واقعات دکھائے گئے۔ آذربائیجان کی حکومت کی جانب سے بعد میں جاری ہونے والی ہدایات، جن میں رواں سال 6 اکتوبر کو اساتذہ کے لباس سے متعلق نئی قرارداد بھی شامل ہے، کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔ اس قرارداد میں تعلیمی نظام میں سیکولرازم کے اصول کے مطابق اساتذہ کے لباس پر زور دیا گیا ہے۔
نتیجتاً آذربائیجان میں یہ بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ اس ملک کی آبادی کی اکثریت مسلمان ہے، جبکہ اس کا آئین مذہب اور ریاست کو الگ رکھنے کے اصول پر زور دیتا اور مذہبی آزادی کو تسلیم کرتا ہے۔ اس فیصلے کے خلاف متعدد اسکولوں کے سامنے احتجاجی اجتماعات ہوئے، جہاں مظاہرین نے نعرے لگا کر حجاب پہننے والی طالبات اور معلمات کی حمایت کی۔ اطلاعات کے مطابق، اس فیصلے کی مخالفت کرنے والے 30 سے زائد کارکنوں کو ’’عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے‘‘ کے الزام میں گرفتار بھی کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والی نمایاں شخصیات میں آذربائیجان کے مذہبی رہنما آبجول سلیمانوف بھی شامل ہیں، جو گزشتہ ستمبر کے اواخر سے انتظامی حراست میں ہیں۔
ترکیہ کے اتحادی کے ساتھ تعلقات آزمائش میں
آذربائیجان کی قرارداد پر تنقید کے لیے ترکیہ کے حکام کی مداخلت نے دونوں ہمسایہ ممالک کے خصوصی تعلقات میں سیاسی کشیدگی پیدا کر دی ہے۔ ان دونوں ممالک کے تاریخی، نسلی اور مذہبی رشتوں کی عکاسی آذربائیجان کے سابق صدر حیدر علیاف کے اس نعرے سے ہوتی ہے: ’’دو ریاستیں، ایک قوم۔‘‘
ترکیہ کے صدر کے سینئر مشیر اوکتائے سارال نے گزشتہ پیر کو سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنے پیغام میں لکھا کہ حجاب پہننے والی طالبات کو تعلیم کے حق سے محروم کرنا ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ حجاب کوئی رکاوٹ نہیں بلکہ دینی عقیدے کا ایک تقاضا ہے، اور باکو سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد اس غلطی کی اصلاح کرے۔
سارال نے دونوں ممالک کے تعلقات خراب کرنے کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے ’’دو ریاستیں، ایک قوم‘‘ کے اصول سے وابستگی پر زور دیا اور آذربائیجان کے فیصلے پر تنقیدی مؤقف اختیار کیا۔
ترکیہ کی حکمراں جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے ترجمان عمر چلیک نے بھی ایک پریس کانفرنس میں حجاب کے معاملے پر آذربائیجان کے ساتھ اختلافات کی تصدیق کی۔ انہوں نے کہا کہ جب اس معاملے پر اختلاف رائے ہوتا ہے تو ہم اسے دیانت داری سے بیان کرتے ہیں اور اپنے راستے پر آگے بڑھتے ہیں۔
ترکیہ کی جانب سے باکو پر تنقید صرف حکومتی عہدیداروں تک محدود نہیں رہی بلکہ اس میں حزب اختلاف کی جماعتیں بھی شامل ہو گئیں، حتیٰ کہ وہ جماعتیں بھی جنہوں نے ماضی میں ترکیہ کے سرکاری اداروں میں حجاب پر پابندی کی حمایت کی تھی۔
مثال کے طور پر، ترکیہ کی ریپبلکن پیپلز پارٹی کے سربراہ کمال قلیچ دار اوغلو نے آذربائیجان کی قیادت سے کہا: ’’خواتین کو اپنی آزادی سے فائدہ اٹھانے دیں اور انہیں خود فیصلہ کرنے دیں کہ وہ کیا پہننا چاہتی ہیں۔‘‘
ایک اور پیش رفت میں ترکیہ کی وزارت خارجہ نے اعلان کیا کہ صدر رجب طیب اردوغان ایشیا میں باہمی روابط اور اعتماد سازی کے اقدامات سے متعلق کانفرنس (CICA) کے رکن ممالک کے چوتھے سربراہی اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ یہ اجلاس جمعرات کو باکو میں شروع ہوا۔ اردوغان اس سے پہلے 2019 اور 2022 میں ہونے والے دونوں اجلاسوں میں شریک ہوئے تھے۔ ترکیہ کی وزارت خارجہ کے بیان کے مطابق، اس اجلاس میں صدر کی نمائندگی وزیر خارجہ ہاکان فیدان کریں گے۔
باکو کا انقرہ پر سخت ردعمل: اندرونی معاملات میں مداخلت قبول نہیں
دوسری جانب، آذربائیجان نے ترکیہ کے مؤقف پر شدید ناراضی ظاہر کرتے ہوئے اسے اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
آذربائیجان کے صدر الہام علیاف نے اس حوالے سے کہا: ’’سب کو اپنی حدود معلوم ہونی چاہییں۔ ہمارے معاملات میں مداخلت نہ کریں، ہمارے طرزِ زندگی میں دخل نہ دیں اور ہمیں یہ نہ بتائیں کہ ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ ہر کسی کو اپنی توجہ اپنے عوام اور اپنے ملک کے مسائل پر مرکوز رکھنی چاہیے۔‘‘
حکمراں جماعت ’’نیو آذربائیجان‘‘ کے میڈیا دفتر نے بھی ترکیہ کی جانب سے کی جانے والی مبینہ مداخلت کی مذمت کی اور ترکیہ کے بعض ذرائع ابلاغ اور خبروں کے پلیٹ فارمز پر غلط معلومات پھیلانے کا الزام لگایا۔ جماعت کے مطابق، ان معلومات میں آذربائیجان کے آئینی ڈھانچے، مسئلے کی نوعیت اور مذہبی عقیدے کی آزادی کے قانونی اصولوں کو نظرانداز کیا گیا ہے۔
اس جماعت نے منگل کو جاری کردہ بیان میں کہا کہ آذربائیجان کی حکومت کے خلاف مہم زیادہ مخالفانہ اور منظم ہوتی جا رہی ہے۔ اس نے ایسے اقدامات کے نتائج سے خبردار کیا جو دونوں ممالک کے تعلقات کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
نیو آذربائیجان پارٹی نے اوکتائے سارال اور جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے بعض ارکان کے بیانات پر بھی افسوس ظاہر کیا اور انہیں مقبولیت حاصل کرنے کی کوشش پر مبنی، غیر ذمہ دارانہ اور دونوں ممالک کے برادرانہ تعلقات کی روح کے منافی قرار دیا۔
جماعت نے مزید کہا: ’’ریاست کے سیکولر تشخص اور اس کی تعلیمی پالیسی کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ دو آزاد ریاستوں، ایک قوم کا اصول کسی بھی فریق کو یہ حق نہیں دیتا کہ وہ دوسرے کے معاملات میں مداخلت کرے یا اپنے سیاسی اور نظریاتی رجحانات اس پر مسلط کرے۔‘‘
باکو کا الزام: حجاب پر پابندی کے خلاف احتجاج نظریہ پھیلانے کا بہانہ ہے
اسی تناظر میں آذربائیجان کی میڈیا اور نشریات کونسل نے اسکولوں میں حجاب کے معاملے کو سیاسی رنگ دینے اور اسے مذہبی اختلاف میں تبدیل کرنے کی کوششوں کے بارے میں خبردار کیا۔ کونسل نے بیرونِ ملک سے جعلی اکاؤنٹس کے استعمال اور معلومات میں ردوبدل کیے جانے کا بھی ذکر کیا۔
آذربائیجان کی پارلیمان کے رکن عقیل عباس نے اخبار مساوات میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا کہ پابندی کا فیصلہ ریاستی فیصلہ ہے اور اس پر بحث کی گنجائش نہیں۔ تاہم، اگر بعض قوتیں یا ممالک، مثلاً ترکیہ، ہمارے معاملات میں مداخلت کرنا چاہیں تو ہر کسی کو اپنے اقدامات کا جواب دینا ہوگا۔
انہوں نے استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے سامنے ہونے والے احتجاج کو اشتعال انگیز کارروائی قرار دیا اور سوال اٹھایا: ’’ترکیہ کے صدر کے سینئر مشیر اوکتائے سارال کو آذربائیجان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا کیا حق ہے؟ کیا ہم نے کبھی ترکیہ یا کسی دوسرے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کی ہے؟ ہرگز نہیں۔‘‘
آذربائیجان کے اس رکن پارلیمان نے مزید دعویٰ کیا کہ استنبول میں ہونے والے احتجاج کا مقصد حجاب کا دفاع کرنا نہیں بلکہ آذربائیجان میں ایک مخصوص نظریے کے بیج بونا ہے۔
انہوں نے آخر میں زور دیا: ’’ہم ایک سیکولر ملک ہیں، نہ اسلامی اور نہ ہی عیسائی۔‘‘
آپ کا تبصرہ