اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بین الاقوامی تعلقات میں کسی ملک کی طاقت صرف اس کی فوجی اور معاشی صلاحیتوں سے نہیں ناپی جاتی، بلکہ اس کے رہنماؤں اور سفارتی نمائندوں کے الفاظ اور اندازِ بیان میں بھی اس طاقت کا اظہار ہوتا ہے۔ گفتگو ارادوں کا اعلان بھی ہوتی ہے اور قوم کی سوچ، عزم اور تہذیبی گہرائی کی عکاس بھی۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید سید حسن نصراللہ کے بارے میں فرمایا تھا:
’’ان کا جسم ہم سے جدا ہوگیا، لیکن ان کی شخصیت، ان کی روح، ان کا راستہ اور ان کی آواز ہمارے درمیان باقی ہے اور ہمیشہ باقی رہے گی۔ وہ نظامِ تسلط اور استکبار کے خلاف مزاحمت کا بلند پرچم، مظلوموں کی توانا آواز، ان کے بہادر مدافع اور مجاہدین و انصاف پسندوں کے لیے اطمینان اور شجاعت کا سرچشمہ تھے۔‘‘ [۱]
یہ بیان گفتگو اور طاقت کے باہمی تعلق کو واضح کرتا ہے۔
’’لوگوں سے اچھی بات کہو‘‘ — گفتگو کی اخلاقی بنیاد
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اور لوگوں سے اچھی بات کہو۔‘‘ (سورۂ بقرہ، آیت 83) [۲]
گفتگو کی طاقت کا بنیادی سرچشمہ اس کی اخلاقی ساکھ ہے۔ مزاحمت کے بیانیے کی ایک نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ سیاسی مؤقف کو اسلامی اخلاقیات سے جوڑتا ہے۔
شہید سید حسن نصراللہ مزاحمت کی حقیقت بیان کرتے ہوئے ہمیشہ اس کے اخلاقی پہلو پر زور دیتے تھے۔ انہوں نے فرمایا:
’’مزاحمت کی ثقافت کا مطلب باطل کے سامنے ڈٹ جانا، ظلم کے مقابلے میں انصاف پر عمل کرنا، غلامی کے مقابلے میں آزادی کا دفاع کرنا اور ذلت کے مقابلے میں انسانی وقار کی حفاظت کرنا ہے۔‘‘ [۳]
یہ بیان مزاحمت کو محض ایک فوجی کارروائی کے بجائے ایک اخلاقی مؤقف کی صورت دیتا ہے۔ یہاں گفتگو میں نیکی کا مطلب سمجھوتا کرنا یا کمزوری دکھانا نہیں، بلکہ اخلاقی اصولوں کی پابندی کرتے ہوئے ثابت قدم رہنا ہے۔
جب شہید نصراللہ کہتے ہیں:
’’ہم بھوک برداشت کر سکتے ہیں، لیکن ذلت قبول نہیں کر سکتے۔ ہم اپنے گھر فروخت کر سکتے ہیں، لیکن کسی کو اپنی عزت و وقار پر ہاتھ ڈالنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔‘‘ [۴]
تو وہ محض ایک سیاسی مؤقف پیش نہیں کر رہے ہوتے، بلکہ اخلاقی اصولوں پر استوار مزاحمت کا ایک پورا نظریہ بیان کر رہے ہوتے ہیں۔ ان الفاظ کی طاقت اس اخلاقی ساکھ سے پیدا ہوتی ہے جسے خریدا نہیں جا سکتا۔
’’درست اور مضبوط بات کہو‘‘ — گفتگو کی قوت کا سرچشمہ
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
’’اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور سیدھی، درست بات کہو۔‘‘ (سورۂ احزاب، آیت 70) [۵]
’’قولِ سدید‘‘ اسلامی اخلاقیات میں گفتگو کا ایک بنیادی اصول ہے۔ شہید نصراللہ کا اندازِ بیان اسی اصول سے وابستگی کی وجہ سے خطے اور عالمی سطح پر اثرانداز ہوتا ہے۔ ان کی گفتگو میں سچائی اور مضبوطی یکجا نظر آتی ہیں۔
انہوں نے واضح الفاظ میں کہا:
’’امریکہ پر اعتماد کرنا حماقت، حماقت اور وطن سے غداری ہے۔‘‘ [۶]
یہ فیصلہ امریکہ کے تاریخی طرزِ عمل کے جائزے پر مبنی ہے، جس میں جاپان پر ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال، صومالیہ، عراق، افغانستان اور شام کی تباہی اور صیہونی جرائم میں براہِ راست شرکت شامل ہے۔
ان الفاظ کی طاقت ادبی آرائش میں نہیں، بلکہ ان کی ٹھوس بنیاد اور مؤقف کی مضبوطی میں پوشیدہ ہے۔
شہید نصراللہ نے یہ بھی کہا تھا:
’’ہم نے خود کو صفر ساعت کی جنگ کے لیے تیار کر رکھا ہے۔‘‘ [۷]
یہ واضح اعلان خود ایک تزویراتی دفاعی قوت بن جاتا ہے، کیونکہ جس حریف کی بات قابلِ اعتماد ہو، اسے نظرانداز کرنا اس حریف کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہوتا ہے جس کا مؤقف غیر واضح ہو۔
’’عزت اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان کے لیے ہے‘‘ — گفتگو کے وقار کی بنیاد
قرآن کریم میں ارشاد ہوتا ہے:
’’عزت تو اللہ، اس کے رسول اور اہل ایمان ہی کے لیے ہے۔‘‘ (سورۂ منافقون، آیت 8) [۸]
عزت و وقار مزاحمت کے بیانیے کے طاقتور ترین تصورات میں سے ہیں۔ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید نصراللہ کے بارے میں فرمایا تھا کہ وہ ’’عزت کی بلند ترین منزل پر‘‘ فائز تھے۔ [۹]
یہ عزت بیرونی طاقتوں پر انحصار سے حاصل نہیں ہوتی، بلکہ ایمان اور خودمختاری سے جنم لیتی ہے۔
شہید نصراللہ نے خود اس تصور کو واضح الفاظ میں بیان کیا:
’’ہم بھوک برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن ذلت قبول نہیں کریں گے۔ ہم اپنی عزت و وقار فروخت نہیں کریں گے؛ چاہے اس کی قیمت ہمارے سر قلم کیے جانے کی صورت میں ہی کیوں نہ ہو، ہم پست لوگوں کی طرح سر نہیں جھکائیں گے۔‘‘ [۱۰]
انہوں نے اس مؤقف کو واقعۂ کربلا کے اصول سے جوڑا۔ ان کے مطابق، یہ محض کسی فرد کی ذلت کا معاملہ نہیں، بلکہ رسالتِ محمدیؐ کی عزت و حرمت کا مسئلہ ہے، جسے کوئی مسلمان قبول نہیں کر سکتا۔
گفتگو کا یہ پہلو مزاحمت کو جغرافیائی سیاست سے کہیں زیادہ گہرائی عطا کرتا ہے۔ ہر انکار اس مقدس اصول کی توثیق ہے کہ عزت اہل ایمان ہی کا حق ہے۔
رہبر معظم انقلاب اسلامی نے شہید نصراللہ کے سوگ میں اپنے بیان میں قرآنی تعبیر ’’کشجرۃ طیبۃ‘‘ یعنی پاکیزہ درخت کا حوالہ دیتے ہوئے حزب اللہ کو ’’بے شک ایک پاکیزہ درخت‘‘ قرار دیا تھا۔ [۱۱] اس طرح انہوں نے گفتگو کے وقار کو ایمان کی بنیادوں سے جوڑ دیا۔
نتیجہ
گفتگو محض سفارت کاری کا ایک ذریعہ نہیں، بلکہ خود طاقت کی حامل ہوتی ہے۔ شہید سید حسن نصراللہ کی زندگی اور ان کی تقاریر کا ورثہ اس بنیادی حقیقت کی گواہی دیتا ہے کہ کسی قوم کی طاقت کا اندازہ بالآخر اس بات سے لگایا جاتا ہے کہ اس کی گفتگو کس حد تک قابلِ اعتماد، مضبوط اور باوقار ہے۔
شہید نصراللہ نے اپنی زندگی کے آخری برسوں میں کہا تھا کہ ’’امریکہ پر اعتماد کرنا حماقت ہے‘‘، اور آج کے بڑھتے ہوئے حقائق اس قول کی تائید کر رہے ہیں۔
جیسا کہ رہبر معظم انقلاب اسلامی نے فرمایا، ان کی ’’آواز‘‘ آج بھی باقی ہے، کیونکہ حقیقی طاقت رکھنے والے الفاظ اپنے کہنے والے کی وفات کے ساتھ ختم نہیں ہوتے۔
اس مفہوم میں ایران اور محورِ مزاحمت کی طاقت کا تعین اس کے رہنماؤں کے مضبوط، سچے اور باوقار اندازِ بیان سے بھی ہوتا ہے۔
حوالہ جات
۱۔ شہید سید حسن نصراللہ کے سوگ میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کا بیان، دفترِ رہبر معظم کی ویب سائٹ، 2024ء۔
۲۔ قرآن کریم، سورۂ بقرہ، آیت 83۔
۳۔ شہید سید حسن نصراللہ کا مزاحمت کی ثقافت پر خطاب، تیسری بین الاقوامی مزاحمتی کانفرنس کے نام پیغام۔
۴۔ شہید نصراللہ کا عزت و وقار کے موضوع پر خطاب، الکوثر ٹی وی سے نشر شدہ۔
۵۔ قرآن کریم، سورۂ احزاب، آیت 70۔
۶۔ شہید نصراللہ کا امریکہ پر اعتماد کے موضوع پر خطاب، یومِ مجروحین کی تقریب، 2022ء۔
۷۔ شہید نصراللہ کا ’’صفر ساعت کی جنگ‘‘ کے موضوع پر خطاب، 2023ء۔
۸۔ قرآن کریم، سورۂ منافقون، آیت 8۔
۹۔ شہید نصراللہ کے بارے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کا بیان، ’’عزت کی بلند ترین منزل پر‘‘، 2024ء۔
۱۰۔ شہید نصراللہ کا عزت و وقار کے موضوع پر خطاب، مزاحمتی ذرائع ابلاغ کا محفوظ ریکارڈ۔
۱۱۔ حزب اللہ کے بارے میں رہبر معظم انقلاب اسلامی کے بیان میں ’’کشجرۃ طیبۃ‘‘ کی قرآنی تعبیر کا حوالہ، 2024ء۔
فیروزہ دل داری محققہ، ذرائع ابلاغ اور سماجی رابطوں کی کارکن
آپ کا تبصرہ