15 اکتوبر 2026 - 15:38
یمن کے شہر المخا میں تاریخی مساجد اور مزارات کی تباہی

یمن کے ٹی وی چینل المسیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز اور تکفیری عناصر نے تاریخی شہر المخا میں مساجد، مذہبی مقامات اور علما و اولیائے دین کے قدیم مزارات کو تباہ کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن کے ٹی وی چینل المسیرہ نے رپورٹ دی ہے کہ تاریخی شہر المخا میں سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز اور تکفیری عناصر کی کارروائیوں سے مذہبی عمارتیں اور قدیم آثار بھی محفوظ نہیں رہے۔ اس عرصے کے دوران ایسی مساجد، مذہبی مقامات اور علما و اولیائے دین کے مزارات کو تباہ کیا گیا جو صدیوں سے اس شہر کی مذہبی شناخت اور ورثے کا حصہ تھے۔

ان تاریخی مقامات میں صوفی عالم علی شاذلی کی مسجد اور مزار خاص طور پر قابلِ ذکر ہیں۔ مسجد کے متولی کے مطابق، اس کی ابتدائی عمارت نویں صدی ہجری کی ہے۔ مختلف ادوار میں اس مسجد کی مرمت اور توسیع کی جاتی رہی، جبکہ یہ یمن کے اندرون اور بیرونِ ملک سے آنے والے دینی علوم کے طلبہ اور زائرین کی منزل رہی ہے۔

مسجد کے متولی نے امام شاذلی کے مزار کے بارے میں بتایا کہ وہ اپنے زمانے کے ممتاز دینی علما اور اساتذہ میں شمار ہوتے تھے۔ یمن کے مختلف علاقوں اور بیرونِ ملک سے طلبہ ان کے پاس دینی اور شرعی علوم حاصل کرنے آتے تھے۔

مسجد کے قریب امام شاذلی کا گنبد اور مزار بھی موجود تھا، لیکن 2017 کے وسط میں اسے مسمار کر دیا گیا۔ المسیرہ کے مطابق، سعودی عرب کی حمایت یافتہ فورسز سے وابستہ عناصر نے بھاری مشینری کے ذریعے اس مقام کو ہموار کر کے ملبے میں تبدیل کر دیا۔

مقامی باشندے ان مزارات کی تباہی کو صرف تاریخی عمارتوں کا خاتمہ نہیں بلکہ اپنے دینی اور سماجی ورثے پر حملہ بھی سمجھتے ہیں، کیونکہ یہ مقامات ان کی زندگی اور عقائد سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha