اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا):ابنا کے مطابق، پانچویں بین الاقوامی اجلاس ’’بعثتِ امتِ محمدؐ‘‘ کا انعقاد بدھ 22 مہر 1405 ہجری شمسی کو عالمی مجمع قادمون کے زیر اہتمام کیا گیا۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر عبدالغنی شمس الدین نے قرآن کریم کی تعلیمات اور شریعتِ اسلامی کے اعلیٰ مقاصد کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کا اتحاد دین، انسانی جان، وقار اور معاشرتی استحکام کے تحفظ کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
انہوں نے قرآن کریم کی آیت ’’اور تم سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقے میں نہ پڑو‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے نقصان دہ اختلافات سے بچنے اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی برقرار رکھنے پر زور دیا۔
ڈاکٹر شمس الدین نے کہا کہ مذہبی اختلافات کو مسلمانوں کے درمیان تصادم، ایک دوسرے کو مسترد کرنے یا تکفیر کا سبب نہیں بننا چاہیے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کے مشترکہ اعتقادی اصولوں کو تسلیم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مختلف مسالک سے تعلق رکھنے کے باوجود مسلمان اللہ تعالیٰ، رسول اکرمؐ اور قرآن کریم پر ایمان جیسے بنیادی عقائد میں مشترک ہیں، لہٰذا انہی مشترکات کو باہمی تعاون اور تعامل کی بنیاد بنایا جانا چاہیے۔
ایشیائی علما کونسل کے سربراہ نے مختلف اسلامی مذاہب کے پیروکاروں کے درمیان باہمی احترام کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی۔ انہوں نے اہل بیتِ رسولؐ اور صحابۂ کرام کے احترام، نیز مسلمانوں کی قابل احترام دینی شخصیات کی توہین اور بے حرمتی سے اجتناب کو اتحاد و یکجہتی کے لیے ضروری قرار دیا۔
انہوں نے مسلمانوں کی جان، مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کو شریعتِ اسلامی کے بنیادی اصولوں میں شمار کرتے ہوئے فرقہ وارانہ تشدد کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ مذہبی اختلافات کو تشدد، فتنہ انگیزی یا مسلح تصادم بھڑکانے کے جواز کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ اسلامی معاشروں میں استحکام کے لیے سماجی امن کو مضبوط بنانا اور مذہبی کشیدگی میں اضافے کا باعث بننے والی مداخلتوں کو روکنا ضروری ہے۔
ڈاکٹر شمس الدین نے مذہبی اختلافات سے نمٹنے کے درست طریقۂ کار پر بات کرتے ہوئے ذمہ دارانہ مکالمے، علمی تحقیق اور اختلاف کے آداب کی پابندی کو مسائل کے حل کے اہم ذرائع قرار دیا۔ انہوں نے مذہبی منابر، ذرائع ابلاغ اور سیاسی پلیٹ فارمز کو نفرت پھیلانے، مذہبی اشتعال انگیزی اور دوسرے مسلمانوں کے عقائد کی تضحیک کے لیے استعمال کرنے سے خبردار کیا۔
انہوں نے مختلف مسالک کے علما اور دانشوروں کے درمیان مشترکہ علمی و مشاورتی نظام قائم کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا، تاکہ اختلافی مسائل پر غور کیا جاسکے، فرقہ وارانہ کشیدگی کو روکا جاسکے اور اسلامی معاشروں کے اجتماعی مفادات کا تحفظ ممکن ہو۔
ایشیائی علما کونسل کے سربراہ نے مذہبی اختلافات کو سیاسی رقابتوں سے الگ رکھنے کی ضرورت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ مذہبی وابستگی کو جماعتی تنازعات، اقتدار کی کشمکش یا شہری حقوق سے محروم کرنے کے لیے استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔ مذہبی امتیاز کے بغیر شہریوں کی برابری، فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کی روک تھام اور نفرت انگیز رویوں کا مقابلہ سماجی ہم آہنگی اور استحکام کے اہم عوامل ہیں۔
ڈاکٹر عبدالغنی شمس الدین نے مسلمانوں کے درمیان تعاون بڑھانے کی ضرورت کا ذکر کرتے ہوئے فلسطین اور بیت المقدس کی حمایت اور قبضے، ظلم اور جارحیت کے خلاف جدوجہد کو امتِ مسلمہ کے اتحاد کے اہم مشترکہ میدانوں میں شمار کیا۔ انہوں نے انسانی امداد، تعلیم، ترقی اور قیامِ امن کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے پر زور دیا۔
انہوں نے مسالک کے درمیان قربت بڑھانے کے پروگراموں کو مضبوط بنانے اور تعلیمی نظام و عوامی زندگی میں احترام، بقائے باہمی اور اتحاد کی ثقافت کو فروغ دینے کا مطالبہ کیا۔ ان کے مطابق، سماجی رویوں کی تشکیل میں تعلیم اور ذرائع ابلاغ اہم کردار ادا کرتے ہیں، اس لیے نفرت اور مذہبی اخراج کو فروغ دینے والے مواد کا مقابلہ کرنا اور باہمی احترام کی حوصلہ افزائی کرنے والے ذرائع ابلاغ کی حمایت ضروری ہے۔
ڈاکٹر شمس الدین نے اتحادِ اسلامی سے متعلق امور پر مسلسل پیش رفت کے لیے علما، دانشوروں اور سماجی شخصیات کے درمیان تعاون کو بھی ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے مذہبی کشیدگی کی روک تھام کے لیے باقاعدہ مکالمے اور مشترکہ حل تلاش کرنے کی اہمیت پر زور دیا۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان اتحاد کو مضبوط بنانا اسلامی معاشروں کو فتنوں اور فرقہ وارانہ اختلافات سے محفوظ رکھنے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔ انہوں نے امتِ مسلمہ کی صلاحیتوں کو عدل، تعمیر و ترقی، انسانی وقار کے تحفظ اور مسلمانوں کے درمیان یکجہتی کو مستحکم کرنے کے لیے بروئے کار لانے پر زور دیا۔
آپ کا تبصرہ