اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، کاظم غریب آبادی نے روسی خبر رساں ادارے ریانووستی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ صورتحال بالکل واضح ہے اور اب امریکہ کو چاہیے کہ وہ خطے کی حقیقتوں کو تسلیم کرے اور سفارت کاری پر مبنی حل تلاش کرے۔
ایرانی نائب وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اگر امریکہ ماضی کی غلطیاں دہراتے ہوئے فوجی کارروائی اور دھمکیوں کا راستہ اختیار کرتا ہے تو اس کے نتائج کا بڑا حصہ خطے سے باہر تک پھیل سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے کہ وہ کون سا راستہ اختیار کرتا ہے۔
غریب آبادی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران ہمیشہ سفارت کاری اور مذاکرات کے لیے تعمیری رویہ اختیار کرتا رہا ہے، تاہم ایران ہر ممکنہ صورتحال کا مقابلہ کرنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی نشریاتی ادارے این بی سی نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی قومی سلامتی کی ٹیم آنے والے ہفتوں میں ایران کے خلاف بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکانات پر غور کر رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ان ممکنہ اقدامات میں 3 نومبر کو ہونے والے امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے پہلے کارروائی کا آپشن بھی زیرِ غور ہے۔
آپ کا تبصرہ