اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آذربائیجان کے اسکولوں سے سامنے آنے والی تصاویر میں طلبہ کو حجاب کرنے والی طالبات کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنے کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ طلبہ اپنی ہم جماعتوں کو تعلیم سے محروم کرنے کی مخالفت کر رہے ہیں۔ ان تصاویر کے ساتھ والدین اور اساتذہ کے احتجاج کی اطلاعات نے صدر الہام علییف کی حکومت کی مذہب مخالف پالیسیوں اور تعلیمی نظام میں مذہبی آزادی اور سیکولرازم کے اصولوں پر عمل درآمد کے طریقۂ کار سے متعلق بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔
آذربائیجان کی حکومت نے 21 ستمبر 2026 کو سرکاری اسکولوں کے لباس سے متعلق ضوابط میں ترمیم کی۔ ان ضوابط کے تحت ایسے لباس کے استعمال پر پابندی عائد کی گئی ہے جسے اسکول کے یکساں لباس یا سرکاری تعلیم میں سیکولرازم کے اصول سے متصادم قرار دیا جائے۔
اگرچہ اس حکم نامے میں براہ راست لفظ ’’حجاب‘‘ استعمال نہیں کیا گیا، تاہم ذرائع ابلاغ اور زمینی اطلاعات کے مطابق، بعض اسکولوں میں ان ضوابط کی آڑ میں حجاب کرنے والی طالبات کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روکا گیا ہے اور حجاب کرنے والی معلمات پر بھی پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اساتذہ کے لباس سے متعلق ضوابط میں بھی 6 اکتوبر سے نئی شرائط شامل کی گئی ہیں۔
بعض اسکولوں میں طالبات اور اساتذہ نے حجاب پر پابندیوں کے خلاف احتجاجاً کلاسوں میں شرکت سے انکار کر دیا ہے۔ جاری ہونے والی ویڈیوز میں طلبہ کو حجاب کرنے والی طالبات کو اسکول میں داخلے سے روکنے کے خلاف احتجاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ بعض تصاویر میں طلبہ کو روتے ہوئے اور حجاب کرنے والی معلمات کا ساتھ دیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔ احتجاج کا دائرہ آذربائیجان سے باہر بھی پھیل گیا ہے اور استنبول میں اس ملک کے قونصل خانے کے سامنے بھی مظاہرہ کیا گیا ہے۔
ان واقعات کے بعد ذرائع ابلاغ نے باکو میں احتجاج کے سلسلے میں 37 افراد کی گرفتاری کی اطلاع دی ہے۔ آذربائیجان کے حکام نے مظاہرین سے منسوب بعض اقدامات کو عوامی نظم و ضبط میں خلل ڈالنے کے مترادف قرار دیا ہے۔
آپ کا تبصرہ