13 اکتوبر 2026 - 09:27
ٹرمپ امریکی تاریخ کا خطرناک ترین صدر ہے

 امریکی سینیٹر برنی سینڈرز نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کی حکومت کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں امریکی تاریخ کا خطرناک ترین صدر قرار دیا ہے۔ سینڈرز نے ٹرمپ پر آئین اور قانون کی حکمرانی کو نظرانداز کرنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کو ریپبلکن پارٹی کی سینیٹ پر گرفت ختم کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، سینڈرز نے انتخابی خطاب میں ٹرمپ کو  پیتھولوجیکل جھوٹا  اور خود پسند شخصیت قرار دیا، جبکہ ان کی حکومت کو جدید امریکی تاریخ کی بدعنوان ترین حکومتوں میں سے ایک کہا۔ ان کے بقول، ٹرمپ کی پالیسیاں ملک کے امیر ترین طبقے کے مفادات کے لیے بنائی جارہی ہیں، جبکہ محنت کش خاندانوں پر معاشی بوجھ بڑھ رہا ہے۔

سینڈرز نے امریکی سینیٹ میں طاقت کے توازن کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اکثریتی جماعت کو ایجنڈے، ووٹنگ کے اوقات اور کمیٹیوں پر کنٹرول حاصل ہوتا ہے۔ ان کے مطابق، ریپبلکن کنٹرول والی سینیٹ اور ایوانِ نمائندگان ٹرمپ کی پالیسیوں کی منظوری دینے والے اداروں میں تبدیل ہوچکے ہیں اور حکومت کے اقدامات کو مؤثر طور پر روکنے میں ناکام ہیں۔

انہوں نے ریاست مین میں سینیٹ کے انتخاب کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ مقابلہ صرف ٹرائے اور سوزن کولنز کے درمیان اختلافات تک محدود نہیں، بلکہ اس کے نتائج سینیٹ کی مجموعی ساخت اور امریکہ کے سیاسی مستقبل پر اثرانداز ہوسکتے ہیں۔ سینڈرز کے مطابق، ریپبلکنز کے پاس سینیٹ کی 53 نشستیں، ڈیموکریٹس کے پاس 45 نشستیں ہیں، جبکہ دو آزاد سینیٹرز، جن میں خود سینڈرز اور انگس کنگ شامل ہیں، ڈیموکریٹس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

سینڈرز نے ٹرمپ کے حمایت یافتہ بگ بیوٹی فل بل پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس قانون کے نتیجے میں تقریباً ڈیڑھ کروڑ امریکی صحت بیمہ کی سہولت سے محروم ہوسکتے ہیں، لاکھوں دیگر افراد کے بیمہ اخراجات بڑھ سکتے ہیں اور میڈیکیڈ سمیت صحت کے پروگراموں کے بجٹ میں کمی کے ذریعے امیر ترین ایک فیصد طبقے کو تقریباً ایک ٹریلین ڈالر کی ٹیکس چھوٹ دی گئی ہے۔

امریکہ کی ایران کے خلاف جنگ کو غیر قانونی اور آئین کے منافی قرار دیتے ہوئے سینڈرز نے کہا کہ اس جنگ میں 19 امریکی فوجی اور ایران سمیت مختلف علاقوں میں ہزاروں شہری ہلاک ہوئے، جبکہ امریکہ کو سینکڑوں ارب ڈالر کا مالی نقصان اٹھانا پڑا۔ ان کے مطابق، جنگ کے باعث ایندھن اور خوراک کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہوا ہے، اس لیے اسے روکنا ضروری ہے۔

سینڈرز نے موسمیاتی تبدیلیوں اور امیگریشن سے متعلق ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے جنگلاتی آگ، خشک سالی اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ موسمیاتی تبدیلی کو چین سے منسوب ایک دھوکا قرار دیتے ہیں۔ انہوں نے امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) پر بے قابو کارروائیوں، بے گناہ شہریوں کی ہلاکت، بچوں کو حراست میں لینے اور مختلف برادریوں میں خوف پھیلانے کے الزامات بھی عائد کیے اور جامع امیگریشن اصلاحات کا مطالبہ کیا۔

ٹیکنالوجی کمپنیوں کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ اور مصنوعی ذہانت کی بے لگام ترقی پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے سینڈرز نے کہا کہ ڈیٹا سینٹرز کی توسیع ماحولیاتی بحران کو مزید سنگین بنا سکتی ہے، جبکہ مصنوعی ذہانت ذاتی رازداری، جمہوریت اور بچوں کی صحت کے لیے خطرات پیدا کررہی ہے۔ انہوں نے بعض ماہرین کے اس خدشے کا بھی حوالہ دیا کہ اگر مصنوعی ذہانت انسانی صلاحیتوں سے آگے نکل گئی تو اسے قابو میں رکھنا مشکل ہوسکتا ہے۔

امریکہ میں معاشی نابرابری پر بات کرتے ہوئے سینڈرز نے دعویٰ کیا کہ امیر ترین ایک فیصد طبقے کے پاس نچلے 93 فیصد امریکیوں سے زیادہ دولت ہے، جبکہ بڑی اور منافع بخش کمپنیوں کے چیف ایگزیکٹوز عام ملازمین کے مقابلے میں تقریباً 350 گنا زیادہ آمدنی حاصل کرتے ہیں۔ ان کے مطابق، گزشتہ سال ایک ہزار سے کم امریکی ارب پتیوں کی دولت میں 2.2 ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہوا، جبکہ مہنگائی کو مدنظر رکھنے کے بعد امریکی مزدوروں کی حقیقی اجرت 53 سال پہلے کے مقابلے میں تقریباً 25 ڈالر فی ہفتہ کم ہے۔

سینڈرز نے رینڈ انسٹی ٹیوٹ کے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں کے دوران تقریباً 80 ٹریلین ڈالر کی دولت نچلے 90 فیصد طبقے سے بالائی طبقات کی جانب منتقل ہوئی۔ ان کے مطابق، پیداواری صلاحیت اور ٹیکنالوجی میں ترقی کے باوجود محنت کشوں کے معیارِ زندگی میں اسی تناسب سے بہتری نہیں آئی، اور اب متعدد خاندانوں کو اخراجات پورے کرنے کے لیے دو افراد کی آمدنی درکار ہوتی ہے۔

آخر میں سینڈرز نے ڈیموکریٹک پارٹی پر زور دیا کہ وہ محنت کش خاندانوں کے حقوق کی حقیقی علم بردار بنے۔ ان کا کہنا تھا کہ پارٹی کو صرف ٹرمپ پر تنقید کرنے تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ صحت، روزگار اور رہائش کے مسائل حل کرنے کے لیے عملی اقدامات بھی کرنے چاہییں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha