اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ان دنوں امریکی ذرائع ابلاغ میں ڈونلڈ ٹرمپ کی کارکردگی سے عوامی ناراضی اور آئندہ وسط مدتی انتخابات میں ری پبلکن پارٹی کے ووٹوں پر اس کے ممکنہ اثرات زیرِ بحث ہیں۔
فنانشل ٹائمز اور فوکل ڈیٹا کے مشترکہ سروے کے مطابق، صرف 34 فیصد امریکی ووٹرز ڈونلڈ ٹرمپ کی مجموعی کارکردگی کی حمایت کرتے ہیں۔ معیشت اور روزگار کے شعبوں میں ان کی کارکردگی سے مطمئن ووٹرز کی شرح صرف 25 فیصد ہے، جبکہ مہنگائی پر قابو پانے کے حوالے سے تقریباً 20 فیصد افراد ان کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔
سروے سے یہ بھی معلوم ہوا کہ دو تہائی سے زیادہ شرکاء کا خیال ہے کہ امریکی معیشت غلط سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
انتخابی مقابلے میں ڈیموکریٹک پارٹی کو ری پبلکن پارٹی پر پانچ فیصد سے زیادہ پوائنٹس کی برتری حاصل ہے۔ سروے میں 45 فیصد ووٹرز کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی وجہ سے ان کی جماعت کے امیدواروں کی کامیابی کے امکانات کم ہو رہے ہیں۔
اس کے علاوہ، تقریباً دو تہائی جواب دہندگان ایران کے ساتھ جلد معاہدہ کرنے کے حامی ہیں، جبکہ ایک چوتھائی سے بھی کم افراد ایران کے ساتھ جنگ میں ٹرمپ کی کارکردگی کی حمایت کرتے ہیں۔
تاہم، ری پبلکن پارٹی کے حامیوں کی وابستگی اب بھی مضبوط ہے۔ سن 2024 میں ٹرمپ کو ووٹ دینے والے افراد میں سے 80 فیصد کا کہنا ہے کہ وہ نومبر میں ہونے والے انتخابات میں بھی اپنے حلقے کے ری پبلکن امیدوار کو ووٹ دیں گے۔
فنانشل ٹائمز کے مطابق، وسط مدتی انتخابات کے نتائج کا انحصار بڑی حد تک اس بات پر ہوگا کہ ٹرمپ سے عوامی ناراضی کس حد تک ری پبلکن پارٹی کے ووٹوں میں کمی کا سبب بنتی ہے۔
آپ کا تبصرہ