12 اکتوبر 2026 - 16:33
عراق کے سابق رکنِ پارلیمان: الزیدی حکومت بھی بجٹ کے معاملے میں سابقہ حکومتوں کی روش پر چل رہی ہے

عراق کی پارلیمان کی سابق مالیاتی کمیٹی کے رکن محمد الشبکی نے الزیدی حکومت کی بجٹ پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت آمدنی کے نئے ذرائع پیدا کرنے میں ناکام ہے اور ملازمین کی تنخواہوں، نئی بھرتیوں اور ملازمتوں کو مستقل کرنے کے معاملات میں بھی کوئی واضح حکمتِ عملی سامنے نہیں لا سکی۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق کی پارلیمان کی سابق مالیاتی کمیٹی کے رکن محمد الشبکی نے خبر رساں ادارے المعلومہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ الزیدی حکومت بجٹ تیار کرنے کے معاملے میں سابقہ حکومتوں کے اقدامات ہی جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان کے مطابق، حکومت نے ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے، نئی بھرتیوں اور ملازمتوں کو مستقل کرنے کے لیے کوئی واضح اور قابلِ عمل منصوبہ پیش نہیں کیا، جو حکومتی کارکردگی میں بے یقینی کی علامت ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے، وہ محض سیاسی وعدے ہیں۔ نئی بھرتیوں اور ملازمتوں کو مستقل کرنے کو حکومت کی کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا، خصوصاً اس لیے کہ سب کو توقع تھی کہ حکومت بجٹ کو مضبوط بنانے، سیاسی فنڈ کے لیے وسائل فراہم کرنے اور صنعت کو بحال کرنے کی خاطر آمدنی کے متبادل ذرائع تلاش کرے گی، نہ کہ صرف نئی بھرتیوں پر توجہ دے گی؛ اگرچہ ہر شہری کو روزگار حاصل کرنے کا حق ہے۔

الشبکی نے زور دے کر کہا کہ سابقہ حکومتوں کے اقدامات کو اسی طرح جاری رکھنا تشویش ناک ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ علاقائی صورت حال اور اس کے عراق پر پڑنے والے اثرات کے پیش نظر حکومت کے لیے ضروری ہے کہ وہ آمدنی کے ذرائع میں تنوع پیدا کرنے، مالی وسائل فراہم کرنے اور آئندہ برسوں میں ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی یقینی بنانے کے لیے واضح اقدامات کرے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha