اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، آذربائیجان کے اسکولوں میں حجاب اور اسلامی لباس سے متعلق پابندیوں کے نفاذ کے خلاف مسلمان طلبہ، اساتذہ، مذہبی کارکنوں اور بعض سیاسی شخصیات میں احتجاج بڑھتا جا رہا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، متعدد طلبہ نے اپنی محجبہ ہم جماعتوں کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روکنے کے خلاف احتجاجاً کلاسوں میں شرکت سے انکار کردیا اور پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ ان واقعات کے بعد آذربائیجان کے تعلیمی نظام میں مذہبی آزادی اور لباس سے متعلق قواعد کے نفاذ کا معاملہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔
باکو کے قریب بالااخانی کے علاقے کے ایک اسکول میں طلبہ نے اپنی محجبہ ہم جماعتوں کو اسکول میں داخل ہونے سے روکنے کے خلاف کلاسوں کا بائیکاٹ کیا۔ جنوبی علاقے ماسالی کے ایک اسکول سے بھی ایسی ہی اطلاعات سامنے آئی ہیں، جہاں طلبہ نے مطالبہ کیا کہ ان کی ہم جماعتوں کو اسکارف اتارنے پر مجبور کیے بغیر کلاسوں میں واپس آنے دیا جائے۔
سوشل میڈیا پر جاری ہونے والی ویڈیوز میں بھی تعلیمی اداروں سے روتی ہوئی طالبات کے باہر نکلنے کے مناظر دکھائی دیتے ہیں۔ ایک مقبول ویڈیو میں طلبہ کے ایک گروہ کو زہرا حسنوا نامی ایک خاتون استاد سے گلے ملتے دیکھا جا سکتا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حسنوا کو حجاب کرنے کی وجہ سے تدریس جاری رکھنے سے روک دیا گیا ہے۔ حسنوا نے خواتین کو حجاب کرنے یا اتارنے پر مجبور کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلمان لڑکیوں کو اپنے مذہبی عقائد پر عمل اور تعلیم جاری رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
نئے ضوابط اور ان کے نفاذ پر اختلاف
حجاب کے خلاف یہ احتجاج آذربائیجان کے تعلیمی قوانین اور اسکولوں کے لباس سے متعلق ضوابط میں تبدیلیوں کے بعد شدت اختیار کر گیا ہے۔ حکومت نے جولائی میں سرکاری تعلیم کے سیکولر کردار کو مضبوط بنانے کے مقصد سے بعض ترامیم متعارف کرائیں، جبکہ وزرا کی کابینہ نے 21 ستمبر کو اسکولوں کے لباس سے متعلق ضوابط میں تبدیلی کی۔
تاہم رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان ضوابط میں اسلامی حجاب پر ملک گیر اور واضح پابندی کا ذکر نہیں ہے، لیکن بعض اسکولوں کے سربراہوں نے انہی ضوابط کو محجبہ طالبات کو داخلے سے روکنے اور خواتین اساتذہ سے اسکارف اتارنے کا مطالبہ کرنے کی بنیاد بنایا ہے۔
باکو اور سومقائیت میں بعض اساتذہ نے بھی بتایا ہے کہ انہیں حجاب اتارنے یا ملازمت چھوڑنے کے لیے کہا گیا۔ باکو کے محکمہ تعلیم نے اسکولوں کے لباس سے متعلق ضوابط پر عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے اس کی ذمہ داری اسکولوں کے سربراہوں پر عائد کی ہے۔ تاہم اس میڈیا رپورٹ کے مطابق حکام نے اس بارے میں واضح وضاحت نہیں کی کہ جو طالبات حجاب اتارنے پر آمادہ نہیں ہیں، ان کے تعلیم حاصل کرنے کے حق کو کس طرح یقینی بنایا جائے گا۔
مسلمان کارکنوں اور سیاسی شخصیات کا ردعمل
حجاب سے متعلق پابندیوں کے خلاف احتجاج صرف طلبہ اور اساتذہ تک محدود نہیں رہا۔ رپورٹ کے مطابق آذربائیجان کے عالم ابگل سلیمانوف کو ستمبر میں گرفتار کرکے 30 دن کی انتظامی قید کی سزا سنائی گئی۔ ان کے اہل خانہ کا کہنا ہے کہ ان کی گرفتاری کا تعلق حجاب سے متعلق پابندیوں پر ان کی کھلی تنقید سے ہے، تاہم سرکاری حکام نے اب تک ان دونوں معاملات کے درمیان کسی تعلق کا اعلان نہیں کیا۔
اسی طرح آذربائیجان کے قید صحافی پولاد اصلانوف نے رپورٹ کے مطابق 8 اکتوبر سے محجبہ طلبہ اور اساتذہ کے ساتھ ہونے والے سلوک کے خلاف بھوک ہڑتال شروع کر رکھی ہے۔ اصلانوف کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد ان مسلمان لڑکیوں کے قانونی حقوق کا دفاع کرنا ہے، جنہیں ان کے بقول تعلیم جاری رکھنے اور مذہبی لباس اختیار کرنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔
حکومت کے مخالف سیاست دان تورال عباس لی نے بھی محجبہ طالبات کو تعلیم سے محروم کیے جانے پر تنقید کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات مذہبی خاندانوں اور حکومت کے درمیان خلیج مزید گہری کرسکتے ہیں۔
استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے سامنے احتجاج
آذربائیجان میں حجاب سے متعلق پابندیوں کے خلاف احتجاج ملک سے باہر بھی پہنچ گیا ہے۔ مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق 3 اکتوبر کو ترک انسانی حقوق کی تنظیم ’’اوزگوردر‘‘ کے ارکان نے استنبول میں آذربائیجان کے قونصل خانے کے سامنے احتجاج کیا اور مسلمان خواتین اور لڑکیوں پر عائد پابندیاں ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔
مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے جن پر حجاب کے حق کی حمایت کی گئی تھی اور انہوں نے آذربائیجان کے احتجاج کرنے والے طلبہ سے یکجہتی کا اظہار کیا۔
آذربائیجان کے تعلیمی نظام میں حجاب کا پرانا تنازع
آذربائیجان میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور اس رپورٹ میں پیش کیے گئے اندازوں کے مطابق ملک کی تقریباً 96 فیصد آبادی مسلمان ہے۔ اس مذہبی پس منظر کے باوجود آذربائیجان کا سیاسی اور تعلیمی نظام سیکولر اصولوں پر قائم ہے۔ اس طرزِ حکومت کے تاریخی پس منظر کا ایک حصہ سوویت دور کی کئی دہائیوں پر محیط حکمرانی اور مذہبی اداروں اور عوامی زندگی میں مذہب کی موجودگی پر عائد پابندیوں سے جڑا ہوا ہے۔
1991 میں آزادی حاصل کرنے کے بعد بھی آئین کے تحت ریاست اور مذہب کی علیحدگی برقرار رکھی گئی۔ آذربائیجان کے تعلیمی نظام میں حجاب اس سے پہلے بھی ایک متنازع مسئلہ بن چکا ہے۔ 2010 میں تعلیمی اداروں میں اسکارف سے متعلق پابندیوں پر مذہبی حلقوں کی جانب سے احتجاج اور تنقید سامنے آئی تھی۔
رپورٹ کے مطابق 2026 کے ابتدائی مہینوں میں بھی محجبہ طالبات کو کلاسوں میں داخل ہونے سے روکنے کے بعض واقعات سامنے آئے تھے۔
آپ کا تبصرہ