اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،آیت اللہ رمضانی نے شہید سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر منعقدہ بین الاقوامی ویبینار سے ویڈیو خطاب میں ان کی شخصیت، حکمتِ عملی، طرزِ قیادت اور مزاحمتی تحریک پر ان کے اثرات کا جائزہ لیا۔
آیت اللہ رمضانی نے کہا کہ بعض لوگوں کا خیال تھا کہ سید ہاشم صفی الدین اور حزب اللہ کے اہم کمانڈروں کی شہادت کے بعد مزاحمتی تحریک رک جائے گی، لیکن ان کے مطابق آج بھی اس تحریک پر شہید نصراللہ کی جدوجہد کے اثرات نمایاں ہیں اور دشمنوں کے اندازے غلط ثابت ہوئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ شہید حسن نصراللہ نے مختلف علاقوں میں منتشر مزاحمتی سرگرمیوں کو ایک منظم نظام اور مربوط نیٹ ورک میں تبدیل کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا۔ ان کی حکمتِ عملی اور طویل تجربے کے نتیجے میں مشترکہ آپریشنل کمانڈ قائم ہوئی، جس نے حماس، اسلامی جہاد اور مختلف شیعہ و سنی گروہوں کے درمیان تعاون کو فروغ دیا۔
آیت اللہ رمضانی کے مطابق، شہید نصراللہ نے غزہ، بیروت، صنعا اور بغداد کی سلامتی کو ایک دوسرے سے مربوط کیا، جس کے تحت کسی ایک محاذ پر حملے کی صورت میں دوسرے محاذوں سے بھی اجتماعی ردعمل سامنے آنے کا تصور پیش کیا گیا۔
آیت اللہ رمضانی نے کہا کہ شہید حسن نصراللہ نے مغربی ایشیا میں طاقت کے توازن کو تبدیل کیا اور اسرائیلی فوج کی ناقابلِ شکست ہونے کی شبیہ کو چیلنج کیا۔
انہوں نے 2000 میں جنوبی لبنان کی آزادی اور 2006 کی 33 روزہ جنگ میں مزاحمت کو ایک نئی دفاعی حکمتِ عملی کی مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات نے دیگر آزادی کی تحریکوں کو بھی نئی قوت اور حوصلہ دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ شہید نصراللہ کی باتوں اور قیادت پر ان کے مخالفین کا اعتماد بھی غیر معمولی تھا۔
آیت اللہ رمضانی کے مطابق، شہید نصراللہ نے مزاحمتی تحریک کو محض جذباتی ردعمل تک محدود نہیں رہنے دیا، بلکہ اسے ایک منظم فکری مکتب میں ڈھالا، جس میں دین، عقل، جدید سفارت کاری، سماجی خدمات، پیشہ ورانہ ابلاغ اور تنظیمی نظم و ضبط کو یکجا کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ نے فلسطین کے مسئلے کو امتِ مسلمہ کے لیے مرکزی اہمیت کا حامل رکھا اور فلسطینی مزاحمت کی تربیتی، عسکری اور تکنیکی ضروریات کی تکمیل میں تعاون کیا۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا کہ شہید نصراللہ نے مذہبی اور نسلی اختلافات سے بالاتر ہو کر مسلمانوں کے درمیان اتحاد کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
آیت اللہ رمضانی نے کہا کہ شہید نصراللہ کے بعد حزب اللہ کی تنظیمی ساخت نے قیادت کے تسلسل کو برقرار رکھنے میں مدد دی اور شیخ نعیم قاسم کو جماعت کی سیکرٹری جنرل کی ذمہ داری سونپی گئی۔
انہوں نے حزب اللہ کو لبنان کے مختلف مذہبی و سماجی طبقات کے اتحاد اور اسرائیل کے خلاف دفاعی قوت کا اہم عنصر قرار دیا، جبکہ اسلحہ چھیننے کی کوششوں کے ناکام رہنے کی پیش گوئی بھی کی۔
آیت اللہ رمضانی نے مزاحمتی تحریک کے مستقبل کے لیے تین بنیادی نکات پر زور دیا:تنظیمی صلاحیت اور جغرافیائی وسعت میں اضافہ: مزاحمتی محاذ کی تنظیمی قوت اور علاقائی دائرہ کار کو مضبوط بنانا۔
فقہِ مزاحمت کی نظریاتی وضاحت: تسلط اور جدید استعمار کے خلاف جدوجہد کے شرعی و فکری اصولوں کو واضح کرنا۔
شہادت کے الٰہیاتی تصور کی تشریح: قرآنی تعلیمات کی روشنی میں شہادت، آزادی اور عزت و خودداری کے مفاہیم کو اجاگر کرنا۔
انہوں نے کہا کہ مومن اپنی جدوجہد میں یا تو میدان میں کامیابی حاصل کرتے ہیں یا آزادی، حریت اور ذلت سے انکار جیسے بلند مقاصد کے لیے شہادت پاتے ہیں؛ ان کے نزدیک دونوں صورتیں کامیابی ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے خطاب کے اختتام پر شہید حسن نصراللہ اور امام خمینیؒ کے مکتبِ فکر کو درست طور پر سمجھنے کی ضرورت پر زور دیا اور آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں اس راستے کے جاری رہنے کی امید ظاہر کی۔
آپ کا تبصرہ