اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رابرٹ اِنلاکیش کی تحریر کردہ ایک رپورٹ میں یمن کے خلاف جنگ میں سعودی عرب اور صیہونی ریاست کے درمیان خفیہ فوجی اور انٹیلی جنس تعاون میں اضافے کا انکشاف کیا گیا ہے۔ یہ تعاون ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کی مسلح افواج نے مغربی ساحلی علاقوں میں پیش قدمی کی ہے۔
ویب سائٹ ’’منٹ پریس نیوز‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، سعودی عرب اور صیہونی ریاست نے یمن کی مسلح افواج کے حملے روکنے اور بحیرۂ احمر کے خطے میں اپنی باقی ماندہ بالادستی بچانے کے لیے ایک مشترکہ خفیہ مہم کے ذریعے تعلقات مضبوط کیے ہیں۔ یمن کے مغربی ساحل پر اہم فوجی اڈوں میں تل ابیب اور ریاض کی حالیہ ناکامیوں نے دونوں کو تعلقات معمول پر لانے کے ایک نئے مرحلے تک پہنچا دیا ہے۔
سعودی عرب یمن میں سیکڑوں فضائی حملے کر چکا ہے۔ گزشتہ جولائی میں دوبارہ شروع کی گئی مہم کے بعد ان حملوں میں ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، ریاض اب یمن بھر میں روزانہ درجنوں حملے کرنے کے لیے اسرائیلی انٹیلی جنس کی مدد پر بڑے پیمانے پر انحصار کر رہا ہے۔ ان حملوں میں تجارتی بازاروں اور رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے۔
حال ہی میں ریاض میں موجود اسرائیلی عہدیداروں نے اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان تاریخ کی پہلی تجارتی پرواز کو ممکن بنانے کے اقدام کا خیرمقدم کیا۔ یہ پرواز فلائی دبئی کے ایک طیارے کی سعودی ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کے بعد ہوئی، جس کے مسافروں کو ریاض نے مدد فراہم کی۔ ان مسافروں میں اسرائیلی شہری بھی شامل تھے۔
دوسری جانب، سعودی عرب نے ایرانی مسافر طیارے کو اترنے سے روکنے کے لیے صنعاء کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے رن وے پر بمباری کرکے یمن کے خلاف جنگ دوبارہ تیز کر دی۔ رپورٹ کے مطابق، اس اقدام کا مقصد یمن پر طویل فضائی محاصرہ مسلط کرنا تھا۔ اس کے برعکس، اسرائیلی طیارے سعودی عرب کی فضائی حدود آزادانہ طور پر استعمال کرتے ہیں۔
اس تعاون کے نمایاں نتائج میں سعودی فضائی حملوں میں شہریوں کی ہلاکتوں میں نمایاں اضافہ بھی شامل ہے۔ ایسے ہی ایک حملے میں سعودی لڑاکا طیاروں نے تعز صوبے میں ایک تجارتی بازار پر بمباری کی، جس کے نتیجے میں کم از کم سات شہری جاں بحق ہوئے اور غذائی اشیا کا ایک گودام تباہ ہو گیا۔
مغربی ذرائع ابلاغ نے اس واقعے کی خبر دیتے ہوئے ’’حوثیوں کے زیر کنٹرول وزارت صحت‘‘ کی اصطلاح استعمال کی۔ رپورٹ کے مطابق، یہی طریقہ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کو مشکوک ثابت کرنے کے لیے بھی اپنایا جاتا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ یمن کی حکمران سیاسی جماعت کا نام انصار اللہ ہے، جبکہ ’’حوثی‘‘ شمالی یمن کے ایک خاندان کا نام ہے، کسی سیاسی جماعت کا نہیں۔
سعودی فضائی حملوں میں بندرگاہ المخا کے علاقے میں شہری تنصیبات اور رہائشی عمارتوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں کم از کم چھ افراد جاں بحق ہوئے۔
یمن میں سعودی عرب اور اسرائیل کے مشترکہ مفادات
رپورٹ کے مطابق، یمن میں سعودی عرب اور صیہونی ریاست کے مفادات مشترک ہیں۔ دونوں صنعاء میں قائم حکومت کا تختہ الٹنا چاہتے ہیں، جبکہ باب المندب کے ساحلی علاقوں پر یمن کی مسلح افواج کا قبضہ دونوں کے لیے خطرہ سمجھا جاتا ہے۔
یمن کی جانب سے اسرائیل کے خلاف بحری محاصرے کا آغاز 2023 کے اواخر میں ہوا تھا، جس کے نتیجے میں جنوبی اسرائیل کی بندرگاہ ایلات مکمل طور پر دیوالیہ ہو گئی۔ یہ محاصرہ غزہ کی حمایت میں کیا گیا تھا اور 8 اکتوبر 2025 کو جنگ بندی نافذ ہونے کے بعد ختم ہوا۔
اس صورت حال کے نتیجے میں سعودی عرب اور اسرائیل کی مشترکہ تشہیری مہم سامنے آئی ہے، جس میں یمن کے اپنے علاقوں پر کنٹرول کو بین الاقوامی جہاز رانی اور تجارت کے لیے خطرہ بنا کر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یمنی عہدیداروں نے اس دعوے کو واضح طور پر مسترد کیا ہے۔
اس مہم کا ایک اہم پہلو مذہبی شخصیات کو فرقہ وارانہ اختلافات کو ہوا دینے کے لیے استعمال کرنا ہے۔ سعودی عالم دین عبدالعزیز آل رئیس، جو اس سے پہلے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو حرام قرار دے چکے ہیں اور فلسطینیوں کی مسلح جدوجہد کی مذمت کر چکے ہیں، اب ’’اہل سنت مسلمانوں‘‘ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ ’’صحابہ پر طعن کرنے والوں‘‘ کے خلاف لڑیں اور یمن کی مسلح افواج کے خلاف جنگ میں شہادت حاصل کرنے کے لیے میدانِ جنگ کا رخ کریں۔
سعودی مفتی صالح بن فوزان الفوزان نے بھی یمن کی جنگ کے بارے میں ایک غیر معمولی عوامی بیان جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے حوثیوں کے خلاف جنگ میں قربانی دینے کے لیے تیار رہنے کا مطالبہ کیا اور اسے مسلمانوں کی دینی ذمہ داری قرار دیا۔
پاکستان کے ایک ایسے عالم دین نے بھی، جن کے سعودی عرب سے روابط ہیں اور جو اسامہ بن لادن کی تعریف کے حوالے سے معروف ہیں، انصار اللہ کو ’’دہشت گرد‘‘ قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس تنظیم کے ارکان مسلمان نہیں ہیں۔
رپورٹ کے اختتام پر کہا گیا ہے کہ ایک طرف سعودی عرب اور صیہونی ریاست یمن بھر میں مختلف اہداف پر حملوں کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں، تو دوسری طرف ایک مربوط تشہیری مہم کے ذریعے خطے کی رائے عامہ کو یہ باور کرانے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ریاض خود مظلوم ہے۔
آپ کا تبصرہ