11 اکتوبر 2026 - 09:46
اسرائیل میں معاشی بحران عبرانی میڈیا کا اعتراف

اسرائیلی میڈیا نے اعتراف کیا ہے کہ بنیامین نیتن یاہو کی حکومت مہنگائی اور اخراجاتِ زندگی میں کمی کے وعدے پورے کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ اسرائیل میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عبرانی شعبے کے مطابق، اسرائیلی اخبارزیمان یسرائیل نے اپنی رپورٹ میں نیتن یاہو حکومت کی معاشی پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے لکھا کہ طلبہ کی رہائش سے لے کر ٹیکس پیکیجز تک، حکومت زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔

رپورٹ کے مطابق، 2022 میں نیتن یاہو کی موجودہ حکومت کے قیام کے بعد سے اسرائیل میں اشیا کی قیمتوں میں اوسطاً 11 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ ایسے وقت میں ہوا جب حکومت نے شہریوں کو معاشی ریلیف دینے کے وعدے کیے تھے۔ رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ بچوں کی نگہداشت کے مراکز کی معاونت کے لیے مختص بجٹ کا 55 فیصد انتہائی مذہبی یہودیوں کو دیا گیا۔

اسرائیل کے مرکزی ادارۂ شماریات اور مرکزی بینک کے اعداد و شمار پر مبنی حساب کے مطابق، اگست میں صارفین کے قیمتوں کے اشاریے میں دسمبر 2022 کے مقابلے میں تقریباً 11 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ 2024 میں افراطِ زر کی شرح 3.2 فیصد جبکہ 2025 میں 2.6 فیصد رہی، تاہم مہنگائی کی رفتار میں کمی کے باوجود قیمتوں میں مجموعی اضافہ برقرار رہا۔

اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی ایک تحقیق کے مطابق، نیتن یاہو کے دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے غذائی اشیا کی قیمتوں میں 15 فیصد اضافہ ہوچکا ہے۔ رپورٹ میں دی اکانومسٹ کے 2026 کے بگ میک انڈیکس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا کہ زندگی کے اخراجات کے لحاظ سے اسرائیل دنیا میں سوئٹزرلینڈ کے بعد دوسرے نمبر پر ہے۔ یہ اشاریہ مختلف ممالک میں قیمتوں اور قوتِ خرید کا غیررسمی موازنہ فراہم کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha