اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، FDD، یعنی فاؤنڈیشن فار ڈیفنس آف ڈیموکریسیز، واشنگٹن میں قائم ایک امریکی تھنک ٹینک ہے۔
یہ ادارہ خصوصی طور پر ایران، خطے میں مسلح گروہوں اور امریکہ کے مشرق وسطیٰ کے ممالک کے ساتھ تعلقات سے متعلق امور پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔
اس تھنک ٹینک کے تجزیوں کا امریکی ریپبلکن حکومتوں کے فیصلہ سازوں، سینیٹروں اور اعلیٰ حکام کے ساتھ ساتھ ڈیموکریٹ حکومت کے بعض حلقوں میں بھی جائزہ لیا جاتا ہے تاکہ امریکی خارجہ پالیسی کی تشکیل پر اثر انداز ہوا جاسکے۔
ایران کے بارے میں سخت مؤقف رکھنے والا یہ ادارہ طویل عرصے سے ایران میں اسلامی جمہوری نظام کو کمزور کرنے یا اس کے اقتدار کے ڈھانچے میں تبدیلی کے لیے مختلف منصوبے اور حکمت عملیاں تیار کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے۔
اب FDD کی جانب سے ایران کے خلاف امریکی معاشی منصوبے کی ناکامی سے متعلق ایک اہم مضمون سامنے آیا ہے۔
کچھ عرصہ قبل امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کے خلاف جامع جنگ کے تناظر میں ’’بیسنٹ مہم‘‘ کے نام سے ایک نئی امریکی حکمت عملی یا منصوبہ پیش کیا تھا۔
اس مہم کا مقصد ایران کے مالی وسائل، تجارت اور توانائی کے بہاؤ تک رسائی محدود کرنے کے لیے زیادہ سے زیادہ معاشی اور سمندری دباؤ ڈالنا تھا۔ براہِ راست فوجی جنگ کے برعکس، اس مہم میں معاشی محاصرے اور دباؤ کو مرکزی حیثیت دی گئی تھی۔
اس مہم کا اہم مقصد فوجی کامیابی حاصل کرنا نہیں بلکہ اندرونی دباؤ کے ذریعے کامیابی حاصل کرنا تھا، تاکہ معاشی دباؤ کے نتیجے میں ایران کے اندر بڑے پیمانے پر ملک گیر احتجاج شروع ہوجائے۔
رمضان جنگ میں ناکامی کا اعتراف
FDD نے ’’کیا ہم ایران کے ساتھ جنگ ہار گئے ہیں؟‘‘ کے عنوان سے شائع ہونے والے ایک مضمون میں واضح طور پر کہا ہے کہ واشنگٹن نے تہران میں نظام کی تبدیلی کے مقصد سے 39 روزہ مہم شروع کی تھی، لیکن ایران کی دفاعی طاقت کو قابو کرنے میں ناکامی کے باعث یہ مہم اپنے مقصد کے حصول کے بغیر ہی روک دی گئی۔
مضمون کے مطابق امریکہ کو حکومت گرانے کے مقصد سے وسیع جنگ سے پیچھے ہٹ کر محدود فوجی کشیدگی کی طرف اپنی حکمت عملی تبدیل کرنا پڑی۔
بیسنٹ مہم کی ناکامی
FDD کے مضمون میں اس نئے منصوبے کی ناکامی کی دو بنیادی وجوہات بیان کی گئی ہیں۔
1۔ وسیع مطالعے اور منصوبہ بندی کا فقدان
مضمون کے مطابق زیادہ سے زیادہ دباؤ کے نام سے پیش کیا جانے والا یہ منصوبہ کوئی سائنسی اور سوچا سمجھا حل نہیں بلکہ سابقہ منصوبے، یعنی جنگ اور بمباری، کی ناکامی کے بعد اختیار کیا گیا محض ایک ردعمل ہے۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ ایران ایک متنوع معیشت رکھنے والا ملک ہے اور اس کے پاس متبادل راستوں کی وسیع گنجائش موجود ہے۔ ایران بالواسطہ راستے فعال کرکے اور مختلف واسطوں کے ذریعے معاشی محاصرے کو ناکام بنا سکتا ہے۔
2۔ اندرونی احتجاج پر انحصار
FDD کے تجزیے کے مطابق معاشی دباؤ کی کامیابی اسی صورت میں ممکن ہے جب اس کے نتیجے میں ایران کے اندر ملک گیر احتجاج شروع ہوجائے۔
لہٰذا اگر ایرانی عوام اس محاصرے، خواہ وہ فوجی، سفارتی یا متناسب ردعمل کی صورت میں ہو، کے خلاف مطلوبہ ردعمل ظاہر نہ کریں تو یہ منصوبہ کوئی اثر نہیں ڈال سکے گا۔
عوام کی جانب سے نظام کے خاتمے کی حمایت نہ کرنا
FDD نے اعتراف کیا ہے کہ ایرانی عوام ملک کے تحفظ کے لیے حتیٰ کہ اپنی جانوں کی قربانی دے کر بھی مزاحمت کرنے کے لیے تیار ہیں۔ دوسرے لفظوں میں، اس تھنک ٹینک کے مطابق ایرانی عوام نے یہ ظاہر کردیا ہے کہ وہ موجودہ نظام کے خاتمے کے لیے سماجی احتجاج کو ذریعہ بنانے پر آمادہ نہیں ہیں۔
ایرانی عوام نے اپنے وطن کے تحفظ کو خاص اہمیت دی ہے اور امریکیوں کا یہ اندازہ کہ معاشی دباؤ ایران میں نظام کے خاتمے یا بڑے پیمانے پر احتجاج کا سبب بنے گا، زمینی حقائق اور عوام کے رویے سے مطابقت نہیں رکھتا۔
خلاصہ
امریکہ اسرائیلی لابنگ کے ذریعے اس جنگ میں کھینچا گیا اور اس نے کشیدگی کو انتہائی سطح تک پہنچایا، تاہم ایران بھی کئی برس سے ایسے حالات کے لیے خود کو تیار کر رہا تھا اور اس نے غیر متناسب جنگ کی حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے امریکہ کو خطے سے باہر نکالنے کی کوشش کی۔
ایرانی عوام قومی شعور اور دینی بصیرت رکھتے ہیں اور پوری قوت کے ساتھ ایران کے تحفظ کا عزم رکھتے ہیں۔ اسی لیے زیادہ سے زیادہ دباؤ کی مہم کی تمام تر مشکلات کے باوجود ملک کے تحفظ کے حوالے سے عوام کے عزم کو کمزور نہیں کیا جاسکے گا۔
شہید رہبر کے بقول: ’’ٹرمپ کا جسم بھی ایک دن مٹی میں مل جائے گا، سانپ بچھوؤں کی خوراک بن جائے گا، لیکن اسلامی جمہوریہ ایران بدستور قائم رہے گا۔‘‘
آپ کا تبصرہ