17 جولائی 2010 - 19:30

اردن کی پارلیمینٹ کے نائب رئیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے اسرائیلی پرچم کو پارلیمینٹ ہائوس میں نذر آتش کیا اور اگر سو بار بھی پارلیمینٹ میں واپس گئے تو اس کام کو دوبارہ انجام دیں گے

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق اردن کی پارلیمینٹ کے نائب رئیس نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے  اسرائیلی پرچم کو پارلیمینٹ ہائوس میں نذر آتش کیا اور اگر سو بار بھی پارلیمینٹ میں واپس گئے تو اس کام کو دوبارہ انجام دیں گے انھوں اس بات کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے بتا یا کہۛ ۲۲ روزہ جنگ کے دوران ایک ہوٹل میں دوپہر کا کھا نا کھا رہا تھا کہ ایک صحافی میرے پاس آیا اور اس نے کہا کہ آپ اگر اسرائیل کے واقعی اتنے ہی خلاف ہیں تو  کیوں  اس صہیونی ظالم  کا پرچم جلاتے نہیں ہو؟
اس صحافی کی بات میرے دل کو اچھی لگی اور اپنے سٹاف میں سے ایک آدمی کو فون کیا اور ایک اسرائیلی پرچم منگوایا۔
خلیل عطیہ نے مزید بتا یا کہ جب پارلیمینٹ میں اراکین نے پلےکارڈ اٹھا رکھے تھے اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کر رہے تھے تو میں نے اپنی جیب سے اسرائیلی  پرچم نکالا  پہلے اسے پیروں تلے روندا اور پھر  اسے آگ لگا دی۔
سب اراکین پارلیمینٹ نے اس کام کو پسند کیا لیکن پارلیمینٹ کے رئیس نے اس پر اعتراض کیا لیکن وہ  اس بات پر فخر کرتے ہیں کہ انھوں نے  اسرائیلی پرچم کو پارلیمینٹ ہائوس میں نذر آتش کیا اور اگر سو بار بھی پارلیمینٹ میں واپس گئے تو اس کام کو دوبارہ انجام دیں گے۔

............

/152