اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور فلوریڈا میں اس کی شاخ نے امریکی سول لبرٹیز یونین کی حمایت سے کہا ہے کہ فلوریڈا کے حکام کے اس اقدام سے دونوں اداروں کی شہری اور انسانی حقوق کی سرگرمیوں کو شدید خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔
ان اداروں نے کہا کہ فلوریڈا کا نیا قانون عدالتی کارروائی کے بغیر اور مؤثر دفاع کا موقع فراہم کیے بغیر ریاستی حکام کو شہری تنظیموں پر وسیع پابندیاں عائد کرنے کا اختیار دیتا ہے۔
یہ مقدمہ اس وقت دائر کیا گیا جب فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس اور ریاستی کابینہ کے دیگر ارکان نے 29 ستمبر 2026 کو کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور اس کی فلوریڈا شاخ کو ’’مقامی دہشت گرد تنظیمیں‘‘ قرار دینے کے حق میں ووٹ دیا۔
درخواست گزاروں نے اس اقدام کو امریکی آئین کی پہلی ترمیم میں دیے گئے حقوق اور قانونی کارروائی کے حق کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان دونوں اداروں کے خلاف اس سے قبل دہشت گردی سے متعلق سرگرمیوں کے الزام میں نہ کوئی مقدمہ چلایا گیا اور نہ ہی انہیں کسی جرم میں سزا سنائی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق اگر یہ فیصلہ 5 نومبر سے نافذ ہوگیا تو متعلقہ تنظیموں کی سرگرمیوں پر وسیع پابندیاں عائد کردی جائیں گی اور ان پابندیوں کی خلاف ورزی پر سخت سزائیں دی جاسکیں گی۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور اس کی فلوریڈا شاخ نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد روکا جائے اور فلوریڈا کے حکام کو ان دونوں اداروں اور ان سے وابستہ افراد کے خلاف مقررہ سزائیں نافذ کرنے سے روکا جائے۔
کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز کی فلوریڈا شاخ نے کہا ہے کہ اس کی سرگرمیوں میں فلوریڈا کے شہریوں کو سرکاری اور ملازمت سے متعلق امتیازی سلوک کے مقدمات میں مفت قانونی خدمات فراہم کرنا، تارکین وطن کو قانونی کارروائیوں میں مدد دینا اور شہری حقوق کا تحفظ شامل ہے۔
امریکی سول لبرٹیز یونین اور اس مقدمے میں شامل دیگر وکلا نے بھی خبردار کیا ہے کہ اس فیصلے پر عمل درآمد کے اثرات کونسل آن امریکن اسلامک ریلیشنز اور اس کی فلوریڈا شاخ تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ دیگر شہری اداروں اور ان گروہوں کی سرگرمیاں بھی متاثر ہوسکتی ہیں جو ریاستی حکام کی مخالفت کا سامنا کرتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ