اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،آئی این این اے جے پلس کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق ہندوستان میں اسرائیلیوں کے زیر انتظام چلنے والے متعدد کیفے اور ریسٹورنٹس میں ہندوستانی شہریوں کو داخلے سے روکا جا رہا ہے، جس نے ملک میں ایک نئے اور شدید بحث کو جنم دیا ہے۔واضح رہے کہ یہ زیادہ تر کیفے ان مراکز میں واقع ہیں جو نوجوان اسرائیلی سیاحوں میں مقبول ہیں، جن میں سے اکثر فوجی سروس مکمل کرنے کے فوراً بعد ہندوستان کا رخ کرتے ہیں۔ ہماچل پردیش کے گاؤں قصّول میں، جسے منی اسرائیل بھی کہا جاتا ہے، متعدد ہندوستانی سیاحوں نے شکایت کی ہے کہ انہیں اپنے ہی ملک میں کیفے کے اندر جانے سے روک دیا گیا۔
مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ کچھ کیفوں کے باہر عبرانی زبان میں بورڈ لگے ہیں اور عملہ صرف اسرائیلی صارفین کو ترجیح دیتا ہے یہ تنازع نیا نہیں ہے۔ہندوستانی میڈیا۲۰۱۵ء سے ہی اس طرح کے واقعات کی رپورٹنگ کر رہا ہے، جہاں ہماچل اور گوا جیسے سیاحتی مقامات پر ہندوستانیوں کو اسرائیلی اداروں میں داخلے سے انکار کیا گیا۔
تاہم حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر وائرل ویڈیوز کے بعد یہ معاملہ دوبارہ سرخیوں میں آ گیا ہے۔ذہن نشین رہے کہ یہ رپورٹس ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے ہندوستانی کو اسرائیل کے پہلے سے کہیں زیادہ قریب کر دیا ہے۔۱۹۹۲ء میں دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تجارت صرف۲۰؍ کروڑ ڈالر تھی، جو اب۶؍ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان اب اسرائیل کا سب سے بڑا ہتھیار کا خریدار بن چکا ہے۔
مزید برآں ۷؍اکتوبر۲۰۲۳ء کے بعد جب ہزاروں فلسطینی مزدوروں کو اسرائیلی لیبر مارکیٹ سے نکالا گیا، تو اسرائیل نے ان کی جگہ لینے کے لیے ہزاروں ہندوستانی مزدوروں کو بھرتی کیا۔ علاوہ ازیں فروری میں، غزہ پر اسرائیلی حملوں اور جنگ بندی کے باوجود جاری نسل کشی کے درمیان، مودی نے اسرائیل کا اپنا دوسرا دورہ کیا اور کنیسٹ سے خطاب بھی کیا۔
آپ کا تبصرہ