اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، فؤاد حسین نے کہا کہ عراقی حکومت ملک میں اسلحے کے ریاست اور قانونی اداروں کے پاس ہونے کے اصول پر مکمل طور پر قائم ہے۔ انہوں نے امریکی فریق کی جانب سے مذہبی آزادیوں کے احترام اور مقدس مقامات پر زائرین کی آمد میں سہولت کی اہمیت کو سمجھنے کو بھی سراہا۔
عراقی وزیر خارجہ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب عراق نے ایرانی فضائی کمپنیوں کے لیے نجف اشرف ایئرپورٹ سے روزانہ 40 پروازیں چلانے کی اجازت دی ہے۔
عراقی وزیراعظم علی فالح الزیدی کے دفتر کے مطابق وزیراعظم کی متعلقہ حکام سے مسلسل رابطوں اور کوششوں کے نتیجے میں یہ معاہدہ طے پایا، جس کے تحت ماہان ایئر کے علاوہ دیگر ایرانی فضائی کمپنیوں کو نجف اشرف بین الاقوامی ہوائی اڈے سے روزانہ 40 پروازیں چلانے کی اجازت ہوگی۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر نے کہا کہ حکومت کا مقصد مسافروں اور زائرین کی آمد و رفت کو آسان بنانا اور انسانی، طبی، سیاحتی اور تعلیمی امور میں سہولت فراہم کرنا ہے۔
علی الزیدی نے کہا کہ فضائی سفر صرف دو ہوائی اڈوں کے درمیان آمد و رفت کا نام نہیں بلکہ یہ عوام کے درمیان رابطے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔ ان کے مطابق ان مسافروں میں ایسے مریض بھی شامل ہوتے ہیں جو علاج کے لیے سفر کرتے ہیں، زائرین جو مقدس مقامات کی زیارت کے لیے آتے ہیں اور خاندان جو ایک دوسرے سے ملنے کے منتظر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فضائی رابطوں کی بحالی سیاحت، معیشت اور سماجی روابط کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتی ہے۔
عراقی وزیراعظم نے مزید کہا کہ عراق اپنی خارجہ پالیسی اور تعلقات میں عوام کے مفادات کو بنیادی اہمیت دیتا ہے اور مختلف ممالک کے ساتھ متوازن اور مثبت تعلقات قائم کرنے پر زور دیتا ہے۔
عراقی وزیراعظم کے دفتر کے مطابق الزیدی شہریوں اور زائرین کی زندگیوں پر براہِ راست اثر انداز ہونے والے معاملات کے حل کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے اور فضائی و زمینی نقل و حمل کی راہ میں موجود رکاوٹیں دور کرنے کے لیے متعلقہ فریقوں کے ساتھ تعاون کیا جائے گا۔
آپ کا تبصرہ