اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے ایک بیان میں عراق کی اسلامی مزاحمت کے شہداء، بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے امریکی قابض افواج کے عراق سے انخلا پر اس ملک کی غیرت مند قوم، متحد اور طاقتور اسلامی مزاحمتی محاذ اور عالم اسلام کے مومن و انقلابی مجاہدین کو مبارک باد پیش کی۔
بیان کا متن درج ذیل ہے:
بسم اللہ الرحمن الرحیم
«وَلَقَدْ سَبَقَتْ کَلِمَتُنَا لِعِبَادِنَا الْمُرْسَلِینَ إِنَّهُمْ لَهُمُ الْمَنصُورُونَ»
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے عراق اور مغربی ایشیا کے مزاحمتی محاذ کے شہداء، بالخصوص سردار سپہبد شہید حاج قاسم سلیمانی اور شہید ابو مہدی المہندس، نیز ان تمام مومن مجاہدین کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، جو گزشتہ دو دہائیوں کے دوران امریکی جارحیت کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے شہید ہوئے، اس تاریخی فتح پر عراق کی غیرت مند قوم، متحد اسلامی مزاحمتی محاذ اور عالم اسلام کے انقلابی مجاہدین کو مبارک باد پیش کی۔
عراق سے امریکا کا انخلا اس ملک کی غیرت مند قوم کی اپنی آزادی پر ثابت قدمی کا نتیجہ ہے۔ عراقی قوم نے اپنی تاریخی مزاحمت سے ثابت کیا کہ قومی ارادہ، تسلط پسند طاقتوں کی من مانی کے مقابلے میں سب سے بڑا ہتھیار ہے۔ عراق کی سامراج مخالف مزاحمت کے ارادے کی امریکی قبضے پر فتح، خطے کی اقوام کی آزادی کی جدوجہد کی تاریخ میں ایک سنہری باب ہے۔
امریکی قابض افواج کا انخلا درحقیقت عراق کے پختہ عزم کی اس امریکا اور وائٹ ہاؤس کے ان حکمرانوں پر فتح ہے جو دہشت گردی اور جنگ کے حامی ہیں۔ امریکا ہمیشہ طاقت کی زبان بولتا رہا ہے، لیکن آج اسے اس سرزمین سے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہونا پڑا ہے جس پر اس نے دو دہائیوں تک قبضہ کیے رکھا۔
امریکا چلا گیا؛ نہ مذاکرات کے ذریعے، نہ کسی احسان کے تحت، بلکہ اس قوم کی ہمت کے باعث جو ڈٹ کر کھڑی رہی، ان مجاہدین کے خون کی بدولت جنہوں نے اپنی جانیں قربان کیں اور اس مزاحمت کے عزم سے جو کبھی نہیں ٹوٹا۔ اب عراق سربلند اور آزاد ہو کر 20 سالہ امریکی قبضے کے کھنڈرات پر کھڑا ہے اور آزادی کے طلوع ہونے کا نظارہ کر رہا ہے۔
بلاشبہ یہ مبارک اور تاریخی واقعہ عراق کے شہداء، بالخصوص شہید ابو مہدی المہندس کے خون کا بدلہ لینے کی پہلی کڑی ہے اور اللہ کے فضل سے ان عزیزوں کے خون کا انتقام خطے سے امریکا کے مکمل انخلا کے ساتھ مکمل ہوگا۔
امریکا کو خطے سے جانا ہوگا اور سلامتی کا انتظام خود عوام کے حوالے کرنا ہوگا۔ دو دہائیوں کے قبضے کے تجربے نے ثابت کیا کہ امریکا کی موجودگی نے نہ صرف سلامتی فراہم نہیں کی بلکہ خود مغربی ایشیا میں بدامنی، دہشت گردی اور عدم استحکام کا سبب بنی۔ امریکا نے 20 سال کی فوجی مداخلت کے بعد، اپنے بقول تقریباً 5 ہزار فوجیوں کی ہلاکت، جبکہ اصل تعداد اس سے مختلف ہے، اور 4 ہزار ارب ڈالر کے اخراجات کے ساتھ عراقی عوام کی شدید نفرت اور غصے کے ماحول میں عراق سے انخلا کیا۔ یہ اعداد و شمار امریکا کی بھاری اور رسوائی پر مبنی شکست کی عکاسی کرتے ہیں۔
عراق سے امریکی فوجیوں کا انخلا ایک بڑا اور تاریخی اہمیت کا حامل واقعہ اور محورِ مزاحمت کے لیے ایک عظیم کامیابی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عراق کی غیرت مند قوم اس مقدس جدوجہد کو جاری رکھتے ہوئے اپنی معیشت اور تیل کے شعبے میں امریکی مداخلت کا بھی خاتمہ کرے گی اور قومی اتحاد و ارادے کے ساتھ اپنے لیے روشن مستقبل رقم کرے گی۔ امریکا کبھی قابلِ اعتماد سہارا نہیں رہا اور نہ ہے؛ زمینی حقائق واضح کرتے ہیں کہ امریکا کو خطے سے جانا ہوگا اور یہ عوام ہی ہیں جنہیں اپنے ممالک کی تعمیر کرنی ہے۔
یقینی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ عراق سے امریکا کا انخلا، پورے مغربی ایشیا اور عالم اسلام کے جغرافیے سے امریکی انخلا کی نوید ہے۔ یہ بڑی کامیابی عراق کے قومی ارادے، مزاحمتی قوتوں کی جدوجہد، عوامی حمایت اور اس ملک کی حکومت کے مؤثر اقدامات کا نتیجہ ہے۔
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے اپنے بیان کے اختتام پر عراق کی حکومت، عوام اور مزاحمتی قوتوں کی جانب سے اس مقدس سرزمین میں دوبارہ بدامنی اور عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے امریکا اور اس کے دشمنوں کی جانب سے ممکنہ سازشوں اور فتنوں کے مقابلے میں ہوشیاری اور بیداری برقرار رکھنے کی ضرورت پر زور دیا۔ سپاہ نے ایرانی قوم کے فرزند کی حیثیت سے دوٹوک اعلان کیا کہ وہ خطے کی حق پسند اور ظلم مخالف اقوام کے ساتھ مغربی ایشیا کو امریکی جارحیت کے باقی ماندہ عناصر اور بچوں کی قاتل و نسل پرست صیہونی حکومت کے وجود سے پاک کرنے کے لیے بدستور کھڑی ہے اور قدس شریف کی مکمل آزادی تک پیچھے نہیں ہٹے گی۔
«وَ لَنْ یَجْعَلَ اللَّهُ لِلْکَافِرِینَ عَلَی الْمُؤْمِنِینَ سَبِیلًا»
سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی
آپ کا تبصرہ