1 اکتوبر 2026 - 16:24
قطری وزیراعظم: نیتن یاہو جنگی مجرم ہے

قطری وزیراعظم نے کہا ہے کہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگی جرم ہے، جس کی ذمہ داری اسرائیلی وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے اور وہ جنگی مجرم ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، قطر کے وزیراعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمٰن آل ثانی نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ’’جنگی مجرم‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ خطے کی پیچیدہ صورتحال کے باوجود قطر سفارت کاری پر زور دیتا رہے گا اور امن کے قیام کے لیے ثالث کا کردار جاری رکھے گا۔

قطری وزیراعظم نے برطانوی میزبان اور صحافی پیرس مورگن کو انٹرویو دیتے ہوئے غزہ میں اسرائیل کی کارروائیوں کی نوعیت کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں کہا: غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ جنگی جرم ہے، جس کی ذمہ داری اسرائیلی وزیراعظم پر عائد ہوتی ہے اور وہ جنگی مجرم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو قطر پر حملہ کر کے رائے عامہ کو گمراہ کرنے اور جھوٹے حقائق کے ذریعے اسے غلط سمت میں لے جانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ وہ اپنی اور اپنی حکومت کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے بجائے دوسروں پر الزام عائد کرتے ہیں اور جو کچھ خود کر رہے ہیں، اس کا الزام بھی دوسروں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں۔

قطری وزیراعظم نے 2025 میں اسرائیل کی جانب سے دوحہ پر کیے گئے حملے کی ایک بار پھر مذمت کرتے ہوئے کہا: ہم پر ایسے وقت میں اسرائیل نے حملہ کیا جب ہم امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی تجویز کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے تھے۔ یہ اقدام ناقابل قبول اور قابل مذمت تھا۔ ثالثوں پر حملہ ایک خطرناک مثال ہے، جو تاریخ کی جنگوں کے دوران اس سے پہلے سامنے نہیں آئی۔ نیتن یاہو نے قطر پر حملہ کر کے سرخ لکیر عبور کی، جس طرح وہ اس سے پہلے بھی دیگر سرخ لکیریں عبور کر چکے ہیں۔

امریکا اور ایران کے درمیان ثالثی

آل ثانی نے امریکا اور ایران کے درمیان قطر کی ثالثی کے بارے میں کہا: ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں تاکہ امریکی حکومت کو مسئلے کے حل تک پہنچنے کے طریقہ کار کے بارے میں بہترین مشورہ دے سکیں اور یہی کام ہم ایرانیوں کے لیے بھی کر رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ قطر نے کئی مرتبہ جنگ کے نتائج کا اندازہ لگایا اور اس حوالے سے خبردار کیا تھا۔ یہ جنگ ایران اور خطے سے آگے بڑھ کر عالمی معیشت کو بھی متاثر کر رہی ہے۔

قطری وزیراعظم نے مزید انکشاف کیا کہ سرکاری ذرائع کے ذریعے مؤثر رابطے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں میں ایران کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔ صدر، وزیر خارجہ اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل، ایران کے نظام کی نمائندگی کرنے والے تین ادارے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha