اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے صیہونی ریاست کے وزیر اعظم کی خطے میں اشتعال انگیز موجودگی کی مذمت کی ہے۔
منگل کی شب جاری کیے گئے بیان میں ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، صیہونی ریاست کے بچوں کے قاتل اور جنگ پسند وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کے متحدہ عرب امارات کے دورے کی شدید مذمت کرتے ہوئے خطے میں قابض صیہونی ریاست کی موجودگی کے انتہائی خطرناک نتائج سے خبردار کرتا ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ایسے وقت میں جب مغربی ایشیا کا خطہ ایران کے خلاف صیہونی ریاست کی فوجی جارحیت اور اسلامی سرزمینوں، بالخصوص فلسطین اور لبنان میں قبضے اور نسل کشی میں اضافے کے باعث اپنی تاریخ کے انتہائی نازک اور حساس ادوار میں سے ایک سے گزر رہا ہے، ایسے شخص کی موجودگی انتہائی خطرناک اور تشویش ناک ہے جس کے ہاتھ لاکھوں بے گناہ انسانوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں اور جو بین الاقوامی عدالتوں کی جانب سے قانونی کارروائی کا سامنا کر رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ نے مزید کہا کہ صیہونی ریاست کی ایران اور خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ ثابت شدہ دشمنی اور عناد، نیز اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف اس کی بار بار کی دھمکیوں کے پیش نظر، خطے کے تمام ممالک کو ایسی موجودگی کے نتائج اور اثرات سے خبردار رہنا چاہیے جو خطے کے اجتماعی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ علاقائی سلامتی ایک اجتماعی اور ناقابلِ تقسیم معاملہ ہے اور ہر ایسی سرگرمی جو خطے میں امن و سلامتی کو خطرے میں ڈالنے والے عناصر کی آمد کی راہ ہموار کرے، بالآخر خطے کے تمام ممالک کے لیے نقصان دہ ہوگی اور مغربی ایشیا میں تقسیم، مزید بدامنی اور عدم استحکام کا باعث بنے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے کہا کہ اسی بنیاد پر خطے کی حکومتوں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ علاقائی امن و استحکام کے حوالے سے اپنی ذمہ داری کو سمجھتے ہوئے صیہونی ریاست کی تخریبی موجودگی کے لیے راستہ ہموار کرنے سے گریز کریں اور اسے خطے کے ایک ملک کے خلاف دوسرے علاقائی ممالک کے خلاف عدم استحکام پیدا کرنے والی کارروائیوں کے لیے استعمال ہونے کی اجازت نہ دیں۔
آپ کا تبصرہ