30 ستمبر 2026 - 16:33
نیوجرسی میں مسجد کی تعمیر کے لیے پانچ سال سے کوشاں مسلمان عدالت پہنچ گئے

امریکی ریاست نیوجرسی میں مسلمانوں نے مسجد کی تعمیر کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد مقامی حکام کے خلاف مذہبی امتیاز اور اسلام مخالف دباؤ کے سامنے جھکنے کے الزام میں عدالت سے رجوع کرلیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، نیوجرسی کے مسلم مرکز نے امریکی ریاست نیوجرسی کے مارلبورو ٹاؤن شپ کے حکام کے خلاف مسجد کی تعمیر کی درخواست مسترد کیے جانے پر مقدمہ دائر کیا ہے۔ مرکز نے کہا ہے کہ اس درخواست کی پانچ سالہ جانچ پڑتال کا عمل مذہبی امتیاز اور اسلام مخالف دباؤ کے ساتھ آگے بڑھا۔ یہ مقدمہ گزشتہ روز، منگل کو نیوجرسی کی وفاقی ضلعی عدالت میں دائر کیا گیا۔

پانچ سال کی تاخیر اور آخرکار مسجد کی درخواست مسترد

مقدمے کے متن کے مطابق، مارلبورو کی مسلم کمیونٹی 2021 سے پانچ ایکڑ اراضی پر مسجد کی تعمیر کے لیے کوشش کر رہی تھی اور اس دوران اس نے زوننگ بورڈ کی درخواست پر اپنے منصوبے میں کئی بار تبدیلیاں کیں، جن میں عمارت کی گنجائش اور پارکنگ کی جگہ سے متعلق ترامیم بھی شامل تھیں۔ تاہم درخواست کی جانچ کے لیے ہونے والے اجلاس کئی بار منسوخ یا ملتوی کیے گئے اور زوننگ بورڈ نے جون 2026 میں مسجد کی تعمیر کی مخالفت کردی۔

مدعیان کا کہنا ہے کہ درخواست کی سماعت کے دوران اور سوشل میڈیا پر مسجد کی تعمیر کے منصوبے کے خلاف اسلام مخالف بیانات دیے گئے، جبکہ سٹی کونسل کے بعض ارکان نے بھی اپنی انتخابی سرگرمیوں کے دوران مسجد کی تعمیر کی مخالفت کی تھی۔ مقدمے کے مطابق، مخالفت کے اس ماحول نے بالآخر زوننگ بورڈ کے فیصلے کے عمل کو متاثر کیا، جس سے متعلق بیانات پر اب وفاقی عدالت میں سماعت ہوگی۔

مارلبورو کے مسلمان اب بھی مسجد سے محروم

نیوجرسی مسلم مرکز کے سربراہ محمد طاہر نے کہا کہ علاقے کی مسلم کمیونٹی دوسرے رہائشیوں کے برابر سلوک اور عبادت کے لیے ایک مستقل جگہ کی خواہاں ہے۔ انہوں نے بتایا کہ مارلبورو کے تقریباً 300 مسلمان جنوری 2024 سے ایک سابق فائر اسٹیشن میں نماز جمعہ ادا کر رہے ہیں، تاہم جگہ اور وقت کی محدودیت کے باعث مزید سماجی سرگرمیوں اور اجتماعات کے انعقاد کے امکانات محدود ہیں۔

مارلبورو کے سرکاری ریکارڈ میں بھی 449 ٹیننٹ روڈ پر مسجد کی تعمیر کی درخواست درج ہے۔ پیش کیے گئے منصوبے میں تقریباً 13 ہزار 127 مربع فٹ رقبے پر مسجد اور 107 پارکنگ کی جگہیں شامل تھیں۔ اس درخواست پر 2026 میں زوننگ بورڈ کے خصوصی اجلاسوں میں غور کیا گیا۔

مسلمان وکلا: عبادت کا حق عدالت تک نہیں پہنچنا چاہیے

ایشیائی امریکیوں کے قانونی دفاع اور تعلیم کے فنڈ کی وکیل روناک پٹیل، جو مسلم مرکز کی نمائندگی کر رہی ہیں، نے کہا کہ نیوجرسی میں اس درخواست کی جانچ کا عمل ایسے طریقہ کار کی مثال ہے جس میں مساجد کی تعمیر کی درخواستوں کو طویل تاخیر اور خصوصی نگرانی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بالآخر مسلم کمیونٹی کو اپنے حقوق کے دفاع کے لیے عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ اس قانونی ادارے اور OTM Law نے مدعیان کی وکالت کی ذمہ داری سنبھالی ہے۔

وفاقی عدالت میں دائر مقدمے میں مسجد کی درخواست مسترد کیے جانے کو مسلمانوں کے قانونی اور آئینی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیا گیا ہے اور مذہبی آزادی اور مذہبی استعمال کے لیے زمین کے استعمال کے تحفظ سے متعلق امریکی قوانین، بشمول ’’مذہبی زمین کے استعمال اور ادارہ جاتی افراد کا قانون‘‘ (RLUIPA)، کا حوالہ دیا گیا ہے۔ مدعیان نے زوننگ بورڈ کا فیصلہ منسوخ کرنے، مسجد کی تعمیر کے عمل کو جاری رکھنے کی اجازت دینے اور ہرجانے کی ادائیگی کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مقدمہ ایسے وقت میں دائر کیا گیا ہے جب نیوجرسی میں مسجد کی تعمیر کے حوالے سے دیگر تنازعات بھی سامنے آچکے ہیں۔ امریکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق، 2025 میں سیرویل شہر کی ایک مسجد نے بھی منصوبہ بندی بورڈ کی جانب سے تعمیراتی منصوبہ مسترد کیے جانے کے بعد مقامی حکام کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ اسی طرح 2011 میں بریج واٹر ٹاؤن شپ کو ایک قانونی مقدمے کے بعد 50 لاکھ ڈالر ادا کرنے اور مسجد کی تعمیر کا موقع فراہم کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha