اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لندن میں مسلمانوں کے ایک گروپ نے ذہنی امراض کے اسپتالوں میں زیرعلاج مسلمان مریضوں کی روحانی مدد کے لیے رضاکارانہ مہم شروع کرتے ہوئے 80 سے زائد خصوصی پیکجز مریضوں میں تقسیم کیے۔ ان پیکجز میں قرآن مجید کا انگریزی ترجمہ، دعاؤں کا مجموعہ، جائے نماز، تسبیح اور وضو کے لیے ٹوٹنے سے محفوظ برتن شامل تھے۔
یہ مہم رضاکارانہ تحریک ’’مسلمانوں کے زیستہ تجربات کا نیٹ ورک‘‘ (MLXN) کی جانب سے شروع کی گئی ہے۔ اس تنظیم کی شریک بانی سارہ الشماری نے بعض مسلمان مریضوں کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہیں بعض اوقات وضو کے لیے دودھ کے پیکٹ استعمال کرنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔ ان کے مطابق، عطیہ کیے گئے پیکجز علاج کے دوران مریضوں کے وقار کو برقرار رکھنے اور انہیں مذہبی عبادات کی ادائیگی کا موقع فراہم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
الشماری، جو اس سے قبل ایک ذہنی امراض کے اسپتال میں کام کر چکی ہیں، نے بتایا کہ اس مہم کا خیال اسپتالوں میں سیکولر امدادی گروپوں اور مسیحی رضاکاروں کی سرگرمیاں دیکھنے کے بعد آیا، جبکہ مسلمان مریضوں کو ان کی مذہبی ضروریات کے مطابق مناسب مدد حاصل نہیں تھی۔ ان کے بقول، ذہنی امراض کے مراکز میں مسلمانوں کی قابل ذکر تعداد بھی اس ضرورت پر توجہ دینے کی اہمیت کو ظاہر کرتی تھی۔
MLXN کے رضاکاروں میں ایسے افراد بھی شامل ہیں جو خود ذہنی بیماری کا سامنا کرچکے ہیں اور علاج کا تجربہ رکھتے ہیں۔ تربیتی کورس مکمل کرنے کے بعد یہ افراد ’’ہم مرتبہ مشیر‘‘ کی حیثیت سے مریضوں سے رابطہ کرتے ہیں۔ ’’آیا‘‘ نامی ایک مشیر نے مسلمانوں کی شناخت میں ایمان کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ بیماری کے دوران انہیں ایک ایسے مسلمان سے بات کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی جو دینی تعلیمات سے واقف ہو اور روحانی طور پر مدد کرسکے۔
اس مہم کے رضاکار اسپتالوں میں جاکر مسلمان مریضوں سے گفتگو کرتے ہیں اور علاج کے دوران ان میں تنہائی اور نظرانداز کیے جانے کے احساس کو کم کرنے اور زیادہ مثبت ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ منتظمین کا کہنا ہے کہ یہ مدد طبی علاج کا متبادل نہیں، تاہم ڈاکٹروں کی فراہم کردہ خصوصی طبی خدمات کے ساتھ یہ مریضوں کے حوصلے اور روحانی مدد کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ