اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق آج ایک نئے سکیورٹی اور سیاسی مرحلے میں داخل ہو رہا ہے، جو غیر ملکی جنگی دستوں کے انخلا کی تکمیل اور امریکی اتحاد کے فوجی مشن کے خاتمے کے ساتھ شروع ہو رہا ہے۔ عراقی حکومت اس اقدام کو ملک کی خودمختاری کی بحالی اور آزادانہ فیصلے کا اختیار دوبارہ حاصل کرنے کی جانب ایک قدم قرار دے رہی ہے۔
لبنانی اخبار ’’الاخبار‘‘ کی رپورٹ کے مطابق، عراقی حکومت کی جانب سے سکیورٹی کی ذمہ داری مکمل طور پر سنبھالنے کی تیاری اور اس بات پر زور دینے کے باوجود کہ گزشتہ برسوں کے دوران امریکی اتحاد کا عملی کردار بڑی حد تک فضائی معاونت، معلومات کے تبادلے اور انٹیلی جنس ڈیٹا کی فراہمی اور تربیت تک محدود رہا، حقیقت یہ ہے کہ ناقدین کے مطابق امریکا نے عراقی فضائی حدود کے تحفظ پر توجہ نہیں دی، بلکہ ایران پر صیہونی حکومت کی جارحیت کے دوران اپنی فضائی حدود پر گرفت کو صیہونی طیاروں کے لیے راستہ کھلا رکھنے کے لیے استعمال کیا۔ اس کے علاوہ امریکا ترکی کی فوجی دراندازیوں سے عراق کا تحفظ نہیں کر سکا اور خود بھی متعدد مواقع پر حشد الشعبی کے ٹھکانوں پر حملوں میں شریک رہا، جو عراق کی سرکاری افواج کا حصہ ہے۔
عراقی فورسز نئے مرحلے کے لیے تیار
عراقی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کے ترجمان ’’صباح النعمان‘‘ نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراقی فورسز نے نئے مرحلے کے لیے تعیناتی اور تیاری کے اپنے منصوبے مکمل کر لیے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہ منتقلی اتحاد کے زیرِ سایہ سرگرمیوں سے برابری اور شراکت داری پر مبنی تعلقات کی جانب ہوگی۔
النعمان کے مطابق، سکیورٹی منصوبے مختلف اداروں کی شراکت سے تیار کیے گئے ہیں اور ساتھ ہی انسانی، فنی اور دفاعی صلاحیتوں کو فروغ دینے کے لیے بھی منصوبے بنائے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وہ موجودہ حالات میں داعش کو عراق کی سکیورٹی کے لیے فوری خطرہ نہیں سمجھتے۔ انہوں نے مختلف ممالک اور کمپنیوں کے ساتھ ایسے معاہدوں اور سمجھوتوں کی خبر دی جن کے ذریعے عراق کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کیے جائیں گے۔ ان کے مطابق یہ اقدامات عراق کو اپنی فضائی حدود اور قومی خودمختاری کے تحفظ میں مدد دیں گے۔
یومِ خودمختاری؛ لیکن امریکی اثر و رسوخ برقرار
دوسری جانب ’’مرکز الغد برائے سیاسی مطالعات‘‘ کے سربراہ ’’علی عبدالرازق‘‘ کا خیال ہے کہ عراق کے سیاسی فیصلوں میں امریکی مداخلت کے سائے میں یومِ خودمختاری کا تصور اب بھی نامکمل ہے۔
انہوں نے اخبار ’’الاخبار‘‘ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عراقی حکومت نے محض اس دن کی تعطیل کا اعلان کرنے پر اکتفا کیا اور خودمختاری کی اصل حقیقت پر توجہ نہیں دی۔ ان کے مطابق خودمختاری اس وقت مکمل ہوگی جب عراق کی معیشت، تیل، وسائل اور امریکی فیڈرل ریزرو کے پاس موجود اثاثوں پر امریکی غلبہ ختم ہوگا۔
عبدالرازق کے مطابق امریکا اگرچہ اپنی جنگی افواج نکال چکا ہے، لیکن دوسرے راستے سے اقتصادی، سیاسی اور سکیورٹی ذرائع کے ذریعے دوبارہ داخل ہو رہا ہے۔ ان کے بقول یہ صورتحال عراق کو اب بھی امریکی سرپرستی میں رکھتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ امریکی اثر و رسوخ کا دائرہ واشنگٹن کے عراق کے سیاسی گروہوں اور دھڑوں کے ساتھ تعلقات کے علاوہ بغداد میں امریکی سفارت خانے کے کردار تک پھیلا ہوا ہے، جسے وہ جاسوسی کے مرکز کے طور پر بیان کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ان کے مطابق امریکا کی جانب سے سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے اور عراق کی سرزمین سے ایران پر حملے کے ذریعے دہشت گردی بھی جاری ہے۔
غیر ملکی فوجوں کا انخلا اور اس کے بعد کے سوالات
دوسری جانب عراقی پارلیمنٹ کے رکن ’’ثائر الکعبی‘‘ نے اس انخلا کو باعثِ فخر اور سربلندی اور عراقی فورسز پر اعتماد کی علامت قرار دیا۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت یہ پیغام دیتی ہے کہ عراق غیر ملکی مداخلت سے نکل چکا ہے اور اب اسے غیر ملکی فوجوں کی ضرورت نہیں۔
تاہم سیاسی امور کے محقق ’’عباس العلی‘‘ کا خیال ہے کہ عراق سے غیر ملکی فوجوں کے انخلا کے بعد کا مرحلہ متعدد سکیورٹی اور سیاسی سوالات اپنے ساتھ لائے گا۔ ان میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ امریکیوں کے ساتھ مستقبل کے معاہدوں کی نوعیت کیا ہوگی اور آیا امریکی فوج یا مشاورتی ٹیمیں اب بھی عراق میں موجود رہیں گی یا نہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ عراق کی صلاحیتوں کو بالخصوص فضائی دفاع اور سرحدوں کی نگرانی کے شعبوں میں فروغ دینا مستقبل کے مرحلے میں عراقی حکومت کی اہم ضروریات میں شامل ہوگا۔
مزاحمتی گروہوں کا بغداد حکومت پر دباؤ
یہ شکوک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مزاحمتی گروہوں نے عراقی حکومت کے لیے اپنے مؤقف اور انتباہات میں اضافہ کر دیا ہے۔
اگرچہ یہ گروہ امریکی مشن کے خاتمے کو خودمختاری کی تکمیل کی جانب ایک قدم قرار دیتے ہیں، تاہم ساتھ ہی وہ عراقی حکومت کو ایک اور امتحان میں ڈال رہے ہیں۔ یہ امتحان امریکی پابندیوں سے متعلق معاملات میں حکومت کے فیصلوں کی آزادی سے متعلق ہے۔
اسی تناظر میں کتائب حزب اللہ کے سکیورٹی ذمہ دار اور ترجمان ’’ابومجاہد العساف‘‘ نے دھمکی دی ہے کہ اگر حکومت ’’علی الزیدی‘‘ نے عوام کے مفاد میں کام نہ کیا تو وہ اس حکومت کو گرا دیں گے۔ انہوں نے ان ممالک کے ساتھ سرحدی گزرگاہیں بند کرنے کی بھی دھمکی دی ہے جو ایران پر عائد فضائی محاصرے میں شریک ہیں۔
انہوں نے یکم اکتوبر کے بعد عراقی فضائی حدود کی نگرانی کیے جانے کی بھی خبر دی اور دشمن طیاروں کی آمدورفت کے بارے میں خبردار کیا۔
دوسری جانب تحریک نجباء کے سیکریٹری جنرل ’’اکرم الکعبی‘‘ نے دھمکی دی ہے کہ اگر عراق اور ایران کے درمیان پروازوں کا سلسلہ ماضی کی معمول کی صورتحال پر بحال نہ ہوا تو وہ عراق کے ہوائی اڈوں پر دھرنا دیں گے۔
امریکی پابندیاں اور ایران کی پروازوں کی بندش
عراق نے گزشتہ دنوں نئی امریکی پابندیوں کے ردعمل میں ایرانی پروازیں اپنے ہوائی اڈوں پر روک دیں۔ اس اقدام کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے درمیان فضائی آمدورفت رک گئی۔
اس کے بعد نجف کے لیے دی گئی رعایت نے اس محاذ آرائی کی حدود واضح کر دیں۔ امریکی وزارت خزانہ نے عراقی ایئرلائن کو نجف ایئرپورٹ کے ذریعے عراق اور ایران کے درمیان مسافر پروازیں چلانے کی اجازت دے دی۔ تاہم یہ اجازت سخت شرائط کے ساتھ دی گئی ہے اور اس کی مدت آئندہ 28 اکتوبر تک یا مجاز لین دین مکمل ہونے تک برقرار رہے گی۔
مزاحمتی گروہوں کے نزدیک خودمختاری کا وسیع تر تصور
پابندیوں کے معاملے کے ساتھ ساتھ مزاحمتی گروہوں کے قریب سمجھے جانے والے ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے نزدیک خودمختاری کا مفہوم صرف امریکی فوجوں کے انخلا تک محدود نہیں، بلکہ عراق میں ترکی سمیت تمام غیر ملکی فوجی موجودگی کا خاتمہ اور اقتصادی فیصلوں پر کسی بھی غیر ملکی غلبے کو مسترد کرنا بھی اس میں شامل ہے۔
اس بنیاد پر عراقی حکومت کو درپیش چیلنج یہ ہے کہ وہ خودمختاری کے نعرے کو ملک کی سرزمین اور فضائی حدود کے حقیقی تحفظ کی صلاحیت میں تبدیل کرے۔
اسی دوران امریکی پابندیوں کے نفاذ اور عراق پر دباؤ ڈالنے کے لیے اقتصادی ذرائع کے استعمال کا سلسلہ جاری رہنے سے اس ملک کی جانب سے اپنے وسائل، اثاثوں اور اقتصادی فیصلوں پر کنٹرول کی صلاحیت کی حدود کے بارے میں بھی سنجیدہ سوالات اٹھ رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ