اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، افغانستان صحافیوں کے مرکز نے عالمی یومِ معلومات تک رسائی کے موقع پر خبردار کیا ہے کہ طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان میں معلومات تک رسائی کے حق کو بے مثال دباؤ کا سامنا ہے اور یہ حق عملاً ختم ہوچکا ہے۔
مرکز نے گزشتہ روز پیر 6 میزان کو جاری کیے گئے ایک بیان میں کہا کہ یونیسکو نے 2015 میں 28 ستمبر کو عالمی یومِ معلومات تک رسائی کے طور پر تسلیم کیا تھا تاکہ اس حق کی قانونی ضمانت اور شہریوں کی معلومات تک عملی رسائی کے دو اصولوں پر زور دیا جاسکے۔ تاہم طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان اس کے بالکل برعکس سمت میں آگے بڑھ رہا ہے۔
افغانستان صحافیوں کے مرکز کے مطابق، طالبان کے اگست 2021 میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک آزادی اظہار اور میڈیا کی سرگرمیوں کے خلاف کم از کم 24 پابندیوں پر مبنی ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ یہ ہدایات افغانستان کے ذرائع ابلاغ کے قانون اور معلومات تک رسائی کے قانون سے واضح طور پر متصادم ہیں۔
مرکز نے تاکید کی: "افغان عوام آج جنگ کی وجہ سے نہیں بلکہ ایک باقاعدہ اور دانستہ پالیسی کے باعث معلومات کے حوالے سے مکمل تاریکی میں زندگی گزار رہے ہیں۔ طالبان حکومت نے جاننے کے حق کے خلاف اپنی جنگ کا اعلان کردیا ہے؛ ایسی جنگ جس نے صحافیوں کو خاموش، عوام کی ضروری معلومات تک رسائی کو شدید محدود اور عوام کے بنیادی حقِ آگاہی کو سلب کردیا ہے۔"
اس مرکز کی دستاویزات سے ظاہر ہوتا ہے کہ امر بالمعروف و نہی عن المنکر قانون کے نفاذ کے بعد پابندیوں میں منظم طور پر اضافہ ہوا ہے۔ ان پابندیوں میں احتجاجی مظاہروں کی کوریج پر پابندی، اشاعت سے قبل سنسرشپ، بین الاقوامی ٹیلی ویژن چینلز کے پروگرام دوبارہ نشر کرنے پر پابندی، میڈیا سے خواتین کا اخراج، جانداروں کی تصاویر نشر کرنے پر عائد پابندی کا 25 صوبوں تک پھیلاؤ، جس کے نتیجے میں درجنوں ٹیلی ویژن چینلز بند ہوئے، اسمارٹ فونز کے استعمال پر پابندی اور آزاد صحافت کو جرم قرار دینا شامل ہیں۔
افغانستان صحافیوں کے مرکز نے طالبان سے مطالبہ کیا کہ میڈیا قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے تمام غیر قانونی احکامات اور ہدایات منسوخ کیے جائیں، سنسرشپ اور صحافیوں کی گرفتاری کا سلسلہ ختم کیا جائے۔ مرکز نے عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا کہ آزاد میڈیا اور خطرات سے دوچار صحافیوں کے لیے اپنی عملی حمایت میں اضافہ کرے۔
آپ کا تبصرہ