اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق ڈاکٹر مجدی وھبہ الشافعی نے قرآنی آیات کے حوالے سے ثابت کردیا ہے کہ ائمہ علیہم السلام کی تعداد 12 ہے اور وہ سب معصوم عن الخطا ہیں اور امامت کا سلسلہ امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے شروع ہوکر قائم آل محمد مہدی آخرالزمان علیہ السلام پر مکمل ہوجاتا ہے اور یہ کہ معصومین (ع) کی تعداد 14 ہے۔
ایک مصری جریدے "روز الیوسف" نے یہ رپورٹ نشر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ظاہر ہے کہ قرآن میں ہر لفظ کی تعداد کا خاص فلسفہ ہوتا ہے جیسے "یوم" کا لفظ 365 مرتبہ ذکر ہوا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ سال میں 365 دن ہیں یا "شہر = مہینہ" کا لفظ 12 مرتبہ آیا اور سال میں 12 مہینے ہیں چنانچہ قرآن میں امام کا لفظ مفرد یا جمع کی صورت میں 12 مرتبہ ایا ہے جس سے ائمہ (ع) کی تعداد ظاہر ہوتی ہے جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا کہ "اماموں کی تعداد 12 ہے، امام علی، امام حسن مجتبی اور امام حسین علیہم السلام پہلی تین امام ہیں اور باقی 9 ائمہ (ع) امام حسین علیہ السلام کی نسل سے آئے ہیں۔
مذکورہ آیات شریفہ :
1- سورة البقرة، الآية 124: {وَإِذِ ابْتَلَى إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَاماً قَالَ وَمِن ذُرِّيَّتِي قَالَ لاَ يَنَالُ عَهْدِي الظَّالِمِين}.
2- سورة التوبة، الآية 12: {وَإِن نَّكَثُواْ أَيْمَانَهُم مِّن بَعْدِ عَهْدِهِمْ وَطَعَنُواْ فِي دِينِكُمْ فَقَاتِلُواْ أَئِمَّةَ الْكُفْرِ إِنَّهُمْ لاَ أَيْمَانَ لَهُمْ لَعَلَّهُمْ يَنتَهُونَ}.
3- سورة هود، الآية17: {أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إَمَاماً وَرَحْمَةً أُوْلَـئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلاَ تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَـكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لاَ يُؤْمِنُونَ }.
4- سورة الاسراء، الآية70: {يَوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ فَمَنْ أُوتِيَ كِتَابَهُ بِيَمِينِهِ فَأُوْلَـئِكَ يَقْرَؤُونَ كِتَابَهُمْ وَلاَ يُظْلَمُونَ فَتِيلا}.
5- سورة الانبياء، الآية 72: {وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلاةِ وَإِيتَاء الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِين}.
6- سورة القصص، الآية 5: {وَنُرِيدُ أَن نَّمُنَّ عَلَى الَّذِينَ اسْتُضْعِفُوا فِي الاَرْضِ وَنَجْعَلَهُمْ أَئِمَّةً وَنَجْعَلَهُمُ الْوَارِثِين}.
7- سورة الحجر، الآية 79: {فَانتَقَمْنَا مِنْهُمْ وَإِنَّهُمَا لَبِإِمَامٍ مُّبِينٍ }.
8- سورة السجدة، الآية 24: {وَجَعَلْنَا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوا وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يُوقِنُون}.
9- سورة يس، الآية 12: {إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي الْمَوْتَى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوا وَآثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ أحْصَيْنَاهُ فِي إِمَامٍ مُبِينٍ }.
10- سورة القصص، الآية 41: {وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لا يُنصَرُون}.
11- سورة الفرقان، الآية 74: {وَالَّذِينَ يَقُولُونَ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَاماً}.
12- سورة الأحقاف، الآية 12: {وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَاماً وَرَحْمَةً وَهَذَا كِتَابٌ مُّصَدِّقٌ لِّسَاناً عَرَبِيّاً لِّيُنذِرَ الَّذِينَ ظَلَمُوا وَبُشْرَى لِلْمُحْسِنِينَ}.
اصحاب کساء کون ہیں؟
بعض سلفی اور معاند علماء نے جس موضوع پر شبہہ وارد کرنے کی کوشش کی ہے اس کا تعلق اصحاب کساء سے ہے۔ وہ پنجتن پاک علیہم السلام کے علاوہ زوجات رسول اللہ (ص) کو بھی اصحاب کساء مین شامل کرنے کی کوشش کرتے ہیں حالانکہ شیعہ اور سنی علماء کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ اصحاب کساء وہی پانچ انوار قدسیہ یا پنجتن پاک (ع) ہیں۔
مسجد الازہر کے اس خطیب نے "حدیث کساء" کا بھی حوالہ دیا ہے جو صحاح اہل سنت میں موجود ہے اور ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کی سند سے حضرت رسول اللہ (ص) سے نقل ہوئی ہے. انھوں نے لکھا ہے کہ اصحاب کساء آیت تطہیر کے مصادیق اور محمد و علی و فاطمہ و حسن و حسین علیہم الصلواة و علیہم السلام ہیں.
انهوں نے لکھا ہے کہ کساء کا ماده قرآن میں پانچ مرتبہ ذکر ہوا ہے: