28 ستمبر 2026 - 16:29
نیویارک ٹائمز: ایران جنگ پر بعض ری پبلکن ٹرمپ سے دور ہونے لگے

ایران کے خلاف جنگ کے باعث ایندھن کی قیمتوں میں اضافے اور بڑھتے معاشی دباؤ کے ساتھ امریکہ میں اہم انتخابی مقابلوں میں شامل بعض ری پبلکن امیدواروں نے جنگ جاری رکھنے کے معاملے پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے مختلف مؤقف اختیار کرنا شروع کر دیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی اخبار نیویارک ٹائمز نے ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے پر بعض ری پبلکن امیدواروں اور رہنماؤں کی تنقید میں اضافہ ہوا ہے۔ اخبار کے مطابق وسط مدتی انتخابات قریب آنے اور جنگ کے معاشی اخراجات بڑھنے کے ساتھ بعض ری پبلکن، جو پہلے اس جنگ کی حمایت کر رہے تھے، اب جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

جنگ کے بڑھتے اخراجات اور ری پبلکنز پر دباؤ

نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے حالیہ دنوں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں ایران کے خلاف جنگ میں شدت آنے کے امکان کا ذکر کیا، تاہم اہم انتخابی مقابلوں میں شامل بعض ری پبلکن امیدوار اس پالیسی سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں۔ اخبار نے پٹرول، ڈیزل اور گھروں کو گرم رکھنے والے ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ رہائشی قرضوں کی شرح سود میں اضافے کو جنگ جاری رہنے کے معاشی اثرات میں شمار کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق ریاست آئیووا سے سینیٹ کی ری پبلکن امیدوار ایشلی ہنسن نے جنگ کے فوری خاتمے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اخراجات میں اضافے سے وہ شدید مایوس ہیں۔ ریاست مشی گن سے سینیٹ کے ری پبلکن امیدوار مائیک راجرز، جو پہلے جنگ کے حامیوں میں شامل تھے، نے بھی اپنی انتخابی مہم کے ایک اشتہار میں کہا ہے کہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔ نیبراسکا میں برینکر ہارڈنگ اور ری پبلکن سینیٹر جان ہوسٹڈ نے بھی جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

انتخابات سے قبل ٹرمپ سے اختلاف

نیویارک ٹائمز نے وسط مدتی انتخابات قریب آنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ بہت سے ری پبلکن اب بھی ٹرمپ پر تنقید کرنے میں محتاط ہیں، کیونکہ انہیں خدشہ ہے کہ صدر کی مخالفت سے ری پبلکن ووٹروں کی حمایت کھو سکتے ہیں۔ تاہم اہم انتخابی مقابلوں میں شامل بعض امیدواروں نے ایران جنگ کو اپنی انتخابی مہم کا اہم مسئلہ بنا لیا ہے۔

اخبار نے مشی گن میں مائیک راجرز کے مؤقف میں تبدیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ انہوں نے مئی میں جنگ کو امریکیوں کے لیے ’’تین طرفہ فائدے‘‘ والی جنگ قرار دیا تھا، لیکن اب اپنے انتخابی اشتہار میں اشیائے خورونوش کی قیمتوں میں اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے جنگ ختم کرنے اور توانائی کے اخراجات کم کرنے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

تاہم نیویارک ٹائمز نے واضح کیا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے ساتھ توانائی کی قیمتوں میں فوری کمی کے حوالے سے راجرز کے مؤقف کو عام طور پر ماہرین معاشیات کی حمایت حاصل نہیں ہے۔

ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور معاشی دباؤ

رپورٹ کے مطابق ستمبر کے دوران پورے امریکہ میں ایک گیلن پٹرول کی قیمت میں تقریباً 40 سینٹ اضافہ ہوا اور یہ تقریباً 4.50 ڈالر فی گیلن تک پہنچ گئی۔ ڈیزل کی قیمت بھی بڑھ کر تقریباً 6.50 ڈالر فی گیلن ہوگئی ہے۔ اس صورتحال کے باعث نقل و حمل کے اخراجات بڑھ سکتے ہیں، جس سے اشیائے خورونوش اور دیگر سامان کی قیمتوں پر مزید دباؤ پڑ سکتا ہے۔

نیویارک ٹائمز نے رہائشی قرضوں کی شرح سود میں بھی اضافے کی اطلاع دی ہے، جو تقریباً 7 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

یہ صورتحال ایسے وقت میں ہے جب جنگ ابتدائی طور پر چار یا پانچ ہفتوں تک جاری رہنے کے وعدے کے برخلاف کئی ماہ سے جاری ہے اور آبنائے ہرمز میں طویل تعطل کا باعث بن چکی ہے۔ امریکی اخبار کا کہنا ہے کہ ری پبلکنز کئی ماہ سے اس جنگ کے نتائج کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور اب زندگی کے بڑھتے اخراجات انتخابی مقابلوں میں ایک اہم مسئلہ بن گئے ہیں۔

ری پبلکن پارٹی میں اختلاف، تاہم جنگ کی حمایت برقرار

بڑھتی ہوئی تنقید کے باوجود نیویارک ٹائمز نے زور دیا ہے کہ تمام ری پبلکن جنگ ختم کرنے کے حامی نہیں ہیں۔ شمالی کیرولائنا سے سینیٹ کے ری پبلکن امیدوار مائیکل واٹلی اب بھی جنگ کی حمایت کر رہے ہیں، جبکہ ٹیکساس سے سینیٹ کے ری پبلکن امیدوار کین پیکسٹن نے بھی ٹرمپ سے فاصلہ اختیار کرنے سے گریز کیا ہے۔

اخبار نے مزید لکھا ہے کہ ایوان نمائندگان میں ری پبلکن ارکان اب بھی بڑی اکثریت کے ساتھ جنگ جاری رکھنے کی حمایت کر رہے ہیں، تاہم بعض ری پبلکن ارکان، جن میں زیک نَن، میریانٹ میلر میکس، برائن فٹزپیٹرک اور ٹام بیریٹ شامل ہیں، نے حالیہ ووٹنگ میں جنگ ختم کرنے یا حکومت کو کانگریس سے واضح اجازت لینے کا پابند بنانے والی تجاویز کے حق میں ووٹ دیا ہے۔ سینیٹ میں بھی اسی نوعیت کی ایک قرارداد گزشتہ ہفتے مطلوبہ ووٹ حاصل نہیں کرسکی۔

دریں اثنا، نیویارک ٹائمز کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز ایران کی جانب سے جنگ بندی کی حالیہ پیشکش مسترد کردی۔ اس پیشکش میں آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے مذاکرات بحال کرنے کی تجویز شامل تھی۔

یہ مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ جنگ ختم کرنے کے لیے بعض ری پبلکنز کی جانب سے کیے جانے والے مطالبات کم از کم قلیل مدت میں امریکی حکومت کی پالیسی سے ہم آہنگ نہیں ہوئے۔

نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر ایک ری پبلکن اسٹریٹجسٹ کے حوالے سے ایران جنگ کی صورتحال کو اس جماعت کے امیدواروں کے لیے ’’ایک بڑا مسئلہ‘‘ قرار دیا اور لکھا کہ ری پبلکنز کو جنگ جاری رہنے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے معاشی اور سیاسی دباؤ کا سامنا ہے، جبکہ بعض امیدوار جنگ کے معاملے سے فاصلہ اختیار کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور بعض دیگر کھل کر جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha