27 ستمبر 2026 - 16:33
شہید سید حسن نصراللہ نے زندگی کی دہائیاں فلسطین اور القدس کے لیے وقف کیں

فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر ان کی خدمات کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں فلسطین اور القدس کے مقصد، مزاحمت اور صیہونی قبضے کے خلاف جدوجہد میں گزاریں۔ انہوں نے کہا کہ اس عظیم شہید رہنما کا نام فلسطینی عوام کی یادداشت اور فلسطین و القدس کے دفاع کرنے والوں کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی مزاحمت نے سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر جاری بیان میں ان کی یاد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا نام آج بھی مزاحمت اور آزادی کے حامیوں کے دلوں میں زندہ ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلسطینی مزاحمتی کمیٹیاں، فلسطینی عوام، عرب و اسلامی اقوام اور دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے ساتھ مل کر سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی منا رہی ہیں، جنہوں نے اپنی زندگی کی کئی دہائیاں فلسطین کے مقصد، مزاحمت اور صیہونی قبضے، تسلط اور استعمار کے منصوبوں کے خلاف جدوجہد کے لیے وقف کر دیں۔

فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے مزید کہا کہ سید حسن نصراللہ کی شہادت کو دو سال گزرنے کے باوجود ان کا نام مزاحمت اور آزادی کے حامیوں کے درمیان زندہ ہے اور فلسطین و القدس آج بھی ان مسائل میں سرفہرست ہیں جو ان کی گفتگو، مؤقف اور جدوجہد کے راستے سے جڑے ہوئے ہیں۔

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ نے اپنی جدوجہد کے دوران ایسی قیادت کی مثال پیش کی جس نے سیاسی کردار اور مزاحمت کے راستے کے درمیان مضبوط رشتہ قائم کیا اور فلسطین و القدس کو اپنے مؤقف کا مرکزی مسئلہ بنایا۔

فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے زور دے کر کہا کہ حزب اللہ کے سابق سیکرٹری جنرل نے فلسطین کے مسئلے کو اس کے عرب اور اسلامی ماحول سے الگ کرنے کی کوششوں کو مسترد کیا۔ ان کا اثر و رسوخ کسی ایک تنظیم یا مخصوص جغرافیے کی حدود تک محدود نہیں رہا بلکہ ان کا نام اسرائیل کے ساتھ تنازع اور فلسطین کے مسئلے سے متعلق خطے کی تبدیلیوں کی تاریخ کے ایک اہم دور سے جڑ گیا۔

بیان میں فلسطینی عوام کے خلاف جنگ، تباہی اور محاصرے کے جاری اثرات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ فلسطین کے ساتھ کھڑے ہونے والوں سے وفاداری صرف نعروں سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ ان شہداء کی وصیت کو زندہ رکھنے سے ثابت ہوتی ہے جنہوں نے القدس کی راہ میں اپنی جانیں اور خون قربان کیا اور زندگی کے آخری لمحات تک اپنے اصولی مؤقف پر قائم رہے۔

فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے بیان کے ایک اور حصے میں ان اقوام اور قوتوں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے فلسطینی عوام کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا: ’’ہم ان تمام اقوام اور قوتوں کو سلام پیش کرتے ہیں جو ہماری قوم کے ساتھ کھڑی رہیں اور ان تمام افراد کو بھی خراج تحسین پیش کرتے ہیں جو سیاسی، انسانی اور فوجی میدانوں میں غزہ کے ساتھ کھڑے ہوئے۔‘‘

فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر اس بات پر زور دیا کہ ’’فلسطین بدستور جدوجہد کا قبلہ نما اور القدس اتحاد کی علامت رہے گا۔‘‘

فلسطینی مزاحمتی کمیٹیوں نے مزید کہا کہ شہداء کا خون فلسطینی عوام کی قومی اور تاریخی یادداشت کا حصہ رہے گا اور سید حسن نصراللہ کا نام بھی ان عظیم رہنماؤں میں درج رہے گا جنہوں نے اپنی زندگی، گفتگو اور مؤقف کو فلسطین اور القدس کے مقصد سے جوڑے رکھا اور اسی راہ میں اپنی جان قربان کر دی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha