27 ستمبر 2026 - 16:24
سید شہدائے مزاحمت؛ شہداء کی امانت کے نگہبان

ایمان مصطفیٰ نے اپنے ایک مضمون میں سید حسن نصراللہ کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے لکھا ہے کہ وہ ایک غیر معمولی شخصیت تھے جن کی موجودگی لوگوں کے دلوں میں ہمیشہ زندہ رہے گی۔ ان کا سب سے اہم ورثہ شہداء کے خاندانوں اور شہید فاؤنڈیشن کی حمایت اور دیکھ بھال تھا، جسے انہوں نے ایسا عہد بنا دیا تھا جسے کبھی نہیں توڑا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا 

ایسی غیر معمولی شخصیات ہوتی ہیں جن کا اثر کسی عارضی لمحے تک محدود نہیں رہتا بلکہ وہ دلوں کی گہرائیوں میں اتر جاتی ہیں اور وہاں ہمیشہ کے لیے اپنا مقام بنا لیتی ہیں۔

سید الشہداء مقاومت، سید حسن نصراللہ کی طرح کس نے روحوں پر ایسا اثر چھوڑا ہے جسے وقت مٹا نہ سکے اور ان کی جدائی بھی ختم نہ کر سکے؟

شاید ان کی سب سے سچی میراث وہ حمایت تھی جسے انہوں نے شہید فاؤنڈیشن اور شہداء کے خاندانوں کے لیے ایک ناقابل شکست عہد میں تبدیل کر دیا تھا۔ وہ ان کے غم کو اپنی ذمہ داری کے تسلسل کے طور پر اپنے ساتھ رکھتے تھے اور ہر گھر میں ایک ایسی امانت دیکھتے تھے جسے ان کی عدم موجودگی بھی ختم نہیں کر سکتی تھی۔

وہ ان کے گھروں میں جاتے اور ان کے بچوں کی جدائی کا کچھ غم اپنے ساتھ لے آتے۔ وہ اس ماں کا حال پوچھتے جسے انتظار نے تھکا دیا تھا، اس باپ کا حال جانتے جو اپنا درد چھپاتا تھا اور اس بچے کو دیکھتے جو بڑا ہو چکا تھا اور اس کے ذہن میں ایک ایسے شخص کا چہرہ محفوظ تھا جو دوبارہ واپس نہیں آنا تھا۔

وہ محض ایک عارضی مہمان کی حیثیت سے ان گھروں میں داخل نہیں ہوتے تھے، بلکہ ان کی داستانوں میں شامل ہو جاتے تھے۔ وہ خالی جگہ کو محسوس کرتے اور ہر گھر میں اس سکون کا کچھ حصہ چھوڑ جاتے جو غائب شخص کی موجودگی کی طرح محسوس ہوتا تھا۔

وہ جانتے تھے کہ کسی شہید سے وفاداری صرف اس کے کارناموں کو یاد کرنے سے ثابت نہیں ہوتی بلکہ اس خاندان کی حمایت سے ظاہر ہوتی ہے جو اس کے بعد رہ گیا ہے۔ جب بھی اس خاندان پر اپنے عزیز کی جدائی کا غم بھاری ہو، اس وقت ان کی طرف مدد کا ہاتھ بڑھانا ضروری ہے۔

انہیں معلوم تھا کہ شہادت قریب ہے۔ چنانچہ انہوں نے ہر چیز کو الوداع کہا اور شہادت کے لیے خود کو تیار کیا۔ انہیں شہداء کے وہ خاندان یاد آئے جن سے وہ ملاقات کرتے تھے اور اپنی موجودگی سے انہیں سکون دیتے تھے۔ پھر انہوں نے اپنی روح کو اس شہادت کے لیے تیار کیا جس کے بارے میں وہ جانتے تھے کہ ان کا نام اور یاد کسی ایک جگہ تک محدود نہیں رہے گی۔

ان کی آخری اذان ان کی موجودگی کے اختتام کا اعلان نہیں تھی بلکہ وہی چیز پیچھے چھوڑنے کا پیغام تھی جو وہ شہداء کے ہر گھر میں داخل ہوتے وقت بویا کرتے تھے: زندگی، چاہے غم کتنا ہی بھاری ہو، عزت کے ساتھ جینے کے قابل ہے اور شہادت، چاہے خاندان کو کتنا ہی درد دے، ایسی عزت ہے جسے اس کے وارث ترک نہیں کرتے۔

شہداء کے خاندان سید حسن نصراللہ کے لیے محض ایک انتظامی فائل نہیں تھے۔ شہید فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر جنرل حاج اسماعیل عبید نے ’’العہد‘‘ سے گفتگو میں اس بات پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ خاندان ایک ایسی امانت ہیں جو شہادت کے لمحے سے شروع ہوتی ہے اور وقت گزرنے کے ساتھ مزید بڑی ہوتی جاتی ہے۔ سید حسن نصراللہ اصرار کرتے تھے کہ ذمہ داران شہداء کے خاندانوں کے حالات کے ہر پہلو، چاہے وہ عمومی ہو یا نجی، پر نظر رکھیں؛ شہادت کے لمحے سے لے کر ان کی تمام ضروریات پوری کرنے اور انہیں باعزت زندگی فراہم کرنے تک، جس کے وہ مستحق ہیں۔

عبید کے مطابق شہید فاؤنڈیشن ایک فعال ادارہ ہے جو پورے لبنان میں ایک وسیع ٹیم کے ذریعے شہداء کے خاندانوں کی خدمت کرتا ہے اور انہیں مکمل اور جامع معاونت فراہم کرتا ہے۔ سید حسن نصراللہ اس ادارے کے پروگراموں سے باخبر رہتے، اس کے کام کو سنجیدگی سے فالو کرتے اور ادارہ بھی اعداد و شمار اور معلومات پر مشتمل تفصیلی دورانیہ وار رپورٹس کے ذریعے تمام جزئیات ان تک پہنچاتا تھا۔

وہ شہداء کے خاندانوں کے لیے خصوصی ملاقاتوں کا اہتمام کرتے اور اصرار کرتے کہ مختلف مواقع، جیسے افطار کی محافل اور دیگر اسلامی مناسبتوں پر انہیں عزت و احترام دیا جائے۔

وہ ہر سال شہداء کے بچوں کی گریجویشن تقریب منعقد کرتے تاکہ ان کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کیا جا سکے اور ان کے خاندانوں سے وفاداری کا اظہار ہو۔ شہداء کے خاندانوں سے براہ راست ملاقاتیں ان کی جانب توجہ دینے کا ایک موقع ہوتی تھیں۔ سید ہاشم صفی الدین، سید حسن نصراللہ کی نمائندگی کرتے ہوئے، ان خاندانوں سے ملاقاتیں کرتے، ان کی باتیں اور آرا سنتے اور ان کی ضروریات کا جائزہ لیتے تاکہ سید حسن نصراللہ کی شہداء کے خاندانوں پر توجہ عملی اور مسلسل موجود رہے؛ صرف ان کی ضروریات پوری کرنے تک محدود نہ ہو بلکہ ان کی بات سننے اور ان کی زندگی میں شریک ہونے تک جاری رہے۔

شہداء کے بچوں کے بارے میں سید حسن نصراللہ کے فیصلے

عبید کے مطابق سید حسن نصراللہ کے شہداء کے بچوں کے بارے میں فیصلے امانت کے گہرے مفہوم سے جڑے ہوئے تھے۔ وہ انہیں اپنے شہید والدین کا تسلسل اور امت کے ذمے ایک امانت سمجھتے تھے، جس کے ذریعے ان کے خون سے وفاداری اور ان لوگوں کے لیے قدر دانی کا اظہار ہوتا ہے جنہوں نے اس مقصد کی راہ میں اپنی جانیں قربان کیں۔

ان کے اہم فیصلوں میں سے ایک یہ تھا کہ شہداء کے یتیم بچوں کی کفالت، جو پہلے مخصوص ناموں کے ساتھ انفرادی طور پر کی جاتی تھی اور اس کے نتیجے میں بچوں کے مالی وسائل میں فرق پیدا ہوتا تھا، اسے عمومی کفالت میں تبدیل کر دیا جائے جس میں سب شامل ہوں، تاکہ ان کے درمیان مالی مساوات برقرار رہے۔

عبید کے مطابق شہید کے نزدیک نام رکھنے کا بھی ایک خاص مفہوم تھا جو یاد اور نمونہ سازی سے جڑا ہوا تھا۔ شہداء کے بچوں کے لیے ’’یتیم‘‘ کا لفظ استعمال کرنے کا ان کا فیصلہ رسول خدا حضرت محمد (ص) کے یتیم ہونے کی نسبت سے تھا۔ گویا یہ نام صرف محرومی کی علامت نہیں بلکہ اس مقام کی یاد دہانی تھا جو آج کے یتیم کو دنیا کے سب سے عظیم یتیم کی سیرت سے جوڑتا ہے۔

سید حسن نصراللہ شہداء کے خاندانوں کے جذبات سے بہت متاثر ہوتے تھے، خصوصاً جب وہ سنتے کہ کوئی خاندان اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر ملنے پر کہتا ہے: ’’فدای سید‘‘۔ یہ جملہ ان کے لیے محض ایک گزر جانے والی بات نہیں تھا۔ وہ اس پر ٹھہر جاتے اور اس میں عظیم صبر، سچی وفاداری اور اپنے عزیز کی جدائی برداشت کرنے کی آمادگی دیکھتے تھے۔ وہ اپنے نجی اجتماعات میں بھی اور عوامی خطابات میں بھی شہداء کے خاندانوں کے لیے اپنی گہری محبت اور جذبات کو ظاہر کرتے تھے۔

یہاں تک کہ جب 1998ء میں انہیں اپنے بیٹے ہادی کی شہادت کی خبر ملی تو انہوں نے اپنے فخر اور اللہ کا شکر ادا کیا، کیونکہ اللہ نے ان کے خاندان پر نظر کرم فرمائی اور ان کے لیے شہادت کا انتخاب کیا۔

اور جب وہ خود ایک شہید کے والد بنے تو شہید کے والدین کے لیے مقرر مالی امداد کو اپنا ذاتی حق نہیں سمجھا بلکہ اسے اس خاندان کو واپس کر دیا جسے وہ اس کا زیادہ حقدار اور ضرورت مند سمجھتے تھے۔ انہوں نے ادارے کی انتظامیہ سے کہا کہ ان کے لیے مقرر ماہانہ رقم ایک ایسے شہید کے بڑے خاندان کو منتقل کر دی جائے جس کے گھر میں نو بچے اور ان کی والدہ تھیں۔

بظاہر سادہ مگر معنی کے اعتبار سے گہرے اس اقدام سے واضح ہوا کہ شہداء کے خاندانوں کے بارے میں ان کی باتیں ان کے عمل سے جدا نہیں تھیں۔ یہاں تک کہ جب وہ خود ایک شہید کے والد بن گئے تب بھی ان کا خیال تھا کہ شہادت کے ذریعے انہیں ملنے والی چیز ان لوگوں تک پہنچنی چاہیے جو اس کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔

شہداء کے خاندانوں کے درمیان ان کی موجودگی

عبید کے مطابق سید حسن نصراللہ سے ملاقات شہداء کے خاندانوں کے لیے ایک ایسا خواب تھی جس کا مفہوم محض ملاقات سے کہیں بڑھ کر تھا۔ ان کی موجودگی ان کے درمیان اس خلا کو پُر کرتی تھی جسے کوئی اور چیز پُر نہیں کر سکتی تھی۔ سید حسن نصراللہ اصرار کرتے تھے کہ جب سکیورٹی کی صورتحال اجازت دے تو وہ خود ان سے ملاقات کریں، ان کی خوشیوں اور غموں میں شریک ہوں اور ان لمحات میں ان کے ساتھ کھڑے ہوں جب انہیں سب سے زیادہ حمایت کی ضرورت ہو۔

جب سکیورٹی کی صورتحال تبدیل ہوئی اور انہیں ایسے حفاظتی ضوابط کی پابندی کرنا پڑی جو ان کی براہ راست موجودگی میں رکاوٹ بنتے تھے تو انہوں نے اس غیر حاضری کو فاصلے میں تبدیل نہیں ہونے دیا۔ وہ اپنے ساتھیوں کو اپنی نمائندگی میں خاندانوں سے ملاقات کے لیے بھیجتے، ان کی طرف سے تعزیت اور مبارک باد پیش کرتے اور انہیں بتاتے کہ ان کی حمایت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی، اگرچہ وہ خود موجود نہیں ہیں۔

ان کی موجودگی شہداء کے خاندانوں کے لیے بہت معنی رکھتی تھی۔ ان کے نزدیک وہ صرف ایک رہنما نہیں بلکہ روحانی باپ اور اس جہاد و مزاحمت کے راستے کے حامی تھے جس کی راہ میں ان کے بیٹوں نے اپنی جانیں قربان کر کے شہادت حاصل کی۔ یہ ایک ایسے خالص محمدی طریقے سے وفاداری تھی جس پر وہ ایمان رکھتے تھے اور جس کے لیے انہوں نے اپنی عزیز ترین متاع قربان کر دی تھی۔

سکیورٹی کے تقاضوں کے باعث ان کی مجالس سے ان کی غیر حاضری، ان کے راستے سے غیر حاضری نہیں تھی۔ شہداء کے گھرانے اپنے عہد پر قائم رہے اور ان میں جان و مال کی قربانی کا سلسلہ نہیں رکا، بلکہ خود خاندانوں کے اندر سے شہادت کا سلسلہ جاری رہا؛ ایسے بچے جو اپنے والدوں سے جا ملے، ایسے والد جو اپنے بچوں سے جا ملے اور ایسے بھائی جو ایک ہی گھر سے اٹھے، یہاں تک کہ بعض خاندان وفاداری کے مسلسل صفحات بن گئے، جہاں ایک نسل شہادت کا پرچم اگلی نسل کے سپرد کرتی رہی۔

عبید آخر میں کہتے ہیں: سید حسن نصراللہ کے انتقال کے ساتھ ادارے نے وہ شفقت بھری نگاہ کھو دی جس پر شہداء کے خاندانوں کو اعتماد تھا اور وہ دل بھی کھو دیا جس میں یہ سب خاندان سما جاتے تھے؛ ایسا دل جس میں ہر خاندان کے لیے ایک خصوصی مقام تھا۔ امانت کا حامل چلا گیا، لیکن امانت اس کے ساتھ نہیں گئی۔ ان کے بعد اس امانت کو ایک امین اور دیانت دار شخصیت نے اپنے کندھوں پر اٹھایا؛ حجت الاسلام والمسلمین شیخ نعیم قاسم اور حزب اللہ کے ان فرزندوں نے اپنے شہید والدین کے عہد کو محفوظ رکھا، تاکہ جہاد ان کے اندر ایک مسلسل عہد کی صورت میں باقی رہے جو مردوں کے چلے جانے سے ختم نہیں ہوتا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha