اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق روزنامہ الخلیج نے لکھا: احمدی نژاد نیویارک کے اجلاس میں ایک باکسر کی مانند حاضر ہوئے اور اپنے موٹے دستانے سے امریکہ کے منہ پر مکا مارا اور ایٹمی ہتھیاروں کے انبار لگا کر ایٹمی موناپولی اور انحصار پسندی قائم رکھنے والے ممالک ـ جو دوسرے ممالک کی طرف سے ایٹمی توانائی کے حصول کو برداشت نہیں کرتے ۔ کا مقابلہ کرنے کے لئے گیارہ تجاویز پیش کردیں۔الخلیج نے لکھا: احمدی نژاد کا خطاب ایک گھنٹے تک جاری رہا؛ امریکی، برطانوی اور فرانسیسی وفود نے واک آؤٹ کیا جبکہ دوسرے ممالک کے وفود نے مسلسل تالیوں سے ایرانی صدر کی تقریر کے ہر نکتے کا خیر مقدم کیا۔ روزنامے نے لکھا: ایرانی صدر نے اپنی تقریر کا ایک حصہ امریکہ اور اسرائیل اور ان کی مغربی حلیفوں پر نکتہ چینی کے لئے مختص کیا اور مشرق وسطی کے لئے صہیونی ریاست کے ایٹمی ذخیرے کے خطرات کی طرف اشارہ کیا جبکہ اس ریاست کو ایٹمی ہتھیار بنانے اور ایٹمی و روایتی ہتھیاروں کے انبار لگانے کے سلسلے میں امریکہ اور دیگر مغربی ممالک کی حمایت حاصل ہے اور اس ریاست کے ایٹمی ذخیرے میں سینکڑوں بم رکھے گئے ہیں۔ صدر احمدی نژاد نے بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی کی طرف سے ایٹمی ہتھیار نہ رکھنے والے ممالک کے خلاف قراردینے کے رویئے پر بھی تنقید کی۔ انھوں نے کہا کہ ایران پرامن ایٹمی توانائی اس لئے حاصل کرنا چاہتا ہے کہ اس کے اخراجات بہت کم اور عالمی ماحول کے لئے اس کے نقصانات نہ ہونے کے برابر ہیں جبکہ بہت سے ممالک ایٹمی ہتھیاروں کے ذخیرے تیار کررہے ہیں اور ان کے ممالک کی توسیع پسندی نے عالمی امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور اس اثناء میں بین الاقوامی ایٹمی ایجنسی بھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہوگئی ہے۔.........../110
17 جولائی 2010 - 19:30
News ID: 186994
امارات کے روزنامے الخلیج نے لکھا: ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے نظام پر نظر ثانی کرنے کا مطالبہ کرکے امریکہ کے منہ پر ایک اور مکا رسید کیا اور اجلاس کے شرکاء کی طرف سے ان کی تأئید کردی۔