17 جولائی 2010 - 19:30

کرسچین سائنس مانیٹر نے لکھا: اکثر ممالک نیوکلئیر منافقت پر مبنی پالیسی پر تنقید کرتے ہیں جبکہ ایران ہی اس منافقت کی مذمت کرتا رہا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق برطانیہ سے شائع ہونے والے روزنامے " کرسچین سائنس مانیٹر" نے اپنے پیر کے شمارے میں لکھا: این پی ٹی نظر ثانی کانفرنس میں محمود احمدی نژاد نے امریکہ کو وہ واحد ملک قرار دیا جس نے ایٹمی ہتھیار استعمال کئے ہیں اور وہ اس قسم کے ہتھیاروں کی توسیع کا سد باب کرنے کے حوالے سے اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام رہا ہے۔ایران نے جوہری منافقت اور دوہری جوہری پالیسیوں سے مسلسل شکوہ کرتا رہا ہے اور حتی بہت سے ممالک جن کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی نہیں ہیں ایران کی اس پالیسی کی حمایت کرتے ہیں۔ احمدی نژاد نے کہا کہ ایٹمی ہتھیار نہ صرف باعث فخر و مباہات نہیں ہیں بلکہ ان ممالک کے لئے باعث شرم ہیں جو ان ہتھیاروں کے مالک ہیں۔ اسرائیل کے پاس تقریبا 200 ایٹمی وارہیڈ ہیں لیکن اس نے ابھی تک این پی ٹی میں شمولیت اختیار نہیں کی ہے اور اس نے حتی کہ ان ہتھیاروں کے حصول کے لئے کوئی قیمت بھی ادا نہیں کی ہے!!!بھارت این پی ٹی کا رکن کے باوجود ایٹمی ہتھیار بنا چکا ہے اور اس نے پہلی بار 1974 میں ایٹمی دھماکے کئے ہیں اور سنہ 2008 میں امریکہ نے بھارت کے ساتھ جوہری تعاون کے معاہدے پر دستخط کردیئے اور اس طرح بھارت پر ایٹمی ہتھیاروں میں استعمال کرنے کے لئے یورینیم کے حصول پر لگی پابندی ختم ہوگئی۔ گذشتہ مہینے ایران جوہری اجلاس کا میزبان تھا جس سے ایک ہفتہ قبل واشنگٹن میں اسی طرح کا اجلاس منعقد ہوا تھا۔ آیت اللہ سید علی خامنہ ای نے اس اجلاس (کے لئے پیغام دے کر) کہا تھا کہ ایٹمی ہتھیاروں کا استعمال کرنے والے واحد ملک کی مکارانہ پالیسی غلطی سے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کی حمایت سے تعبیر کی گئی ہے جبکہ اس نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی بھی سنجیدہ اقدام نہیں کیا ہے۔ کرسچین سائنس مانیٹرنے لکھا ہے کہ تہران کے اجلاس میں شریک مندوبین نے بھی اسی موقف کو دہرایا اور اجلاس کے اختتامی اعلامیئے میں بھی اس نکتے پر تأکید ہوئی تھی کہ ایٹمی ہتھیاروں سے پاک مشرق وسطی کے قیام کے لئے اسرائیل کو بھی اپنے ایٹمی ہتھیار تلف کرکے این پی ٹی میں شمولیت اختیار کرنی پڑے گی۔ ............

/110