اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، میڈیا رپورٹس کے مطابق تقریباً 77 سفارتی وفود نیتن یاہو کی تقریر کے دوران ہال سے باہر چلے گئے، جس کے باعث بیشتر نشستیں خالی نظر آئیں۔ لبنان کے اخبار الاخبار کے مطابق، نیتن یاہو کے وفد کے ارکان اور ان کے ساتھ موجود بعض افراد نے عبرانی زبان میں اسرائیلی قوم زندہ ہے جیسے نعرے لگائے، تاہم یہ نعرے خالی نشستوں کو پُر نہ کرسکے۔
رپورٹس کے مطابق مراکش، متحدہ عرب امارات اور بحرین کے علاوہ بیشتر عرب وفود ہال سے باہر نکل گئے۔ آئرلینڈ اور اسپین سمیت بعض یورپی وفود نے بھی واک آؤٹ کیا۔ ایران، پاکستان، ترکیہ، انڈونیشیا، جنوبی افریقہ، سینیگال، برازیل، کولمبیا، کیوبا، چلی اور دیگر ممالک کے وفود بھی ہال سے باہر جانے والوں میں شامل تھے۔
گزشتہ سال بھی نیتن یاہو کی تقریر کے دوران متعدد وفود نے اسرائیلی پالیسیوں اور فلسطینیوں کے خلاف جنگ کے خلاف احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کیا تھا۔
نیتن یاہو کی آمد اور اقوام متحدہ میں تقریر سے قبل اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر کے اطراف فلسطین کے حامی مظاہرے کیے گئے۔ اس کے علاوہ درجنوں یہودی اور صہیونی مظاہرین نے بھی نیویارک کے یونین اسکوائر میں نیتن یاہو کے خلاف احتجاج کیا۔ عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت کے مطابق مظاہرین نے ایک زرد پلے کارڈ اٹھا رکھا تھا جس پر لکھا تھا:نیتن یاہو، تمہارا وقت ختم ہوچکا ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیتن یاہو اس مرتبہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات نہیں کرسکے، حالانکہ وہ ایسی ملاقات کے خواہاں تھے۔ نیتن یاہو کے دفتر کی جانب سے بھی اس حوالے سے امید ظاہر کی گئی تھی کہ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات کا موقع مل سکتا ہے۔
بین الاقوامی فوجداری عدالت نے 2024 میں غزہ جنگ سے متعلق جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات کے سلسلے میں نیتن یاہو کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ جاری کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، امریکا نے نیتن یاہو کو اقوام متحدہ کے اجلاس میں شرکت کی اجازت دی، جبکہ فلسطینی اتھارٹی کے صدر محمود عباس اور ان کے وفد کو مسلسل دوسری مرتبہ امریکا میں داخلے سے روک دیا گیا۔
نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کا بھی ذکر کیا اور ان پر اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے الزامات عائد کرنے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ ممدانی کے میئر منتخب ہونے کے بعد نیویارک میں بہت سے یہودی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں۔
ممدانی نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے اپنی تقریر میں ایسے الزامات کو دہرانے کی کوشش کی جو ان کے بقول فلسطینیوں کے خلاف کارروائیوں سے توجہ ہٹانے کے لیے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے گرفتاری وارنٹ کا بھی حوالہ دیا۔
ممدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک ویڈیو بھی جاری کی جس میں وہ غزہ سے تعلق رکھنے والے فلسطینی خاندانوں کے ہمراہ اپنی سرکاری رہائش گاہ گرِیسی منشن میں زیتون کا درخت لگاتے نظر آئے۔
انہوں نے ویڈیو کے ساتھ لکھا کہ انہوں نے غزہ کے فلسطینی خاندانوں کے ساتھ گرِیسی منشن میں زیتون کا درخت لگایا ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ مستقبل کے امن کی علامت بنے۔
رپورٹ کے مطابق ویڈیو میں سارا بسسیسو بھی موجود تھیں، جو غزہ کی جنگ سے بچنے کے بعد علاج کے لیے امریکا میں مقیم ہیں۔
نیتن یاہو کی تقریر کے دوران بڑی تعداد میں وفود کا ہال سے نکل جانا اقوام متحدہ میں اس خطاب کی نمایاں ترین تصاویر میں شامل رہا، جبکہ کئی ممالک کے رہنماؤں نے اپنی تقاریر میں اسرائیلی اقدامات اور فلسطین کی صورتحال پر بھی اظہار خیال کیا۔
آپ کا تبصرہ