23 ستمبر 2026 - 17:59
ایرانی صدر: امریکا دہشت گرد ہے، اس نے ہمارے رہنما کو شہید کیا

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اقوام متحدہ کی 81ویں جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے امریکا اور اسرائیل پر شدید تنقید کی اور کہا کہ امریکا دہشت گردی کا مرتکب ہے اور اس نے ایران کے رہنما کو نشانہ بنایا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے آج بدھ، یکم مہر ۱۴۰۵ کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا: کل امریکی صدر نے اعلان کیا کہ ایران دہشت گرد ہے، حالانکہ ہم خود دہشت گردی کا شکار ہیں۔ میں ایسے ایران سے آیا ہوں جہاں ہمارے رہنما کو کسی قانونی جواز اور دلیل کے بغیر شہید کر دیا گیا۔

انہوں نے مزید کہا: میں ایسے ایران سے آیا ہوں جہاں ایک اسکول پر بمباری کی گئی۔ میناب کے بچوں کو دیکھیے، ان بچوں کو جو بمباری میں مارے گئے۔ اسرائیل اور امریکہ نے اپنے ہتھیاروں کے ذریعے ہمارے بچوں کو شہید کیا، حالانکہ ہمارے ان بچوں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا۔

صدر پزشکیان نے لامِرد شہر پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا: لامِرد ایران کا ایک چھوٹا شہر ہے۔ ہمارے بچے ایک اسپورٹس ہال میں کھیلوں میں مصروف تھے۔ امریکہ نے اس کھیل گاہ پر کلسٹر بموں سے حملہ کیا، جو پھٹ کر ہزاروں ٹکڑوں میں تقسیم ہو جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے سائنس دانوں، عوام، خواتین اور بچوں کو شہید کیا۔ دہشت گرد اور دہشت گردی کی تربیت دینے والے ہمیں دہشت گرد قرار دیتے ہیں، حالانکہ ہم نے صرف اپنا دفاع کیا ہے؛ ہم دہشت گرد نہیں ہیں۔

صدر نے دشمن کے حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا: امریکہ اور اسرائیل نے جدید ترین ہتھیاروں اور سازوسامان کے ساتھ ہمارے ملک پر حملہ کیا، لیکن ہماری قوم نے پوری قوت کے ساتھ اپنے ملک کا دفاع کیا۔ انہوں نے ہم پر حملہ کیا، مگر ہم نے ان کے سامنے سر نہیں جھکایا۔ ہم نے ان کے حملوں کا جواب دیا، لیکن ہم نے عوام کو نشانہ نہیں بنایا۔

پزشکیان نے مزید کہا: ہمارے اسکولوں، اسپتالوں، سائنسی مراکز، پلوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی تھی۔

انہوں نے کہا: اب وقت آ گیا ہے کہ دوسروں کے وہم و گمان پر جوا کھیلنے کے بجائے اپنی عقل و دانش کو بروئے کار لایا جائے۔ ایران نے کبھی جنگ شروع نہیں کی اور ہمیشہ مذاکرات کی میز پر اپنی آمادگی کا اظہار کیا ہے۔ جنگ ہم پر مسلط کی گئی، لیکن ہم نے ثابت کر دیا کہ اپنے دفاع کے لیے ہم جنگ سے نہیں ڈرتے اور امن کے لیے مذاکرات سے بھی نہیں بھاگتے۔ ہم اپنے عزیز ایران کے دفاع کے لیے آخری دم تک کھڑے ہیں۔

صدر نے اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں عالمی برادری کے دوہرے معیار پر تنقید کرتے ہوئے کہا: اعتماد صرف باتوں سے قائم نہیں ہوتا، بلکہ اس کے لیے دوہرے معیار سے اجتناب ضروری ہے۔ اس خطے میں ایٹم بم اور دیگر وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار اسرائیل کے پاس ہیں، لیکن معائنوں کا مطالبہ ایران سے کیا جاتا ہے۔ اسرائیل نے غزہ میں 70 ہزار افراد کو قتل کیا، لیکن ایران کو مذاکرات کی میز پر بمباری کا نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیل کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں، وہ این پی ٹی کا رکن نہیں ہے اور اس نے اپنی پوری تاریخ میں کسی معائنہ کار کو مقبوضہ علاقوں میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی، لیکن اسے اربوں ڈالر کے مفت ہتھیار ملتے ہیں اور اسے یہ استثنا حاصل ہے کہ وہ جس دارالحکومت پر چاہے بمباری کرے۔

انہوں نے مزید کہا: میں دوبارہ کہتا ہوں؛ ایٹم بم اسرائیل کے پاس ہے، لیکن معائنہ کار ایران میں ہیں۔ اسرائیل قتل کرتا ہے، جبکہ ایران پر پابندیاں عائد کی جاتی ہیں۔ پابندیاں غریبوں اور بے گناہ عوام کو نشانہ بناتی ہیں اور انہیں اپنے مذموم مقاصد کا شکار بناتی ہیں۔

پزشکیان نے کہا: اگر ہم انصاف کے خواہاں ہیں تو دوست اور حریف، دونوں کو ایک ہی معیار پر پرکھا جانا چاہیے اور انسانی حقوق کو جغرافیائی و سیاسی مسابقت کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ ایران کسی خصوصی رعایت کا مطالبہ نہیں کرتا، بلکہ مساوی حقوق چاہتا ہے اور ان کے ساتھ اپنی ذمہ داری بھی قبول کرتا ہے۔

صدر نے کہا: ایران نے اپنی طویل تاریخ میں ایک حقیقت واضح طور پر سیکھی ہے کہ طاقت کے بغیر دنیا خطرناک ہے، لیکن ایسی دنیا جو صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہو، اس میں پائیدار امن و سلامتی قائم نہیں ہو سکتی۔ اگر قوموں کے درمیان اعتماد ختم ہو جائے تو دنیا کی طاقتور ترین فوجیں بھی پائیدار سلامتی پیدا نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے مزید کہا: اگر بین الاقوامی قوانین صرف اسی وقت نافذ کیے جائیں جب وہ طاقتور ممالک کے مفادات سے ہم آہنگ ہوں تو مزید ممالک اس نتیجے پر پہنچیں گے کہ اپنی سلامتی کے لیے انہیں صرف اپنی طاقت پر انحصار کرنا ہوگا، اور یہ ہم سب کے لیے ایک زیادہ خطرناک دنیا کی ابتدا ہوگی۔

پزشکیان نے زور دیتے ہوئے کہا: ہمیں اکیسویں صدی کو دوبارہ طاقت اور زور کے ذریعے حکمرانی کے دور میں تبدیل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ ہمیں ایسی دنیا نہیں بنانی چاہیے جہاں فوجی طاقت، قانونی جواز کی جگہ لے لے؛ پابندیاں، سفارت کاری کی جگہ لے لیں؛ قتل و غارت، سیاست کی جگہ لے لے اور جنگ، مذاکرات کی جگہ لے لے۔

صدر نے کہا: ایران اپنی طاقت برقرار رکھے گا۔ ہم دنیا کو کسی نئی جنگ کی طرف نہیں بلکہ امن اور انصاف کی طرف دعوت دیتے ہیں؛ کمزوری کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی طاقت پر اعتماد اور اس حقیقت کے ادراک کے ساتھ کہ اس خطے میں کوئی بھی ملک تنہا اپنی سلامتی یقینی نہیں بنا سکتا۔ یا تو ہم مل کر سلامتی قائم کریں گے یا پھر مل کر عدمِ تحفظ کا سامنا کریں گے۔

انہوں نے اپنی گفتگو کے اختتام پر کہا: ہم ایسے مستقبل کی تعمیر کے خواہاں ہیں جس میں سلامتی، انصاف اور انسانی وقار تمام اقوام کے لیے ناقابلِ سلب اور مشترکہ حقوق ہوں؛ ایسا مستقبل جس میں کسی قوم کو حاشیے پر نہ دھکیلا جائے، طاقت کے شور میں کسی کی آواز دب نہ جائے اور کسی طاقت کو یہ حق حاصل نہ ہو کہ وہ دوسروں کے مستقبل کا فیصلہ ان کی مرضی کے بغیر کرے۔

ایسا عالمی نظام جو واقعی بین الاقوامی کہلانے کا مستحق ہو، اسے اقوام کی برابری، انصاف، مساوات اور پوری انسانیت کی مشترکہ مرضی کی بنیاد پر قائم ہونا چاہیے؛ کیونکہ جو امن سب کے لیے نہ ہو، وہ امن نہیں، اور جو انصاف سب کو شامل نہ کرے، وہ انصاف نہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha