اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی مزاحمت کے اہم رہنما اور آپریشن طوفان الاقصی کے معمار شہید یحییٰ السنوار کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر علی برکہ نے گزشتہ شب خطاب کرتے ہوئے کہا کہ السنوار آج بھی فلسطینی عوام کے دلوں اور اپنے ساتھیوں کی یادوں میں زندہ ہیں۔
علی برکہ نے کہا کہ مسئلۂ فلسطین اس قدر گہری جڑیں رکھتا ہے کہ کسی ایک رہنما کی شہادت سے یہ جدوجہد ختم نہیں ہوسکتی۔ انہوں نے کہا کہ اپنے عزیز بھائی ابو ابراہیم، یعنی یحییٰ السنوار، کی شہادت کے دو سال بعد آج ہم ایک ایسی شخصیت کی غیر معمولی مزاحمتی اور سیاسی جدوجہد کو یاد کر رہے ہیں جس کا نام مسئلۂ فلسطین کی تاریخ کے ایک اہم دور سے جڑا ہوا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ شہید یحییٰ السنوار نے 7 اکتوبر 2023 کو تاریخی معرکۂ ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کی قیادت کی اور 16 اکتوبر 2024 کو رفح میں اسرائیلی قابض فوج کے ساتھ براہِ راست جھڑپ میں شہادت تک اگلے محاذوں پر موجود رہے۔
حماس کے رہنما نے کہا کہ شہید السنوار نے قیادت اور عملی میدان میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کی حقیقی مثال پیش کی۔ انہوں نے مشکل ترین حالات میں بھی مزاحمت اور ثابت قدمی کے اصولوں سے وابستگی برقرار رکھی اور اگلے محاذ پر رہنے کا فیصلہ کیا۔
علی برکہ کے مطابق، 7 اکتوبر کے بعد ہونے والی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے شہید السنوار کی شخصیت اور ان کے تجربے کا مطالعہ اہم رہے گا۔ ان کی جدوجہد کے سیاسی اور عسکری پہلوؤں، اس کے اثرات اور بالخصوص غزہ میں فلسطینی عوام کی عظیم قربانیوں پر بھی بحث جاری رہے گی۔
علی برکہ نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے فلسطینی عوام کی مزاحمت کو توڑنے، رہنماؤں کو نشانہ بنانے اور تنظیمی و سماجی ڈھانچے کو تباہ کرنے کی کوششیں ان کی جدوجہد ختم نہیں کرسکتیں۔
انہوں نے کہا کہ جو قوم اپنے قومی حقوق کے لیے جدوجہد کرتی ہے، وہ اپنے رہنماؤں اور کمانڈروں کو کھونے کے باوجود ان حقوق سے دستبردار نہیں ہوتی۔ ان کے بقول، فلسطینی عوام اپنی سرزمین کے دفاع، اتحاد کے تحفظ اور دشمن کی جارحیت و قبضے کے خاتمے تک مزاحمت جاری رکھنے کی ذمہ داری نبھاتے رہیں گے۔
حماس کے رہنما نے خطاب کے اختتام پر کہا کہ ابو ابراہیم اور آپریشن ’’طوفان الاقصیٰ‘‘ کے دوران شہید ہونے والے تمام فلسطینی رہنماؤں اور شہدا سے وفاداری کا تقاضا ہے کہ ان کی یاد کو زندہ رکھا جائے، فلسطینی عوام کے آزادی، واپسی اور خودمختاری کے حقوق کی حمایت کی جائے اور تمام حقوق کی بحالی تک جدوجہد جاری رکھی جائے۔
آپ کا تبصرہ