18 اکتوبر 2026 - 10:15
عرب تجزیہ کار: ایران کے ساتھ مؤقف میں ہم آہنگی عالمی سلامتی کو مضبوط بنائے گی

عرب امورِ مشرقِ وسطیٰ کے ماہر اور محقق ریاض الوحیلی نے کہا ہے کہ خلیج فارس میں امن قائم کرنا اور اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ مؤقف میں ہم آہنگی پیدا کرنا عالمی سلامتی کو تقویت دیتا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ریاض الوحیلی نے العہد نیوز چینل سے گفتگو کرتے ہوئے بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کے دو روزہ اجلاس کا حوالہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ بغداد میں ایسے اجلاسوں کا انعقاد عراق کو ایک علاقائی طاقت کے طور پر ابھرنے میں مدد دیتا ہے، جس کے ساتھ تمام ممالک تعلقات قائم کرنا چاہتے ہیں۔

الوحیلی نے مزید کہا کہ عراق یمن کے بحران کے حل اور ایران کے معاملے پر مختلف فریقوں کے مؤقف قریب لانے میں کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ ان کے مطابق، خطے کے بحرانوں کو کم کرنے کے لیے ایک مضبوط اور فیصلہ کن اقدام ضروری ہے تاکہ مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھنے سے روکا جا سکے۔

عرب محقق نے واضح کیا کہ خلیج فارس کی سلامتی عراق کی معاشی خوشحالی پر براہِ راست اثر انداز ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ عراق مشترکہ اقتصادی معاملات کو بہتر بنانے کے لیے حقیقی شراکت داریوں کے قیام کی کوشش کر رہا ہے۔

الوحیلی کے مطابق، خلیج فارس میں امن و سلامتی کا قیام اور ایران کے ساتھ مؤقف میں ہم آہنگی عالمی سلامتی کو مزید مضبوط بنا سکتی ہے۔

فلسطین کے مسئلے پر گفتگو کرتے ہوئے الوحیلی نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم کے پلیٹ فارم پر اسلامی ممالک کے درمیان مشترکہ مؤقف پیدا کرنا ایک مثبت قدم ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی جارحیت کی مذمت اور فلسطینی کاز کی حمایت خطے میں سلامتی کے قیام میں مدد دیتی ہے۔

بغداد میں اسلامی تعاون تنظیم کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس ہفتے کے روز شروع ہوا، جس میں 55 رکن و مبصر ممالک اور 40 سے زائد تنظیموں نے شرکت کی۔ اجلاس کا عنوان تھا: ’’مکالمہ اور یکجہتی؛ امن اور پائیدار ترقی کے فروغ کے دو بنیادی ستون‘‘۔

اسلامی تعاون تنظیم 1969 میں قائم ہوئی تھی اور اس کے 57 رکن ممالک ہیں۔ اقوام متحدہ کے بعد اسے دنیا کی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم قرار دیا جاتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha