22 ستمبر 2026 - 16:50
دو ریپبلکن امیدواروں کا موقف تبدیل؛ ایران کے خلاف جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ

امریکی سینیٹ کے انتخابات میں ریپبلکن امیدوار مائیک راجرز اور ایشلی ہنسن نے، ایران کے خلاف جنگ جاری رکھنے کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے اختیارات کی حمایت کے اپنے سابقہ موقف سے پیچھے ہٹتے ہوئے جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی سینیٹ کے انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے دو امیدواروں نے عوامی حمایت حاصل کرنے کے لیے اپنے سابقہ موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ فوری ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

المیادین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ مشی گن سے ریپبلکن سینیٹ امیدوار مائیک راجرز اور آئیوا سے ریپبلکن امیدوار ایشلی ہنسن نے ایران کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنے سابقہ موقف میں تبدیلی کرتے ہوئے جنگ فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔ اس سے قبل دونوں نے تہران کے خلاف حملے کرنے کے ٹرمپ کے اختیار کی حمایت کی تھی۔

امریکہ میں جنگ جاری رکھنے کی مخالفت میں اضافے اور اس کے امریکی شہریوں کی معیشت اور روزمرہ زندگی پر پڑنے والے منفی اثرات کے تناظر میں، بظاہر امریکی انتخابات میں ریپبلکن امیدوار بھی اپنے موقف میں تبدیلی کے ذریعے عوامی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اسی وجہ سے وہ ڈونلڈ ٹرمپ کے جنگ سے متعلق ان فیصلوں سے فاصلہ اختیار کر رہے ہیں جن کے نتیجے میں ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔

ہنسن، جو اس سے قبل جنگ جاری رکھنے کے لیے ٹرمپ کے اختیارات محدود کرنے والی تجاویز کے خلاف سینیٹ میں 6 مرتبہ ووٹ دے چکی ہیں، نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر لکھا: ’’آئیوا کے شہری دباؤ میں ہیں اور انہیں پٹرول پمپس یا گروسری اسٹورز پر ایران کے ساتھ جنگ کی قیمت ادا نہیں کرنی چاہیے۔‘‘ انہوں نے پٹرول پر ٹیکس معطل کرنے، ڈیزل کی برآمدات عارضی طور پر روکنے اور جنگ کو ’’کامیاب اور فوری‘‘ طور پر ختم کرنے کے لیے دیگر اقدامات کا مطالبہ کیا۔

ان بیانات سے ان ریپبلکن امیدواروں کی بڑھتی ہوئی تشویش ظاہر ہوتی ہے جنہیں اپنی نشستیں کھونے کا خطرہ لاحق ہے۔ انہیں خدشہ ہے کہ جنگ کا جاری رہنا نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل ایک بڑا سیاسی بوجھ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب، مہنگائی میں مسلسل اضافے کے باعث ٹرمپ کی جانب سے معیشت اور ایران کے ساتھ جنگ سے نمٹنے کے طریقہ کار پر امریکی عوام کی ناراضی میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ رائٹرز کے تازہ ترین سروے کے مطابق ٹرمپ کی مقبولیت 32 فیصد تک گر گئی ہے، جو ان کے سیاسی کیریئر کی کم ترین سطح ہے۔

مائیک راجرز نے اس سے قبل جولائی کے اواخر میں ’’سی بی ایس ڈیٹرائٹ‘‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایران پر ٹرمپ کے حملوں کی حمایت کی تھی اور جنگ جاری رکھنے کے لیے صدر کے اختیارات محدود نہ کرنے کا دفاع کیا تھا۔ تاہم پیر کے روز پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے نئے انتخابی بیان میں ان کا لہجہ مختلف تھا۔ ایک گروسری اسٹور کے اندر سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا: ’’ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہونی چاہیے۔ جب ایسا ہوگا تو توانائی کے اخراجات میں بہت زیادہ کمی آئے گی۔‘‘

راجرز نے ریاستی اور وفاقی سطح پر پٹرول ٹیکس معطل کرنے اور امریکی ڈیزل کی برآمدات پر عارضی پابندی عائد کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔

تاہم ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ ہنسن اور راجرز کی جانب سے جنگ فوری ختم کرنے کے مطالبات محض انتخابی موقف میں تبدیلی ہیں، کیونکہ دونوں اس سے قبل ٹرمپ حکومت کی جنگی پالیسیوں کی حمایت کر چکے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha