21 ستمبر 2026 - 16:23
امریکہ کا اچانک کشیدگی بڑھنے کا انتباہ؛ صیہونی ریاست خطے میں جنگ پھیلنے کے خدشے پر تیار

امریکہ کی جانب سے خطے میں اچانک کشیدگی بڑھنے کے حوالے سے سکیورٹی انتباہات میں اضافے کے دوران صیہونی ریاست سعودی عرب اور یمن کے درمیان جاری کشیدگی کے دیگر محاذوں تک پھیلنے کے ممکنہ منظرنامے سے نمٹنے کی تیاری کر رہی ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صیہونی ریاست سعودی عرب اور یمن کے درمیان کشیدگی کے وسیع تر علاقائی محاذ آرائی میں تبدیل ہونے کے امکان کے پیش نظر تیاری کر رہی ہے۔ بتایا جا رہا ہے کہ اس امکان کا امریکہ، صیہونی ریاست اور عرب ممالک کے درمیان فوجی رابطہ اجلاسوں کے دوران سنجیدگی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔

لبنان کے اخبار ’’الاخبار‘‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ کی جانب سے اچانک کشیدگی بڑھنے کے حوالے سے سکیورٹی انتباہات میں اضافہ ہوا ہے۔ ان انتباہات کے ساتھ مشرق وسطیٰ میں موجود امریکی شہریوں سے ہوشیار رہنے کی سطح بڑھانے کی اپیل بھی کی گئی ہے، جبکہ ایران اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے بیرون ملک امریکی مفادات کو نشانہ بنائے جانے کے امکان سے بھی خبردار کیا گیا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ اعلان بھی سامنے آیا ہے کہ اسے امریکہ کی طرف سے بعض علاقائی ممالک کی رضامندی کے ساتھ ایران کے خلاف دوبارہ جارحانہ اقدامات شروع کرنے کے فیصلے سے متعلق اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ اس صورتحال نے ممکنہ کشیدگی میں مزید اضافہ کردیا ہے۔ ایران نے خبردار کیا ہے کہ اس کے خلاف کسی بھی جارحیت میں علاقائی ممالک کی شرکت کا جواب دیا جائے گا۔

یمن کا محاذ علاقائی بحران میں تبدیل ہونے کے خدشے پر صیہونی ریاست پریشان

عبرانی ویب سائٹ ’’والا‘‘ کے فوجی رپورٹر اور تجزیہ کار ’’امیر بوخبوط‘‘ نے گزشتہ روز رپورٹ کیا کہ صیہونی ریاست کی فوج نے گزشتہ تین روز کے دوران مشاورت اور صورتحال کے جائزہ اجلاسوں میں اضافہ کردیا ہے۔ صیہونی فوج کو خدشہ ہے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان محاذ آرائی خطے میں بڑے پیمانے پر کشیدگی بڑھانے کا باعث بن سکتی ہے۔

زیر غور بعض منظرناموں کے مطابق صیہونی فوج کو خدشہ ہے کہ یمن سعودی عرب کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے محاذ آرائی کا ایک حصہ اسرائیلی محاذ کی جانب منتقل کرسکتا ہے اور مقبوضہ علاقوں کی جانب حملے کرکے صیہونی ریاست کو فوجی ردعمل پر مجبور کرسکتا ہے۔

بوخبوط کے مطابق ایسی صورتحال میں آگ کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہوسکتا ہے جو یمن کے محاذ تک محدود نہ رہے بلکہ ایران تک بھی پھیل جائے اور اس کے بعد امریکہ بھی اس تنازع میں شامل ہونے پر مجبور ہوسکتا ہے۔

اس کے مقابلے میں بوخبوط کا کہنا ہے کہ صیہونی ریاست کا موجودہ مؤقف یہ ہے کہ جہاں تک ممکن ہو براہ راست محاذ آرائی سے دور رہا جائے، ساتھ ہی صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جائے اور کشیدگی پھیلنے کے ممکنہ امکان کے لیے تیاری کی جائے۔

صیہونی ریاست کا ہائی الرٹ یمن کے محاذ سے آگے بڑھ گیا

صیہونی ریاست کا ہائی الرٹ صرف یمن کے محاذ تک محدود نہیں ہے بلکہ اسی دوران علاقائی فوجی رابطہ کاری بھی بڑھ رہی ہے۔

امریکی صدر ’’ڈونلڈ ٹرمپ‘‘ نے چار روز قبل ویب سائٹ ’’آکسیوس‘‘ سے گفتگو میں کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ جنگ میں ایک اہم فیصلہ کن مرحلے کے قریب پہنچ گئے ہیں اور بڑے پیمانے پر فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے امکان کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم امریکی فوج کی مرکزی کمان (سینٹ کام) نے خطے میں اپنی افواج کی سطح سال کے اختتام تک موجودہ حالت میں برقرار رکھی ہے۔

دوسری جانب صیہونی ریاست نے علاقائی رابطہ کاری کے دائرے میں اپنے روابط بھی بڑھا دیے ہیں۔ عبرانی ویب سائٹ ’’والا‘‘ نے چند روز قبل صیہونی ریاست کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ سعودی عرب کے ساتھ امریکہ کی ثالثی میں حساس رابطے جاری ہیں، جن میں سکیورٹی معلومات کا تبادلہ اور قبل از وقت انتباہی نظام اور فضائی دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنانا شامل ہے۔

یہ رپورٹ اس خبر کے دو روز بعد سامنے آئی جس میں ’’والا‘‘ نے تل ابیب کی جانب سے یمن کے خلاف سعودی عرب کو انٹیلی جنس مدد فراہم کرنے کی اطلاع دی تھی۔

امریکہ، صیہونی ریاست اور آٹھ عرب ممالک کا خفیہ اجلاس

اس سے قبل ’’آکسیوس‘‘ کے صحافی ’’باراک راوید‘‘ نے چند روز پہلے جرمنی میں ایک خفیہ اجلاس کے انعقاد کی خبر دی تھی، جس میں سینٹ کام کے کمانڈر ’’بریڈ کوپر‘‘ نے صیہونی ریاست اور آٹھ عرب ممالک کے فوجی کمانڈروں سے ملاقات کی تھی۔

یہ اجلاس ظاہر کرتا ہے کہ صیہونی ریاست اور عرب ممالک کے درمیان رابطہ کاری یمن کے محاذ سے آگے ایک وسیع تر دائرے میں جاری ہے، خصوصاً اس لیے کہ ایران بھی اس اجلاس کے شرکاء کے درمیان زیر بحث آنے والے موضوعات میں شامل تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha