کیس کی سماعت سینئر ترین جج جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ جسٹس جاوید اقبال نے جوڈیشل کمیشن کے حوالے سے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کمیشن آزاد، خود مختار اور طاقتور ہو گا جس کی ایجنسیوں سمیت تمام اداروں تک رسائی ہو گی۔ سپریم کورٹ کمیشن کے معاملات میں مداخلت نہیں کریگی لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ ہم خود کو اس معاملہ سے الگ کر لینگے۔ یقینا اس سارے عمل کی خودنگرانی کرینگے۔دوران سماعت جسٹس جاوید اقبال نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ سیکرٹری خارجہ کو عدالتی احکامات سے آگاہ کر دیں۔ اگر بیرون ممالک قید پاکستانیوں کی رہائی کے لئے اقدامات نہ اٹھائے گئے تو وہ ذمہ دار ہونگے۔ عدالت ان کے خلاف بھی کارروائی کرے گی۔ عدالت میں بتایا گیا کہ لاپتہ افراد کی بازیابی کیلئے جسٹس (ر) کمال منصور عالم کی سربراہی میں جسٹس (ر) ناصرہ اقبال اور جسٹس (ر) فضل الرحمان پر مشتمل تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دیا گیا ہے۔ لاپتہ افراد کے حوالے سے بلوچستان کا مسئلہ بھی ایک پیچیدہ ہے حکومت کو سرکاری اور غیرسرکاری اقدامات بھی اٹھانا پڑینگے۔ عدالت نے سیکرٹری خارجہ کو ہدایت کی کہ تھائی لینڈ میں پاکستانی شہریوں کی رہائی کیلئے فی الفور اقدامات اٹھا کر 15 دنوں میں رپورٹ پیش کی جائے جبکہ عدالت نے تمام پاکستانی سفارتخانوں کو ہدایت کی ہے کہ بیرون ملک جیلوں میں قید شہریوں کی رہائی کے حوالے سے اقدامات اٹھائیں۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی کہ لاپتہ افراد کے تمام تر پرانے مقدمات جوڈیشل کمیشن میں پیش کئے جائیں۔
.................
/110