اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ میں امریکی فوجیوں کی حقیقی ہلاکتوں کی تعداد پینٹاگون کے عوامی طور پر جاری کردہ اعداد و شمار سے زیادہ ہے، جبکہ امریکی حکام نے اس فرق پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
واشنگٹن پوسٹ کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع کے اندرونی اعداد و شمار اور عوامی سطح پر جاری کیے جانے والے فوجی ہلاکتوں کے ریکارڈ میں نمایاں فرق پایا گیا ہے۔
رپورٹ میں امریکی وزارتِ دفاع کے اعداد و شمار سے واقف چھ امریکی حکام کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 28 فروری کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے کم از کم 22 امریکی فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ یہ تعداد پینٹاگون کے عوامی ڈیفنس کژولٹی اینالیسس سسٹم (DCAS) میں درج اعداد سے چار زیادہ ہے۔
ایک اور امریکی عہدیدار نے ہلاکتوں کی تعداد 23 بتائی۔ اس عہدیدار کے مطابق خطے میں تعینات تین امریکی کنٹریکٹرز بھی فوجی کارروائیوں کے آغاز کے بعد ہلاک ہوچکے ہیں۔
دوسری جانب پینٹاگون کے عوامی ریکارڈ میں جمعے تک امریکی فوجیوں کی 18 ہلاکتیں درج تھیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق معاملہ صرف اعداد کے فرق تک محدود نہیں، بلکہ بعض اضافی ہلاکتوں کی شناخت، مقام، وقت اور موت کی وجوہات سے متعلق تفصیلات بھی تاحال واضح نہیں ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اندرونی اعداد و شمار سے واقف بعض حکام نے اس بات پر تشویش ظاہر کی ہے کہ اضافی ہلاکتیں پینٹاگون کے عوامی ریکارڈ میں شامل کیوں نہیں کی گئیں۔ اخبار کے مطابق امریکی وزارتِ دفاع نے اس تضاد کی وجہ سے متعلق واشنگٹن پوسٹ کے سوالات کا جواب دینے سے گریز کیا۔
یہ پہلی مرتبہ نہیں کہ ایران جنگ کے دوران امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کے سرکاری ریکارڈ پر سوالات اٹھے ہوں۔ واشنگٹن پوسٹ نے اس سے قبل بھی رپورٹ کیا تھا کہ حالیہ جھڑپوں کے دوبارہ آغاز کے بعد امریکی فوجیوں کی چار ہلاکتیں سرکاری کژولٹی ڈیٹا سے ہٹا کر اوورسیز کنٹیجنسی آپریشنز کے الگ زمرے میں درج کی گئی تھیں۔ پینٹاگون نے اس وقت اسے ڈیٹا پراسیسنگ میں عارضی خرابی قرار دیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ فوجی ہلاکتوں کی درست درجہ بندی محض شفافیت کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے اثرات فوجیوں کے سرکاری ریکارڈ، ہلاکت کی تحقیقات اور ان کے اہلِ خانہ کو ملنے والے فوائد پر بھی پڑ سکتے ہیں۔
واشنگٹن پوسٹ کے مطابق پینٹاگون کے تازہ ترین عوامی اعداد و شمار میں ایران کے ساتھ جنگ کے آغاز سے اب تک 820 سے زائد امریکی فوجیوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی گئی ہے۔
اخبار کے مطابق امریکی فوجی ہلاکتوں اور جنگ کے اخراجات سے متعلق اعداد و شمار کی درجہ بندی کا معاملہ امریکی کانگریس میں بھی زیرِ بحث آچکا ہے، جہاں بعض قانون سازوں نے جنگ کے انسانی اور مالی نقصانات کے بارے میں مزید شفافیت کا مطالبہ کیا ہے۔
آپ کا تبصرہ