اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی ویب سائٹ آکسیوس نے باخبر تین ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت ایران کے ساتھ جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے۔ امریکی صدر آئندہ منگل کو نیویارک میں خلیج تعاون کونسل کے رکن ممالک کے حکام سے ملاقات کریں گے اور آئندہ اقدامات اور واشنگٹن کی مطلوبہ حکمت عملی پر بات چیت کریں گے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ کی سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت اور عمان کے حکام کے ساتھ ممکنہ ملاقات اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ہوگی۔ اس ملاقات کا مرکزی موضوع ایران کے ساتھ جنگ کے بعد کی حکمت عملی سے متعلق امریکی تجاویز کا جائزہ ہوگا۔
آکسیوس کے ذرائع کے مطابق ٹرمپ اور ان کی اعلیٰ سطحی ٹیم جنگ کے بعد کے مرحلے کے لیے ایک منصوبہ تیار کر رہی ہے، جسے امریکی وسط مدتی انتخابات کے بعد حتمی شکل دیے جانے کی توقع ہے۔
امریکی وزارت خارجہ نے بھی گزشتہ روز اس اجلاس کے لیے ابتدائی دعوت نامے بھیج دیے ہیں۔ آکسیوس کے ایک ذریعے نے بتایا کہ ممکن ہے اس اجلاس کا دائرہ وسیع کردیا جائے اور دیگر عرب اور اسلامی ممالک کے حکام کو بھی اس میں شرکت کی دعوت دی جائے۔
دریں اثنا، ایک صیہونی ذریعے نے آکسیوس کو بتایا کہ صیہونی حکومت کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو بھی نیویارک میں ٹرمپ سے ملاقات کے خواہاں ہیں، تاہم اب تک اس ملاقات کے لیے کوئی حتمی وقت مقرر نہیں کیا گیا۔
ٹرمپ نے گزشتہ روز اپنے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ امریکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے قریب پہنچ گیا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران معاہدہ چاہتا ہے اور امریکہ کسی بھی وقت ایران کے ساتھ معاہدہ کرسکتا ہے۔
امریکی صدر نے مزید دعویٰ کیا کہ ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا۔ انہوں نے ایران کی صلاحیتوں کو پہنچنے والے نقصانات اور سمندری ناکہ بندی سے متعلق بھی دعوے کیے۔ ٹرمپ نے پیش گوئی کی کہ جنگ کے خاتمے کے بعد تیل اور پٹرول کی قیمتوں میں بھی کمی آئے گی۔
یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر کسی علاقائی بحران کے حوالے سے عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے مشاورت کی ہو۔
گزشتہ سال بھی انہوں نے جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے رہنماؤں سے ملاقات کی تھی اور غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے اپنا مجوزہ منصوبہ پیش کیا تھا۔
ان پیش رفت کے ساتھ ہی خبر رساں ادارے مہر نے رپورٹ کیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے چین کے دورے کے دوران پاکستان کے آرمی چیف عاصم منیر سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور خطے کی تازہ ترین صورتحال کا جائزہ لیا۔
آپ کا تبصرہ