اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، مصری عالم دین شیخ سعید سلامہ نے یمن کے علما کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سعودی حکومت کی جانب سے یمن پر مکہ مکرمہ کو نشانہ بنانے کے الزامات کو مسترد کرنے کے لیے قرآن کریم کی ایک آیت کا حوالہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مسجد الحرام کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا ہے اور یہ تصور بھی نہیں کیا جاسکتا کہ یمن کے وہ فرزند، جن کے دل مکہ مکرمہ کی محبت سے سرشار ہیں اور جو حج و عمرہ کے لیے وہاں جاتے ہیں، اس مقدس مقام کو نشانہ بنائیں گے یا اس کی بے حرمتی کریں گے۔
شیخ سعید سلامہ نے کہا کہ جو یمنی غزہ، فلسطین اور امت مسلمہ کے مقدسات کے دفاع کے لیے اپنی جانیں قربان کررہے ہیں اور اس راہ میں ڈٹے ہوئے ہیں، وہ ایک ہی وقت میں خانہ خدا کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔
انہوں نے سوال کیا: کیا یہ بات عقل کے مطابق ہے کہ یمنی خانہ خدا کو نشانہ بنائیں، جبکہ ان کے دل اس مقدس مقام کی محبت اور شوق سے سرشار ہیں؟ ہرگز نہیں، ہرگز نہیں اور ہرگز نہیں۔
مصری عالم دین نے کہا کہ تاریخ اور موجودہ حقائق یمنی عوام کے مکہ مکرمہ اور اسلامی مقدسات سے گہرے تعلق کی گواہی دیتے ہیں۔ انہوں نے اس سلسلے میں پیغمبر اکرم ﷺ کی اس حدیث کا حوالہ بھی دیا جس میں خانہ کعبہ پر حملہ کرنے والے لشکر کا ذکر ہے اور بیان کیا گیا ہے کہ وہ لشکر زمین میں دھنس جائے گا۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ یمنی عوام امت مسلمہ کے مقدسات کے دفاع کی صف میں کھڑے ہیں۔ جو لوگ صیہونی حکومت کے قبضے کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں اور غزہ و فلسطین کے ساتھ کھڑے ہیں، وہ خانہ کعبہ کے خلاف جارحیت نہیں کرسکتے۔
شیخ سعید سلامہ نے سعودی حکومت کے الزامات کو یمنی عوام کے اعلان کردہ مؤقف سے متصادم قرار دیا اور کہا کہ یہ دعوے یمن کے ان واضح مؤقف سے مطابقت نہیں رکھتے جو اس نے امت مسلمہ کے مسائل اور مقدسات کے بارے میں اختیار کیے ہیں۔
انہوں نے سوال کیا کہ یہودی اور عیسائی افواج، ان کے پیروکار اور ان کے آلہ کار یمن اور یمنی عوام پر حملہ کیوں کررہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ اس کی وجہ ان کے بقول عزت و کرامت کے ان محاذوں پر شکست اور ذلت آمیز پسپائی ہے جہاں انسان اللہ تعالیٰ کی راہ میں اپنی جان قربان کرتا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں ارشاد ہے: «وَجَاهِدُوا فِی اللَّهِ حَقَّ جِهَادِهِ»۔
شیخ سعید سلامہ نے دنیا بھر کے مسلم علما سے مطالبہ کیا کہ وہ رائج بیانیوں کا جائزہ لیں، افواہوں اور جھوٹے دعووں کے پیچھے نہ چلیں اور مقدساتِ اسلام اور خانہ خدا کے بارے میں یمنی عوام کے واضح مؤقف کو سنیں۔
انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کا پیغام دنیا بھر کے علما تک پہنچنا چاہیے تاکہ یہ واضح ہو کہ یمنی عوام کے دل مکہ مکرمہ کی گہری محبت سے سرشار ہیں اور ان پر امت مسلمہ کے مقدس ترین مقام کو نشانہ بنانے کا الزام ان کے اعلان کردہ مؤقف اور امت کے مسائل کے بارے میں ان کے کردار سے متصادم ہے۔
آپ کا تبصرہ