اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمن میں سعودی عرب سے وابستہ فورسز کے ترجمان نے ملک کے مغربی ساحل پر حالیہ جھڑپوں کے دوران اپنی فورسز کو پہنچنے والے بھاری جانی نقصان کی اطلاع دی ہے۔
علاقائی ذرائع ابلاغ کے مطابق، طارق صالح کی زیرکمان ’’قومی مزاحمت‘‘ فورسز کے ترجمان صادق دوید نے بتایا ہے کہ مغربی ساحل کے محاذ پر حالیہ جھڑپوں کے دوران اس گروہ کے تقریباً 2 ہزار اہلکار ہلاک یا زخمی ہوئے ہیں۔
انہوں نے جھڑپوں کی شدت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طارق صالح کی زیرکمان فورسز کو کارروائیوں کے دوران اور پسپائی کے وقت میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں انہیں بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا۔
دوید نے طارق صالح کی زیرکمان فورسز کے ٹھکانوں پر بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون حملوں کی بھی اطلاع دی۔ ان کے مطابق ایک ماہ کے دوران یمن کے مغربی ساحلی علاقوں کو 130 بیلسٹک میزائلوں، 145 خودکش ڈرونز اور 15 دھماکا خیز کشتیوں کے ذریعے نشانہ بنایا گیا۔
اس فوجی عہدیدار کے مطابق طارق صالح کو ان کے کمانڈ سینٹر اور رہائش گاہ میں نشانہ بنانے کے لیے 18 ڈرونز بھی استعمال کیے گئے، جبکہ ان دیگر مقامات کو بھی حملوں کا نشانہ بنایا گیا جہاں ان کی موجودگی کا امکان تھا۔
یمن کے مغربی ساحل، خصوصاً باب المندب کے قریب، حالیہ جھڑپیں ایسے وقت میں شدت اختیار کر گئی ہیں جب طارق صالح کی زیرکمان فورسز کئی برس سے اس علاقے میں تعینات ہیں اور انہیں متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے۔
آپ کا تبصرہ