15 ستمبر 2026 - 15:59
بحرینی صحافی: ایران نے امریکی اڈوں کی ’ناقابلِ تسخیر‘ حیثیت کا بھرم توڑ دیا

بحرینی صحافی و تجزیہ کار عباس المرشد نے بحرین میں امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں پر ایران کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں نے امریکی فوجی تنصیبات کے محفوظ ہونے کے تصور کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔ ان کے مطابق جو اڈے کئی دہائیوں سے بحرین کی سلامتی کی ضمانت قرار دیے جاتے تھے، وہی اب ملک کو براہِ راست فوجی حملوں کے خطرے سے دوچار کرنے کا سبب بن گئے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور تنصیبات پر ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں نے نہ صرف فوجی اور علاقائی سطح پر نئی صورت حال پیدا کی ہے بلکہ بحرین میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کے حوالے سے بھی نئے سوالات اٹھا دیے ہیں۔

بحرینی مصنف اور تجزیہ کار عباس المرشد نے بحرینی ویب سائٹ ’’مرآۃ البحرین‘‘ میں شائع ہونے والے اپنے تجزیے میں کہا ہے کہ ایران کے حملوں نے صرف امریکی فوجی تنصیبات کو نقصان نہیں پہنچایا بلکہ کئی دہائیوں سے قائم اس تصور کو بھی چیلنج کر دیا ہے کہ یہ اڈے محفوظ ہیں اور بحرین کی سلامتی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بحرین میں پانچ دہائیوں سے زیادہ عرصے سے امریکی فوجی موجودگی کے باعث یہ ملک خلیج فارس میں امریکی فوجی تعیناتی کے اہم مراکز میں شامل رہا ہے۔ حالیہ جنگ سے پہلے بحرین میں امریکی فوجی موجودگی کو زیادہ تر الجفیر اڈے اور امریکی بحری بیڑے کی پانچویں فلیٹ کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا، تاہم حالیہ حملوں نے جزیرے میں امریکی فوجی ڈھانچے کے مزید حصوں کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔

ان حملوں کے دوران الجفیر کے علاوہ شیخ عیسیٰ ایئر بیس اور محرق ایئرپورٹ سے منسلک ایک فوجی تنصیب بھی حملوں کے مرکز میں رہی۔ اس طرح جنگ نے نہ صرف امریکی فوجی تنصیبات کی کمزوری ظاہر کی بلکہ بحرین میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی کے دائرے کو بھی عوام کے سامنے مزید واضح کر دیا۔

وہ اڈے جو سلامتی کی ضمانت سمجھے جاتے تھے

تجزیے میں امریکی فوجی اڈوں کے کردار میں آنے والی تبدیلی کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔ کئی دہائیوں تک ان اڈوں کو بحرین کی سلامتی اور خطے میں امریکی دفاعی قوت مضبوط کرنے کے لیے ضروری قرار دیا جاتا رہا، لیکن جنگ شروع ہونے کے بعد یہی تنصیبات فوجی اہداف بن گئیں۔

اس صورت حال نے یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ جو فوجی اڈہ خود حملوں کا نشانہ بن جائے، کیا وہ اب بھی وہی دفاعی اور حفاظتی کردار ادا کرسکتا ہے جسے بحرین میں اس کی موجودگی کا جواز قرار دیا جاتا تھا؟

اس تناظر میں مسئلہ صرف عمارتوں اور فوجی سازوسامان کو پہنچنے والے نقصان کا نہیں بلکہ امریکی اڈوں کی ’’ناقابلِ تسخیر‘‘ سمجھی جانے والی حیثیت اور علاقائی جنگ کی صورت میں ان کے دفاعی کردار پر اٹھنے والے سوالات کا بھی ہے۔

’کوه آتش‘ کے تصور کا اختتام؟

عباس المرشد نے اپنے تجزیے میں ’’کوه آتش‘‘ کی اصطلاح اس تصور کے لیے استعمال کی ہے جو کئی دہائیوں کے دوران بحرین کی فوجی طاقت اور بیرونی اتحادیوں کے نیٹ ورک کے حوالے سے تشکیل پایا۔

اس تصور کے مطابق بحرین میں امریکی فوجی اڈوں اور بیرونی طاقتوں کے ساتھ سکیورٹی روابط کا معاملہ صرف فوجی یا علاقائی نوعیت کا نہیں تھا بلکہ اس کے داخلی سیاسی معاملات پر بھی اثرات مرتب ہوتے رہے ہیں۔

یہ تصور موجود رہا کہ بحرین کے حکمران نظام کو ایسی فوجی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے جس کی وجہ سے ملک کے اندر طاقت کے توازن میں بنیادی تبدیلی مشکل ہے۔

اسی لیے تجزیہ نگار کے مطابق بحرین میں امریکی فوجی موجودگی بیرونی طاقتوں کے لیے دفاعی پیغام کے ساتھ ساتھ اندرون ملک مخالفین کے لیے بھی ایک پیغام رکھتی تھی کہ ملک کے سیاسی ڈھانچے میں کسی بڑی تبدیلی کے علاقائی اور سکیورٹی اثرات بھی ہوں گے۔

امریکی سلامتی اور بحرین کے سیاسی استحکام کا تعلق

تجزیے میں امریکی سکیورٹی مفادات اور بحرین کی داخلی سیاسی صورت حال کے درمیان تعلق کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔

اس نقطہ نظر کے مطابق امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی نے ان کی سلامتی اور سرگرمیوں کے تسلسل کو بحرین کے سیاسی مستقبل سے بھی جوڑ دیا ہے۔

اسی لیے سیاسی اصلاحات، عوامی شمولیت اور آئینی تبدیلیوں کے مطالبات کو اس سوال سے الگ نہیں دیکھا جا سکتا کہ بحرین میں سیاسی تبدیلیاں خطے میں امریکی فوجی موجودگی کے مستقبل کو کس طرح متاثر کریں گی۔

مصنف کے مطابق اس صورت حال نے بحرینی حکومت کے لیے سیاسی گنجائش بڑھائی، کیونکہ ملک کا داخلی استحکام خلیج فارس میں امریکی فوجی انتظامات کی سلامتی سے جڑ گیا اور کسی بھی بڑی سیاسی تبدیلی کو بحرین کی سرحدوں سے باہر علاقائی طاقتوں کی کشمکش کے تناظر میں دیکھا جانے لگا۔

بحرین کے بارے میں امریکی پالیسی کا تضاد

تجزیے میں بحرین کے حوالے سے امریکی پالیسی کے تضاد کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ واشنگٹن گزشتہ برسوں کے دوران اصلاحات، جمہوریت اور انسانی حقوق کی حمایت کی بات کرتا رہا، تاہم مصنف کے مطابق کئی مواقع پر امریکی فوجی اڈوں کی سرگرمیوں اور سکیورٹی تعاون کا تسلسل عملی طور پر زیادہ اہم رہا۔

اس پالیسی کے نتیجے میں جمہوریت کے حوالے سے امریکی دعووں اور خطے میں اس کے سکیورٹی مفادات کے درمیان نمایاں فرق پیدا ہوا۔

اسی تناظر میں بحرین کی شیعہ اکثریت کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار، اس کے علاقائی تعلقات پر ممکنہ اثرات، ایران اور عرب ممالک کے درمیان تعلقات اور امریکی پانچویں فلیٹ کے مستقبل کو بھی واشنگٹن کی بحرین سے متعلق پالیسی کے اہم عوامل قرار دیا گیا ہے۔

ایران کے حملوں سے کیا بدلا؟

تجزیے کے مطابق ایران کے حملوں کا یہ مطلب نہیں کہ بحرین میں امریکی موجودگی ختم ہو جائے گی اور نہ ہی اس مرحلے پر امریکی فوجی اڈوں کے مستقبل کے بارے میں حتمی رائے دی جا سکتی ہے۔

تاہم ان حملوں کا ایک اہم نتیجہ یہ ہے کہ امریکی فوجی اڈوں کے ناقابلِ تسخیر ہونے کا تصور ضرور متاثر ہوا ہے۔

جنگ نے ظاہر کیا کہ کسی ملک کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی فوجی تنصیبات اگر کسی علاقائی جنگ کا حصہ بن جائیں تو وہ خود بھی حملوں کا مرکز بن سکتی ہیں۔

دوسری جانب ان اڈوں کی کمزوری اور امریکی فوجیوں کے ممکنہ انخلا یا ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقلی کے امکانات بحرین میں واشنگٹن کی فوجی موجودگی کے سیاسی اور فوجی اخراجات میں اضافہ کرسکتے ہیں۔

امریکی اڈوں کے بعد بحرین کا مستقبل

تجزیے کے مطابق اصل سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ امریکی فوجی الجفیر یا شیخ عیسیٰ کے اڈوں پر واپس آتے ہیں یا نہیں، یا تباہ ہونے والے فوجی ڈھانچے کا کتنا حصہ دوبارہ تعمیر کیا جا سکتا ہے۔

زیادہ اہم سوال یہ ہے کہ اگر امریکی اڈے پہلے جیسا سکیورٹی کردار ادا نہ کر سکیں تو بحرین کو اپنی نئی سلامتی پالیسی کیا بنانی چاہیے؟

کیا یہ مناسب ہے کہ ایک چھوٹا ملک بڑی طاقتوں کی کشمکش کے لیے آگے کا مورچہ بنا رہے اور ہر علاقائی جنگ میں کسی بیرونی طاقت کی فوجی تنصیبات کی میزبانی کے باعث حملوں کی زد میں آتا رہے؟

یہ سوال بحرین میں مستقبل کی اہم بحثوں میں شامل ہو سکتا ہے، خاص طور پر اگر امریکی فوجی تنصیبات کو پہنچنے والے نقصانات طویل عرصے تک ان کی سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں۔

سلامتی کے تصور کی ازسرنو تشکیل

تجزیے کا بنیادی مؤقف یہ ہے کہ اگرچہ ایران کے حملوں کا بنیادی مقصد امریکی فوجی ڈھانچے کو کمزور کرنا تھا، لیکن ان حملوں کا ایک نتیجہ بحرین میں کئی دہائیوں سے قائم سکیورٹی نظام کے متاثر ہونے کی صورت میں بھی سامنے آ سکتا ہے۔

اس تناظر میں جنگ کے بعد بحرین کا اصل مسئلہ صرف کسی متبادل فوجی اڈے یا نئے بیرونی حامی کی تلاش نہیں ہونا چاہیے بلکہ قومی سلامتی کے تصور پر بھی ازسرنو غور کرنا چاہیے۔

تجزیے کے مطابق ایسی سلامتی جو بیرونی فوجی اڈوں پر انحصار اور علاقائی صف بندیوں کے بجائے ہمسایہ ممالک کے ساتھ کشیدگی کم کرنے، ملک کو بڑی طاقتوں کے تنازعات سے دور رکھنے اور داخلی سیاسی اختلافات کے حل پر مبنی ہو، بحرین کے لیے زیادہ مؤثر راستہ ہو سکتا ہے۔

اس صورت میں ’’کوه آتش‘‘ کے کردار کا خاتمہ صرف جنگ کا ایک فوجی نتیجہ نہیں ہوگا بلکہ بحرین کے سیاسی نظام کے سامنے نصف صدی سے زیرِ التوا ایک بنیادی سوال دوبارہ کھڑا کر سکتا ہے: کیا بحرین کی سلامتی بڑی طاقتوں کی فوجی موجودگی بڑھانے سے یقینی بنے گی یا ایسا ملک تشکیل دینے سے جو نہ دوسروں کی جنگ کا میدان بنے اور نہ اپنی سلامتی کے لیے بیرونی طاقت پر انحصار کرے؟

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha