اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی اخبار «الأخبار» نے اپنے تجزیاتی مضمون میں صحافی ابراہیم الامین کی تحریر کے ذریعے انصار اللہ یمن، حزب اللہ لبنان اور اسلامی جمہوریہ ایران کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا ہے اور گزشتہ دو دہائیوں کے دوران انصار اللہ کی سیاسی، فوجی اور انٹیلی جنس صلاحیتوں کے ارتقا کی تفصیلات بیان کی ہیں۔
ابراہیم الامین نے رپورٹ کے آغاز میں مزاحمتی محاذ کے متعدد کمانڈروں اور اہلکاروں کی شہادت کے باوجود مزاحمت کی سرگرمیوں کے جاری رہنے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا کہ انصار اللہ اور مزاحمت کے دیگر گروہوں کے درمیان تعلقات کئی برسوں کے تعاون اور باہمی تجربات کا نتیجہ ہیں۔
ان کے مطابق، ان تعلقات میں جنگ کی نوعیت کے حوالے سے مشترکہ فہم کے ساتھ ساتھ مزاحمتی محاذ میں شامل ہر قوت کے کردار، خصوصیات اور مقامی حالات کی واضح شناخت بھی موجود ہے۔
الامین نے انصار اللہ اور حزب اللہ کے تعلقات کو مزاحمتی قوتوں کے باہمی تعاون کی ایک نمایاں مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تعلقات ان دعوؤں سے مختلف ہیں جن کے ذریعے مخالفین مزاحمتی گروہوں کو ایران کی ’’تابع قوتیں‘‘ قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔
انصار اللہ کے آزادانہ فیصلوں پر زور
الامین نے حزب اللہ لبنان اور انصار اللہ یمن کی تشکیل کا ذکر کرتے ہوئے لکھا کہ ان دونوں تحریکوں کا وجود کسی انتظامی فیصلے یا سیاسی حکم کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ خطے کے عوام کے وسیع سماجی اور سیاسی مطالبات نے ان کے ظہور کی راہ ہموار کی۔
انہوں نے خطے میں امریکی اور صیہونی قبضے کے خلاف مزاحمتی تحریکوں کی حمایت کے لیے اسلامی انقلاب ایران کی جانب سے قائم کیے گئے معاونت کے مرکز کا بھی ذکر کیا، تاہم ساتھ ہی لکھا کہ مزاحمت کی ہر قوت نے اپنے سماجی، سیاسی اور تاریخی حالات کے مطابق اپنا مخصوص راستہ اختیار کیا۔
لبنانی تجزیہ کار کے مطابق بعض مغربی اور عرب حکومتیں ایران اور مزاحمتی تحریکوں کے تعلقات کو اس انداز میں پیش کرتی ہیں کہ گویا یہ تمام گروہ صرف ایران کی شاخیں ہیں، جبکہ ان تعلقات کو سمجھنے کے لیے ہر مزاحمتی قوت کی خودمختاری اور اس کے مقامی حالات کو مدنظر رکھنا ضروری ہے۔
شہید ہاشم صفی الدین کا اہم کردار
رپورٹ میں شہید ہاشم صفی الدین اور مزاحمت کے دیگر لبنانی کمانڈروں کے انصار اللہ کے ساتھ روابط مضبوط بنانے میں کردار کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
الامین کے مطابق شہید ہاشم صفی الدین نے گزشتہ برسوں کے دوران کئی مرتبہ یمن کا دورہ کیا اور انصار اللہ کی سیاسی، فوجی اور سکیورٹی قیادت کے ساتھ ملاقاتوں میں اس تحریک کی ضروریات اور صلاحیتوں کو سمجھنے میں کردار ادا کیا۔
رپورٹ میں مزاحمتی کمانڈروں کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ انصار اللہ کے ساتھ تعاون میں بنیادی اصول یمن کے داخلی حالات کا احترام اور اس ملک سے متعلق فیصلے یمنی قوتوں پر چھوڑنا تھا۔
اس کے مطابق مزاحمتی قوتوں کے درمیان تعاون حکم دینے یا احکامات وصول کرنے کے بجائے تجربات کی منتقلی، مشاورت اور معاونت کی بنیاد پر قائم رہا، جبکہ یمن کے داخلی اور میدانِ جنگ سے متعلق فیصلے یمنی قوتوں کے پاس رہے۔
باب المندب؛ یمن کی مزاحمت کا اہم موڑ
«الأخبار» نے باب المندب اور یمن کے مغربی ساحل سے متعلق پیش رفت کو انصار اللہ کی جدوجہد میں ایک اہم موڑ قرار دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق انصار اللہ نے گزشتہ برسوں کے دوران خطے کے حالات کا جائزہ لے کر مناسب وقت کا انتخاب کیا اور ایسے اقدامات کیے جن کے اثرات یمن کی سرحدوں سے باہر تک پہنچے۔
الامین نے زور دیا کہ باب المندب کی صورتحال کو صرف ایران اور امریکہ کے درمیان مقابلے کے تناظر میں نہیں دیکھا جاسکتا بلکہ اس کے یمن کی داخلی اور سکیورٹی صورتحال پر بھی براہ راست اثرات مرتب ہوئے ہیں۔
رپورٹ میں یمن کے حوالے سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی پالیسیوں پر بھی تنقید کی گئی اور دعویٰ کیا گیا کہ محاصرہ ختم کرنا اور یمن کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ کرنے کا اختیار اس کے عوام کو دینا خطے کی صورتحال تبدیل کرسکتا ہے۔
’’مدرسۂ مزاحمت‘‘؛ جنگی تجربے سے نئی صلاحیتوں تک
رپورٹ کے دوسرے حصے میں «الأخبار» نے انصار اللہ کی صلاحیتوں میں اضافے کے عمل کا جائزہ لیا ہے۔
اخبار کے مطابق مغربی ساحل اور باب المندب سے متعلق کارروائیوں کے لیے کئی ماہ تک منصوبہ بندی کی گئی۔ انصار اللہ نے تقریباً دو دہائیوں کے دوران مختلف جنگوں سے فوجی، سکیورٹی اور انٹیلی جنس تجربات حاصل کیے اور اپنی ضروریات کے مطابق مقامی صلاحیتیں پیدا کرنے کی کوشش کی۔
رپورٹ کے مطابق سعودی اور اماراتی حمایت یافتہ قوتوں کے ساتھ مختلف جنگوں اور وسیع پیمانے پر ہونے والی جھڑپوں کے بعد انصار اللہ نے اپنی فوجی کارکردگی کا جائزہ لیا اور اس نتیجے تک پہنچا کہ عملی صلاحیت بڑھانے کے لیے جنگی طریقہ کار، فوجی ڈھانچے اور مقامی وسائل کے استعمال میں تبدیلی ضروری ہے۔
مقامی صلاحیتوں اور دفاعی صنعت پر توجہ
الامین نے مقامی دفاعی صنعت کی ترقی کو انصار اللہ کی تبدیلی کے اہم ستونوں میں شمار کیا ہے۔
ان کے مطابق بیرونی معاونت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ انصار اللہ نے ماہر اور تعلیم یافتہ افراد کو اپنے ساتھ شامل کرکے مقامی صلاحیتوں کو فروغ دینے پر توجہ دی۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ علی عبداللہ صالح کے دور سے باقی رہ جانے والے بعض فوجی سازوسامان اور بنیادی ڈھانچے بھی انصار اللہ کے ہاتھ آئے، جنہیں جدید بنانے اور ان میں بہتری لانے کے ذریعے میزائل، ڈرون اور بحری سازوسامان سمیت مختلف شعبوں میں مقامی پیداوار کی صلاحیت بڑھانے کی کوشش کی گئی۔
اخبار کے مطابق تہران اور صنعا کے درمیان مختلف شعبوں میں فنی تعاون اور تجربات کی منتقلی بھی ہوئی، تاہم انصار اللہ کی فوجی صلاحیتوں میں ترقی صرف ہتھیار بنانے تک محدود نہیں رہی بلکہ مواصلات، نگرانی اور انٹیلی جنس کے شعبے بھی اس میں شامل رہے۔
انصار اللہ کے انٹیلی جنس نظام کی ترقی
«الأخبار» کی رپورٹ کا ایک اہم حصہ انصار اللہ کے انٹیلی جنس اور سکیورٹی ڈھانچے کی ترقی سے متعلق ہے۔
الامین نے 11 ستمبر کے واقعات کے بعد یمن کی سابق حکومت اور امریکہ کے درمیان ہونے والے انٹیلی جنس تعاون کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس دور کے بعض آلات اور انٹیلی جنس بنیادی ڈھانچے سابق صدر علی عبداللہ صالح کی حکومت کے خاتمے کے بعد انصار اللہ کے اختیار میں آئے۔
رپورٹ کے مطابق انصار اللہ نے بعد میں ان صلاحیتوں کی بحالی، دیکھ بھال اور ترقی کے لیے اقدامات کیے اور مختلف سطحوں پر مشتمل انٹیلی جنس ڈھانچہ قائم کیا۔
اخبار کے مطابق اس نظام کے ذریعے یمن کے مختلف علاقوں، حتیٰ کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے حامی عناصر کے زیر اثر علاقوں میں بھی حالات کی نگرانی کی گئی تاکہ ملک کے داخلی اور علاقائی حالات کی زیادہ جامع تصویر حاصل کی جاسکے۔
الامین کا دعویٰ ہے کہ انصار اللہ کا انٹیلی جنس نظام صرف یمن کے داخلی حالات تک محدود نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی معاملات پر بھی نظر رکھتا ہے اور اپنی معلومات و جائزے سیاسی اور فوجی قیادت تک پہنچاتا ہے۔
امریکہ کے ساتھ بحری محاذ آرائی کا تجربہ
رپورٹ میں امریکہ کے ساتھ انصار اللہ کی بحری محاذ آرائی کو اس تحریک کی انٹیلی جنس اور عملی صلاحیتوں کے اہم ترین امتحانات میں شمار کیا گیا ہے۔
«الأخبار» کے مطابق انصار اللہ نے امریکی بحریہ سے براہ راست مقابلے کے بجائے مخالف کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے، اپنی صلاحیتوں کو مخفی رکھنے، سازوسامان کی منتقلی اور اچانک کارروائی کی صلاحیت برقرار رکھنے پر توجہ دی۔
الامین نے دعویٰ کیا کہ اس حکمت عملی کے باعث بحیرہ احمر میں امریکی کارروائیوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور واشنگٹن کے لیے انصار اللہ کے ٹھکانوں اور صلاحیتوں کی درست نشاندہی ایک چیلنج بن گئی۔
رپورٹ میں انصار اللہ کی جانب سے بحری نقل و حرکت کی نگرانی کے لیے سیٹلائٹ صلاحیتوں اور غیرملکی ٹیکنالوجی کے استعمال سے متعلق دعووں کا بھی ذکر کیا گیا ہے، تاہم یہ دعوے مختلف ذرائع سے سامنے آئے ہیں اور ان کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
فضائی برتری اور جدید ٹیکنالوجی کا مقابلہ
رپورٹ کے اختتامی حصے میں انصار اللہ کی جانب سے فضائی اور انٹیلی جنس برتری رکھنے والے مخالفین کا مقابلہ کرنے کے لیے اختیار کی جانے والی حکمت عملی کا جائزہ لیا گیا ہے۔
«الأخبار» کے مطابق انصار اللہ نے جنگ کے دوران اپنے فوجی سازوسامان کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے، اسے چھپانے، پہاڑی علاقوں سے فائدہ اٹھانے اور زیر زمین تنصیبات قائم کرنے پر توجہ دی تاکہ اس کے فوجی ڈھانچے کی نشاندہی اور انہیں نشانہ بنانا مشکل ہو۔
اخبار نے یمن میں سرنگوں اور زیر زمین تنصیبات کے ایک وسیع نظام کا بھی ذکر کیا اور دعویٰ کیا کہ ان میں سے بعض بنیادی ڈھانچے علی عبداللہ صالح کے دور سے موجود تھے جنہیں بعد میں مزید وسعت دی گئی۔
«الأخبار» کی اس پوری رپورٹ میں یہ مؤقف پیش کیا گیا ہے کہ انصار اللہ کی موجودہ فوجی اور تزویراتی صلاحیتیں کسی ایک مرحلے یا بیرونی معاونت کا نتیجہ نہیں بلکہ تقریباً دو دہائیوں کے جنگی تجربے، مقامی صلاحیتوں کی تعمیر، تنظیمی ارتقا اور مزاحمتی تجربات کے تسلسل سے تشکیل پائی ہیں۔
آپ کا تبصرہ