اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایک امریکی تھنک ٹینک نے تقریباً دو دہائیوں کے دوران امریکہ میں ہزاروں مسلمانوں اور اسلامی تنظیموں سے متعلق معلومات ایک وسیع ڈیٹا بیس میں جمع کی ہیں، جس پر شہری حقوق کے کارکنوں نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان معلومات کو مسلمانوں کی نگرانی اور انہیں ہراساں کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
’ہف پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق، متنازع امریکی تھنک ٹینک ’مڈل ایسٹ فورم‘ نے تقریباً 20 برس کے دوران امریکی مسلم برادری سے وابستہ افراد اور تنظیموں کے بارے میں 40 لاکھ سے زائد معلومات جمع کی ہیں۔
اس ڈیٹا میں افراد کے نام، ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، ٹیکس سے متعلق معلومات کے علاوہ مساجد، مدارس، کاروباری اداروں اور دیگر تنظیموں کی تفصیلات بھی شامل ہیں۔
مسلمانوں اور ان کے حامیوں کی معلومات ایک ہی ڈیٹا بیس میں
ہف پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، اس ڈیٹا بیس میں صرف مسلمان اور اسلامی ادارے ہی شامل نہیں بلکہ ان افراد اور گروہوں کی معلومات بھی موجود ہیں جنہیں مسلم برادری کے اتحادیوں کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔
مڈل ایسٹ فورم نے اس آرکائیو کے وجود کی تصدیق اس وقت کی جب ہف پوسٹ نے اس ڈیٹا بیس کے بارے میں اس تھنک ٹینک سے رابطہ کیا اور بتایا کہ وہ اس حوالے سے ایک رپورٹ شائع کرنے والا ہے۔
اس تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ محققین، صحافی اور دیگر تحقیق کار اس معلومات تک رسائی کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
مڈل ایسٹ فورم کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر گریگ رومن نے کہا کہ تنظیم رواں سال کے آخر میں اس ڈیٹا بیس کے وجود کا اعلان کرنے کا ارادہ رکھتی تھی، تاہم انہوں نے اس معلومات کے پہلے ہی سامنے آنے کا خیر مقدم کیا۔
مڈل ایسٹ فورم 1994 میں قائم کیا گیا تھا۔ یہ ادارہ اپنے مقاصد میں مغربی اقدار کے دفاع اور اس کے بقول ’’قانونی اسلام پسندی‘‘ کے خطرات کو اجاگر کرنا قرار دیتا ہے۔
تاہم شہری حقوق کی تنظیموں نے اس تھنک ٹینک پر اسلام مخالف جذبات کو ہوا دینے اور مسلمانوں کے بارے میں گمراہ کن معلومات پھیلانے کے الزامات عائد کیے ہیں۔
تھنک ٹینک کا کہنا ہے کہ اس ڈیٹا بیس میں موجود معلومات عوامی ریکارڈ اور کھلے ذرائع سے جمع کی گئی ہیں، تاہم اس آرکائیو کا وسیع حجم شہری حقوق کے کارکنوں کے درمیان تشویش کا باعث بنا ہے۔
معلومات کو ’ٹارگٹ لسٹ‘ میں تبدیل کیے جانے کا خدشہ
جنوبی امریکہ کے ’سینٹر فار پاورٹی لا‘ سے وابستہ کالب کیفر نے اس آرکائیو کے وجود کو انتہائی تشویش ناک قرار دیا۔ انہوں نے امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف بیانیے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس ڈیٹا بیس کے حجم کے بارے میں خبردار کیا۔
اسی طرح جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے ’برج انیشی ایٹو‘ سے وابستہ موباشرا تزامل نے اس ڈیٹا بیس کو ممکنہ طور پر ایک ’ٹارگٹ لسٹ‘ قرار دیا اور خبردار کیا کہ ایسی معلومات مسلمانوں اور اسلامی تنظیموں کی نگرانی یا انہیں خوف زدہ کرنے کے لیے استعمال کی جا سکتی ہیں۔
اس ڈیٹا بیس کے وجود کا انکشاف ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ میں مسلمانوں کے درمیان اسلام مخالف رجحانات کے حوالے سے تشویش بڑھ رہی ہے۔ اسی دوران ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی پالیسیاں، فلسطین کے حامی مظاہرین کے خلاف کارروائیاں اور بعض ریپبلکن قانون سازوں کے بیانات نے امریکی مسلم برادری سے متعلق سیاسی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
مڈل ایسٹ فورم نے اپنے اقدام کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی سول سوسائٹی کی تنظیموں کے درمیان نظریاتی روابط اور نیٹ ورکس کی نشاندہی ایک عام عمل ہے اور دیگر گروہوں کے پاس بھی اسی نوعیت کے ڈیٹا بیس موجود ہیں۔
تاہم شہری حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ مسلمانوں اور ان سے وابستہ تنظیموں کے بارے میں اتنی بڑی تعداد میں معلومات جمع کرنا، خصوصاً امریکہ میں بڑھتے ہوئے اسلام مخالف رجحانات کے موجودہ ماحول میں، ان معلومات کے ممکنہ استعمال کے حوالے سے سنگین خدشات پیدا کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ