13 ستمبر 2026 - 16:11
آیت اللہ سیستانی کے نمائندے کا کربلا میں صحن حضرت زینبؑ کے توسیعی منصوبے کا دورہ

آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے کربلا میں حرم امام حسینؑ کے توسیعی منصوبے صحن حضرت زینبؑ کا دورہ کیا اور زائرین کے لیے نئے زیارتی مقامات کی تیاری اور تعمیراتی کاموں کی تازہ صورت حال کا جائزہ لیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حرم امام حسینؑ کی توسیع کے اہم منصوبوں میں شامل صحن حضرت زینبؑ، جس کی تکمیل ایرانی ماہرین، کاریگروں اور فنکاروں کی خدمات کے ساتھ عوامی نذورات اور تعاون سے جاری ہے، میں آیت اللہ العظمیٰ سید علی سیستانی کے نمائندے شیخ عبدالمہدی کربلائی نے جاری تعمیراتی کاموں کا معائنہ کیا۔

شیخ عبدالمہدی کربلائی نے منصوبے کے تازہ مراحل کا جائزہ لیتے ہوئے حرم سیدالشہداء امام حسینؑ میں نئے زیارتی مقامات کی تیاری کے عمل کے بارے میں بریفنگ حاصل کی۔

حرم امام حسینؑ کی توسیع کے پہلے مرحلے کو صحن حضرت زینبؑ کے نام سے تعمیر کیا جا رہا ہے۔ یہ منصوبہ کربلا میں باب القبلة، شہداء اور جمہوریہ سڑکوں کے درمیان واقع ہے اور اس میں زیارتی اور غیر زیارتی دونوں حصے شامل ہیں۔ اس منصوبے کا مقصد زائرین کے لیے زیارتی جگہ میں اضافہ اور بہتر سہولیات فراہم کرنا ہے۔ منصوبے کے مختلف حصوں میں ایرانی اسلامی طرز تعمیر اور واقعۂ عاشورا سے متعلق روحانی مفاہیم کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔

صحن حضرت زینبؑ کے پہلے مرحلے کے زیارتی حصے میں حضرت علی اکبرؑ، امام حسینؑ، باب القبلة اور عقیلہ کے نام سے چار شبستان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اندرونی اور بیرونی حصوں میں زائرین کی آمد و رفت کو آسان اور منظم بنانے کے لیے تقریباً 250 رواق بھی تعمیر کیے جا رہے ہیں۔

منصوبے کی تعمیر اس انداز سے کی گئی ہے کہ نئی عمارت کی بلندی موجودہ حرم مطہر سے زیادہ نہ ہو۔ اسی وجہ سے چار شبستانوں میں سے حضرت علی اکبرؑ کا شبستان زیریں منزل پر جبکہ دیگر تین شبستان زیرِ زمین تعمیر کیے گئے ہیں۔

حضرت علی اکبرؑ کا شبستان خیمہ گاہ حسینی کے سامنے تقریباً 2 ہزار 800 مربع میٹر رقبے پر قائم کیا جا رہا ہے۔ عقیلہ شبستان تقریباً 2 ہزار مربع میٹر رقبے کے ساتھ مقام حضرت زینبؑ کی عمارت کے شمال میں، امام حسینؑ کا شبستان تقریباً 4 ہزار 800 مربع میٹر رقبے کے ساتھ مقام حضرت زینبؑ کے جنوب میں، جبکہ باب القبلة شبستان تقریباً 2 ہزار 500 مربع میٹر رقبے کے ساتھ حرم مطہر کے باب القبلة کے جنوب میں زیرِ زمین تعمیر کیا جا رہا ہے۔

اس منصوبے میں تعمیراتی تقاضوں اور روحانی پہلوؤں کو یکجا کیا گیا ہے تاکہ زائرین کی رفاہی اور خدماتی ضروریات پوری

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha